main vahm huun ki haqiqat ye haal dekhne ko
giraft hotaa huun apnaa visaal dekhne ko

Krishna Kumar Toor
Krishna Kumar Toor
Krishna Kumar Toor
Popular Shayari
20 totalsafar na ho to ye lutf-e-safar hai be-maani
badan na ho to bhalaa kyaa qabaa mein rakkhaa hai
us ko khonaa asl mein us ko paanaa hai
haasil kaa hi partav hai laa-haasil mein
bahut kahaa thaa ki tum akele na rah sakoge
bahut kahaa thaa ki ham ko yuun dar-ba-dar na karnaa
band paDe hain shahar ke saare darvaaze
ye kaisaa aaseb ab ghar ghar lagtaa hai
kab tak tu aasmaan mein chhup ke baiThegaa
maang rahaa huun main kab se duaa baahar aa
un se kyaa rishta thaa vo kyaa mere lagte the
girne lage jab peD se patte to main royaa bahut
kyuun mujhe mahsus ye hotaa hai aksar raat bhar
sina-e-shab par chamaktaa hai samundar raat bhar
ek diyaa dahliz pe rakkhaa bhuul gayaa
ghar ko lauT ke aane vaalaa bhuul gayaa
main kis se kartaa yahaan guftugu koi bhi na thaa
nahin thaa mere muqaabil jo tu koi bhi na thaa
yahaan kisi ko kisi ki khabar nahin darkaar
ajab tarah kaa ye saaraa jahaan ho gayaa hai
ik aag si ab lagi hui hai
paani mein asar kahaan se aayaa
Ghazalغزل
ایک دیا دہلیز پہ رکھا بھول گیا گھر کو لوٹ کے آنے والا بھول گیا یہ کیسی بے آب زمیں کا سامنا تھا خود کو قطرہ قطرے کو دریا بھول گیا میں تو تھا موجود کتاب کے لفظوں میں وہ ہی شاید مجھ کو پڑھنا بھول گیا کس کے جسم کی بارش نے سیراب کیا کیوں اڑنا موسم کا پرندہ بھول گیا آخر یہ ہونا تھا آخر یہی ہوا دنیا مجھ کو اور میں دنیا بھول گیا میں بھی ہوں منسوب کسی کے قتل سے اب سورج میری چھت پہ چمکنا بھول گیا وفا کا کھوٹا سکہ کب تک چلتا طورؔ اچھا ہوا جو اپنا پرایا بھول گیا
ek diyaa dahliz pe rakkhaa bhuul gayaa
تھیں سبھی محرابیں روشن بام و در آباد تھے اک زمانہ تھا کہ جب یہ سارے گھر آباد تھے خاک سی اڑتی نظر آتی ہے اب ہر اک طرف وہ بھی دن تھے جب محبت کے نگر آباد تھے کیا دلوں کی صورت حالات تم سے ہم کہیں یہ مکاں برباد ہیں اب جس قدر آباد تھے ریت اڑتی ہے اب آنکھوں میں مگر اک وقت تھا وصل کی دنیا کے جتنے تھے سفر آباد تھے وہ بھی موسم تھا محبت کا بہت جاں آفریں جب ہمارے دل یہاں شام و سحر آباد تھے ورنہ کیوں مظہر میں آتا واقعہ معراج کا آسمانوں سے ادھر شاید بشر آباد تھے ایک یہ دن ہیں فلک آثار ہے طورؔ اب زمیں ایک وہ دن تھے کہ یہ شمس و قمر آباد تھے
thiin sabhi mehraabein raushan baam-o-dar aabaad the
اک اعتماد عجب سا یقیں پہ رکھتا ہوں وہ کیا ہے میں جسے اپنی جبیں پہ رکھتا ہوں یہی تو بات ہوئی جا رہی ہے میرے خلاف کہیں پہ ملتی ہے اک شے کہیں پہ رکھتا ہوں جو چیز دیکھنے کی ہے وہ بار بار رہے میں اس طرح کا تماشہ زمیں پہ رکھتا ہوں غبار ہوتی ہوئی جا رہی ہے یہ دنیا ہے ہاں کا شائبہ جس کو نہیں پہ رکھتا ہوں کسے خبر ہے یہ کس وقت کام آ جائے ہے خاک خاک جسے آستیں پہ رکھتا ہوں ہوا ہو یا کہ نہ ہو طورؔ میں چراغ عشق ہوں چاہتا جہاں رکھنا وہیں پہ رکھتا ہوں
ik e'timaad ajab saa yaqin pe rakhtaa huun
یہ در یہ طاق یہ چوکھٹ یہ گھر ملال کا ہے سفر میں جتنا ہے زاد سفر ملال کا ہے میں کیسی ساعت بد بخت میں مقید ہوں دعا خوشی کی ہے ظاہر اثر ملال کا ہے رکی ہوئی ہے حیات اک عجب دوراہے پر ادھر ہنسی کا اجارہ ادھر ملال کا ہے سجائے رکھا ہے ہم کو انا کی سولی پر کوئی اگر ہے تو بس یہ ہنر ملال کا ہے سنبھال رکھا ہے اب جس قدر ہے سرمایہ زیادہ کچھ نہیں بس ایک گھر ملال کا ہے رواں ہوں میں اسی جانب جدھر ہے وہ بستی مرے لئے تو یہ سارا سفر ملال کا ہے لگائے رکھیں گے سینے سے اس کو ہم اے طورؔ حیات میں کوئی ٹکڑا اگر ملال کا ہے
ye dar ye taaq ye chaukhaT ye ghar malaal kaa hai
موجود جو تھا معدوم سمجھ میں آیا اک الٹا ہی مفہوم سمجھ میں آیا میں جب پیڑ سے گر کے زمیں کی خاک ہوا تب اک عالم موہوم سمجھ میں آیا میں ہی میں ہوں آنکھ اٹھتی ہے جدھر بھی اب نا معلوم بھی معلوم سمجھ میں آیا الٹے منتر ہی شاید میں پڑھتا ہوں جو ظاہر تھا معدوم سمجھ میں آیا زیست کو میں اک آب رواں کہتا ہوں طورؔ کیا تم کو یہ مفہوم سمجھ میں آیا
maujud jo thaa maa'dum samajh mein aayaa
میں آسمان میں پہلا ستارہ دیکھتے ہی ہوں اپنے آپ سے خارج خسارہ دیکھتے ہی تھا رونقوں میں گھرا جب تھا بیچ دریا کے اب آب دیدہ ہوں خالی کنارہ دیکھتے ہی نشاط جذب سے میں اپنے ہوش کھو بیٹھا جنوں کا سر میں بہت آشکارہ دیکھتے ہی ہے کیسا درد جو دل کے ہوا ہے دامن گیر نظر پہ بار ہوں رنگ نظارہ دیکھتے ہی ابھی میں سحر کی پہلی نظر سے نکلا نہ تھا تماشہ بن گیا اس کو دوبارہ دیکھتے ہی بس اب یہ ہوگا کہ تم پر ہی آنچ آئے گی طورؔ بھڑک اٹھا ہے وہ دل کا شمارہ دیکھتے ہی
main aasmaan mein pahlaa sitaara dekhte hi





