"saare jazbon ke bandh TuuT ga.e us ne bas ye kaha ijazat hai"

Khwaja Sajid
Khwaja Sajid
Khwaja Sajid
Sherشعر
saare jazbon ke bandh TuuT ga.e
سارے جذبوں کے باندھ ٹوٹ گئے اس نے بس یہ کہا اجازت ہے
kal siyasat men bhi mohabbat thi
کل سیاست میں بھی محبت تھی اب محبت میں بھی سیاست ہے
kaun kitna zabt kar sakta hai karb-e-hijr ko
کون کتنا ضبط کر سکتہ ہے کرب ہجر کو ریل جب چلنے لگے گی فیصلہ ہو جائے گا
Popular Sher & Shayari
6 total"kal siyasat men bhi mohabbat thi ab mohabbat men bhi siyasat hai"
"kaun kitna zabt kar sakta hai karb-e-hijr ko rail jab chalne lagegi faisla ho ja.ega"
saare jazbon ke baandh TuuT gae
us ne bas ye kahaa ijaazat hai
kaun kitnaa zabt kar sakta hai karb-e-hijr ko
rail jab chalne lagegi faisla ho jaaegaa
kal siyaasat mein bhi mohabbat thi
ab mohabbat mein bhi siyaasat hai
Ghazalغزل
kuchh sahmi sharmaai khushbu
کچھ سہمی شرمائی خوشبو رات گئے گھر آئی خوشبو آنکھ کے روشن دان سے اتری دل میں ایک پرائی خوشبو آزادی کا ہاتھ پکڑ کر بازاروں میں آئی خوشبو تیز بہت بازار تھا اب کے میرے ہاتھ نہ آئی خوشبو تھک کر باسی ہو جانے سے پہلے گھر لوٹ آئی خوشبو رات کے سناٹوں میں بولے خاموشی تنہائی خوشبو
us kaa lahja ukhaDtaa jaataa hai
اس کا لہجہ اکھڑتا جاتا ہے پھر بچھڑنے کا وقت آتا ہے اس کا انداز گفتگو اکثر میرے لہجے میں جگمگاتا ہے اس کی سانسیں جب آگ دیتی ہیں میرا چہرہ بھی تمتماتا ہے پیاس جب ایڑیاں رگڑتی ہے چشمۂ آب پھوٹ جاتا ہے جب بھی آتا ہے پھول کاجل کے میرے کاندھے پہ ٹانک جاتا ہے میں چکوروں کا ہم نوا ہوں مجھے تو شب ہجر سے ڈراتا ہے دیر تک میں بھی میں نہیں رہتا جب وہ میرے قریب آتا ہے
amn ki pothi juzdaanon mein haathon mein hathiyaar
امن کی پوتھی جزدانوں میں ہاتھوں میں ہتھیار گاندھی کے اس دیس میں سستا خون ہے مہنگا پیار پورے چاند سے ویاکل سجنی جاگے ساری رات اس برکھا مت جئی ہو ساجن سات سمندر پار سانس کی بولی دل کی زباں اور آنکھوں کی گفتار جو ان کو نہ بوجھ سکے وہ کیا سمجھے گا پیار قد کی ہمارے پیمائش کیا بدل گئے میزان ملنے لگے ہیں بازاروں میں عہدے اور دستار بغض عداوت دھوکے بازی نفرت کا بازار لوگ عجائب گھر میں رکھ آئے ہیں سچا پیار لب رخسار نگاہیں تیور ہوں جن کے ہتھیار ان کو کب درکار ہے خنجر نیزے اور تلوار
zulmaton mein jiite hain, raushni ke maare hain
ظلمتوں میں جیتے ہیں، روشنی کے مارے ہیں ایک ہی قبیلے کے چاند اور ستارے ہیں رتجگوں کے ساتھی ہیں، اشک، آہٹیں، خوشبو بس یہیں کہیں تو ہے یا بھرم ہمارے ہیں آج تک تو رسماً بھی تو نے یہ نہیں پوچھا ہم نے تیری فرقت میں کیسے دن گزارے ہیں اس نے میرے پہلو میں جھانک کر نہیں دیکھا چوٹ کتنی گہری ہے زخم کتنے سارے ہیں ٹہنیوں کی زینت تھے سولیوں پہ لٹکے ہیں خشک زرد پتے جو موسموں کے مارے ہیں ہم نے اپنے پرکھوں کے احترام کی خاطر فرض بھی نبھایا ہے، قرض بھی اتارے ہیں میں تو اک مسافر ہوں میرا کام ہے چلنا منزلیں تمہاری ہیں راستے تمہارے ہیں دل سے طے تو ہو جائے ساتھ کس کے جانا ہے راستے نکلنے کو یوں تو ڈھیر سارے ہیں ہم نے کل زمانے کو روشنی دکھائی ہے آج ہم زمانے کی روشنی کے مارے ہیں
koi shisha na dar salaamat hai
کوئی شیشہ نہ در سلامت ہے گھر مرا دشت کی امانت ہے سارے جذبوں کے باندھ ٹوٹ گئے اس نے بس یہ کہا اجازت ہے جان کر فاصلے سے ملنا بھی آشنائی کی اک علامت ہے اس سے ہر رسم و راہ توڑ تو دی دل کو لیکن بہت ندامت ہے روبرو اس کے ایک شب جو ہوئے ہم نے جانا کہ کیا عنایت ہے دو قدم ساتھ چل کے جان لیا کیا سفر اور کیا مسافت ہے کل سیاست میں بھی محبت تھی اب محبت میں بھی سیاست ہے رات پلکوں پہ دل دھڑکتا تھا تیرا وعدہ بھی کیا قیامت ہے
raat be-khvaabiyon kaa safar tere bin
رات بے خوابیوں کا سفر تیرے بن دن ہے بے چینیوں کا نگر تیرے بن قربتیں فاصلوں میں بدلتی رہیں بد گمانی ہر اک موڑ پر تیرے بن چاندنی میں سحر، حسن، ٹھنڈک نہ نور عیب تھا اس کا ہر اک ہنر تیرے بن خواب خانہ بدوشوں سے پھرتے رہے نیند بھی ہو گئی در بہ در تیرے بن میرے بالوں میں چاندی پروتے رہے تیز رفتار شام و سحر تیرے بن پھر ترے لوٹنے کی خبر آئی تھی ہم نہیں تھے کبھی بے خبر تیرے بن آنکھیں جلتی ہیں میری دیوں کی جگہ شام سے گھر کی دہلیز پر تیرے بن اب نہ ساون، نہ جھولے، نہ سکھیاں، نہ گیت جیسے خاموش سارا نگر تیرے بن چاندنی ڈھونڈھتی تھی ترے نقش پا رات، تاروں کی دہلیز پر تیرے بن





