SHAWORDS
L

Laeeq Akbar Sahaab

Laeeq Akbar Sahaab

Laeeq Akbar Sahaab

poet
2Sher
2Shayari
16Ghazal

Sherشعر

Popular Sher & Shayari

4 total

Ghazalغزل

See all 16
غزل · Ghazal

miThe do lafzon ko ham pyaar samajh lete hain

میٹھے دو لفظوں کو ہم پیار سمجھ لیتے ہیں عشق میں خود کو گرفتار سمجھ لیتے ہیں طائر عشق اسیری کو سمجھتے ہیں بہار قفس عشق کو گلزار سمجھ لیتے ہیں قصۂ عشق کے آغاز سے پہلے جاناں آؤ اک دوجے کے کردار سمجھ لیتے ہیں ہیر رانجھے کی طرح ہم بھی نہ دھوکا کھائیں کون ہے سچا طرفدار سمجھ لیتے ہیں شیریں فرہاد سا انجام نہ ہونے پائے توڑنا کیسے ہے کہسار سمجھ لیتے ہیں بیچ دریا میں نہیں کچے گھڑے پر مرنا کیسے لگنا ہے ہمیں پار سمجھ لیتے ہیں سنگ باری کی سزا لیلیٰ و مجنوں نے سہی ہم نہ ٹھہریں گے سزا وار سمجھ لیتے ہیں عشق پاکیزہ کو رکھنا ہے بچا کر ان سے وہ جو یوسف کو گنہ گار سمجھ لیتے ہیں خود غرض لوگ جہاں عشق سے اکتا جائیں عشق کو جان کا آزار سمجھ لیتے ہیں رفعت فن انہیں قدموں میں پڑی ملتی ہے اپنا کردار جو فنکار سمجھ لیتے ہیں حسن کی دیوی کا بے وجہ مہرباں ہونا کسی سادھو کا چمتکار سمجھ لیتے ہیں شاعری میری کہاں ان کو سمجھ آئے گی یہ بھلا کم ہے کہ اخبار سمجھ لیتے ہیں داد دیتے ہیں وہی کھل کے سخنور کو سحابؔ جو سخن فہمی سے اشعار سمجھ لیتے ہیں

غزل · Ghazal

daaman-e-dil ke rafu kaa jab hunar bhi aaegaa

دامن دل کے رفو کا جب ہنر بھی آئے گا زیست کی مشکل ڈگر سے تو گزر بھی آئے گا ابن آدم مت سمجھ آسان جنت کا سفر دیکھنا رستے میں ممنوعہ شجر بھی آئے گا تو مقدر کے لکھے پر دل سے راضی ہوگا جب تب تبسم تیرے ہونٹوں پر نظر بھی آئے گا بھول کر سب کچھ چلے ہو دیس سے پردیس کو رفتہ رفتہ یاد اپنا پیارا گھر بھی آئے گا اپنوں کی یادیں لئے نکلے گا ہر دن آفتاب ہجر کے سائے لئے شب میں قمر بھی آئے گا بیٹھے بیٹھے اپنے گھر کے بام و در چوم آؤ گے یاد آنگن میں لگا بوڑھا شجر بھی آئے گا ساتھ رہ کر ہی کھلیں گی خامیاں اور خوبیاں جو رہا نظروں سے اوجھل وہ نظر بھی آئے گا شعروں میں شامل کرو خون جگر بھی کچھ سحابؔ تب کہیں جا کر غزل میں کچھ اثر بھی آئے گا

غزل · Ghazal

ghar pe bharti jab hasin ik naukraani ho gai

گھر پہ بھرتی جب حسیں اک نوکرانی ہو گئی گھر کے مالک پر پھر اس کی حکمرانی ہو گئی سوکھ کر کانٹا ہوا بیگم کی میں کھا کھا کے مار تنگ شادی کی کھلی اب شیروانی ہو گئی اس کے کپڑوں سے بنا سکتا ہوں میں تنبو قنات پھول کر کپا مری موٹی زنانی ہو گئی سوچتا ہوں دوسری کا پوچھ لوں بیگم سے میں پہلے والی شیروانی اب پرانی ہو گئی پھر نہیں رکتی جو پٹری سے اتر جائے کبھی اب زباں کی ریل کی دگنی روانی ہو گئی تاک کر بیگم نے ماری ٹانکے آئے سر پہ چار اس کو غم ہے چار ٹکڑے چائے دانی ہو گئی

غزل · Ghazal

jab judaa ham tum hue the mausam-e-dil zard thaa

جب جدا ہم تم ہوئے تھے موسم دل زرد تھا آنکھوں میں تھی غم کی رم جھم جاں کا سورج سرد تھا کچھ برس پہلے تلک یاں ہر کوئی ہمدرد تھا ایک دوجے کے لئے سب کے دلوں میں درد تھا جب بساط زندگی پر وقت نے بازی چلی مات اس نے دی مجھے جو میرے گھر کا فرد تھا شہر جاں کے بام و در اک شخص الٹ کر چل دیا ہو نہ ہو وہ دشمن جاں کوئی دہشت گرد تھا خاک و خوں میں ڈوب کر اپنا وطن حاصل ہوا آبلہ پا تھے مگر پر عزم ہر اک فرد تھا چاہ بیٹھا تھا جسے میں جان کر اک آئنہ ہائے صد افسوس کہ وہ آئنے کی گرد تھا عکس ہرجائی مٹا آئینۂ دل سے سحابؔ وے ستم گر بے مروت بے وفا بے درد تھا

غزل · Ghazal

dekhaa use, qamar mujhe achchhaa nahin lagaa

دیکھا اسے، قمر مجھے اچھا نہیں لگا چھو کر اسے، گہر مجھے اچھا نہیں لگا چاہا اسے تو یوں کہ نہ چاہا کسی کو پھر کوئی بھی عمر بھر مجھے اچھا نہیں لگا آئینہ دل کا توڑ کے کہتا ہے سنگ زن دل تیرا توڑ کر مجھے اچھا نہیں لگا دل سے مرے یہ کہہ کے ستم گر نکل گیا دل ہے ترا کھنڈر مجھے اچھا نہیں لگا اگلا سفر ہو میرے خدا راحتوں بھرا جیون کا یہ سفر مجھے اچھا نہیں لگا دیکھا جو اس کے در پہ رقیبوں کا اک ہجوم پھر اس کے گھر کا در مجھے اچھا نہیں لگا تجدید رسم و راہ پہ وہ تو رہا مصر وہ بے وفا مگر مجھے اچھا نہیں لگا اس کا ہی ذکر بس تمہیں اچھا لگے سحابؔ کہتے ہو تم مگر مجھے اچھا نہیں لگا

غزل · Ghazal

jab talak saanson ko bu-e-dilrubaa milti rahi

جب تلک سانسوں کو بوئے دل ربا ملتی رہی چارہ گر سے قلب مضطر کو دوا ملتی رہی جس کسی سے بھی وفا کی بس جفا ملتی رہی عمر بھر جرم محبت کی سزا ملتی رہی ہم گزرتے ہیں وہاں سے تھام کر قلب و جگر جس گلی جس موڑ پر وہ مہ لقا ملتی رہی کتنے ناداں تھے کہ اس کی جستجو کرتے رہے جانے کس کس آشنا سے بے وفا ملتی رہی زندگی بھر ہر خوشی بس بوند بھر ملتی رہی ہر گھڑی رنج و الم بن کر قضا ملتی رہی ہم تڑپتے ہی رہے جس کی جھلک کے واسطے وہ عدو سے کھول کے بند قبا ملتی رہی عید کے دن بھی گلے ملتا نہیں دلبر سحابؔ بانہوں میں بھر بھر مجھے خلق خدا ملتی رہی

Similar Poets