SHAWORDS
Khurshid Talab

Khurshid Talab

Khurshid Talab

Khurshid Talab

poet
21Sher
21Shayari
22Ghazal

Sherشعر

See all 21

Popular Sher & Shayari

42 total

Ghazalغزل

See all 22
غزل · Ghazal

jis ko dekho vahi paikaar mein uljhaa huaa hai

جس کو دیکھو وہی پیکار میں الجھا ہوا ہے ہر گریبان کسی تار میں الجھا ہوا ہے دشت بے چین ہے وحشت کی پذیرائی کو دل وحشی در و دیوار میں الجھا ہوا ہے جنگ دستک لیے آ پہنچی ہے دروازے تک شاہزادہ لب و رخسار میں الجھا ہوا ہے اک حکایت لب اظہار پہ ہے سوختہ جاں ایک قصہ ابھی کردار میں الجھا ہوا ہے سر کی قیمت مجھے معلوم نہیں ہے لیکن آسماں تک مری دستار میں الجھا ہوا ہے آئیے بیچ کی دیوار گرا دیتے ہیں کب سے اک مسئلہ بے کار میں الجھا ہوا ہے

غزل · Ghazal

baDaa ajiib thaa us kaa vidaaa honaa bhi

بڑا عجیب تھا اس کا وداع ہونا بھی نہ ہو سکا مرا اس سے لپٹ کے رونا بھی فصیلیں چھونے لگی ہیں اب آسمانوں کو عجب ہے ایک دریچے کا بند ہونا بھی نہ کوئی خواب ہے آنکھوں میں اب نہ بیداری ترے سبب تھا مرا جاگنا بھی سونا بھی ترے فقیر کو اتنی سی جا بھی کافی ہے جو تیرے دل میں نکل آئے ایک کونا بھی یہ کم نہیں جو میسر ہے زندگی سے مجھے کبھی کبھار کا ہنسنا اداس ہونا بھی ترا گزارنا ہموار راستوں سے ہمیں ہمارے پاؤں میں کانٹے کبھی چبھونا بھی چلا گیا کوئی آنکھوں میں گرد اڑاتا ہوا نہ کام آیا کوئی ٹوٹکا نہ ٹونا بھی طلبؔ بڑی ہی اذیت کا کام ہوتا ہے بکھرتے ٹوٹتے رشتوں کا بوجھ ڈھونا بھی

غزل · Ghazal

tamaasha rahguzar-dar-rahguzar afsos kaa hai

تماشہ رہ گزر در رہ گزر افسوس کا ہے بھلے ہی خوش ہیں سب لیکن سفر افسوس کا ہے بہشتی باغ کی سب تتلیاں ہیں پر بریدہ شکستہ رنگ تا حد نظر افسوس کا ہے ابھی اترا رہے ہیں ساکنان قصر شاہی ابھی آنکھوں سے ان کے محو گھر افسوس کا ہے حویلی اب کہاں جو قہقہوں سے گونجتی تھی جہاں تک دیکھتا ہوں میں کھنڈر افسوس کا ہے کہاں ممکن ترے عشرت کدے میں شام کاٹیں ابھی تو سامنا ہر گام پر افسوس کا ہے عزیزو آؤ اب اک الوداعی جشن کر لیں کہ اس کے بعد اک لمبا سفر افسوس کا ہے

غزل · Ghazal

na shahr mein na kisi dasht-e-hu mein khaak hue

نہ شہر میں نہ کسی دشت ہو میں خاک ہوئے ہمارے خواب ہمارے لہو میں خاک ہوئے کسی کے ہاتھ لگا کب وہ ماہتاب بدن کئی جیالے وہیں جستجو میں خاک ہوئے دھواں سا اٹھتا ہے دل سے جو سوچتا ہوں کبھی وہ کون تھے جو مری آرزو میں خاک ہوئے تھے کتنے گیت جو آواز کو ترستے رہے ہزار راگ رگ خوش گلو میں خاک ہوئے اب اس سے اچھا بھلا اختتام کیا ہوتا اٹھے تھے میں سے مگر جا کے تو میں خاک ہوئے

غزل · Ghazal

lagtaa hai pech-o-taab ke aage kuchh aur hai

لگتا ہے پیچ و تاب کے آگے کچھ اور ہے اس شور انقلاب کے آگے کچھ اور ہے بے شک مرے سوال کے پیچھے ہے اور بات کیا تیرے اس جواب کے آگے کچھ اور ہے ہر چند میری آنکھوں نے دیکھا نہیں ہنوز لیکن طلسم خواب کے آگے کچھ اور ہے جو تجھ سے خوش جمال ہے اور دل فریب بھی دنیا ترے شباب کے آگے کچھ اور ہے اڑتا ہوا عقاب تو آنکھوں میں قید ہے اب دیکھیے عقاب کے آگے کچھ اور ہے ہاں جس سے اس زمیں کا توازن ہے برقرار دن رات کے عذاب کے آگے کچھ اور ہے پردہ پڑا ہوا ہے مری آنکھ پر طلب یا برق و آفتاب کے آگے کچھ اور ہے

غزل · Ghazal

qusur-vaar jo tum ho khataa hamaari bhi hai

قصوروار جو تم ہو خطا ہماری بھی ہے دیے بجھانے میں شامل ہوا ہماری بھی ہے بہت عزیز ہمیں تیری دوستی ہے مگر اگر غرور ہے تجھ میں انا ہماری بھی ہے ہمیں بھی زیب سماعت کبھی بنایا جائے دبی دبی ہی سہی اک صدا ہماری بھی ہے کسی نے دل پہ مرے ہاتھ رکھ کے پوچھا تھا تری بہشت میں کیا کوئی جا ہماری بھی ہے ہم اس زمین سے کس طرح دست کش ہو جائیں اسی زمین کے اندر غذا ہماری بھی ہے ہر ایک آنکھ میں خود کو تلاش کرتے ہیں ابھی شناخت طلبؔ گم شدہ ہماری بھی ہے

Similar Poets