SHAWORDS
Maham Khan

Maham Khan

Maham Khan

Maham Khan

poet
2Shayari
9Ghazal

Popular Shayari

2 total

Ghazalغزل

See all 9
غزل · Ghazal

نظر تم پر پڑے تو مسکرانا بھول جاتے ہیں ہم اپنی داستان غم سنانا بھول جاتے ہیں ہمیشہ سوچتے ہیں ہم اسے کھونا نہیں مشکل ہم اپنی قوت دل آزمانا بھول جاتے ہیں جہاں ساقی کا لمحے بھر کو بھی دیدار ہو جائے جنون تشنگی کا وہ زمانہ بھول جاتے ہیں یہ زنجیریں یہ پابندی نہیں کچھ فائدہ دیتیں پرندے قید ہوں تو چہچہانا بھول جاتے ہیں ابھرتے چاند کا منظر یا جلوے ہوں بہاروں کے ترے آگے سب اپنا قہر ڈھانا بھول جاتے ہیں غم بربادیٔ گلشن سے گل بھی اس قدر سہمے دکھی چہرے پہ اک مسکاں سجانا بھول جاتے ہیں بلندی سے گرانے کے لیے کوشاں ہیں جو ماہمؔ فلک تیرا ازل سے آشیانہ بھول جاتے ہیں

nazar tum par paDe to muskuraanaa bhuul jaate hain

غزل · Ghazal

ہمیں تجھ سے نہیں اے زندگی کرنا گلہ کوئی نہیں دینا تھا تو نے گر جو کرتے بھی صلہ کوئی توقع اب کے انسانوں سے رکھنا بھی ہے نادانی کہ پتھر سے کسی کو ہے کبھی گوہر ملا کوئی ہمیشہ ناتواں مظلوم کا ہی دل ہے کیوں ٹوٹا کبھی تو ظالم و جابر کا بھی دے دل ہلا کوئی وہاں بھی روگ ہیں ہے بے رخی بے اعتنائی ہے یہاں شدت سے مرگ ہجر میں ہے مبتلا کوئی

hamein tujh se nahin ai zindagi karnaa gila koi

غزل · Ghazal

یہ جو صورت پہ تری غم سا ہے ٹھہرا ماہمؔ ایسا ہوتا ہے بھلا چاند کا چہرہ ماہمؔ ہم تو سمجھے تھے سحر اب تو ہوئی جاتی ہے رات کا رنگ مگر اب بھی ہے گہرا ماہمؔ لوگ راتوں میں بھی پھرتے ہیں جو بے خوفی سے تیرے ہی سر پہ تو جاتا ہے یہ سہرا ماہمؔ کبھی تاریکیوں میں یہ بھی ہے سوچا تم نے کب تلک دے گا یوںہی رات کا پہرا ماہمؔ

ye jo surat pe tiri gham saa hai Thahraa 'maaham'

غزل · Ghazal

برف لہجوں کی پگھل جائے تو کچھ بات کریں جلتی رسی سے یہ بل جائے تو کچھ بات کریں وقت رخصت یہ سنا میں نے انہی یاروں سے یہ ذرا دور نکل جائے تو کچھ بات کریں اچھے موسم تری یادیں نئی موسیقی سے دل کسی طور بہل جائے تو کچھ بات کریں آخری بار جو ملنے کو گئے ہم تو کہا یہ ذرا چائے ابل جائے تو کچھ بات کریں تو نہیں ہے نہ تری یاد کی گہرائی ہے دل حقیقت یہ نگل جائے تو کچھ بات کریں ہر کسی کا ہے تقاضہ یہی اک دوجے سے یہ مری سوچ میں ڈھل جائے تو کچھ بات کریں وقت تجھ سے جو میسر ہو تو یاروں سے ملیں اک تعلق یہ سنبھل جائے تو کچھ بات کریں شب میں نظارۂ ماہمؔ سے ابھی دل میرا حدت شوق سے جل جائے تو کچھ بات کریں

barf lahjon ki pighal jaae to kuchh baat karein

غزل · Ghazal

تم یہ کہتے ہو میں لکھ دوں ایک پیچیدہ کتاب کس نے مانگا ہے سمندر سے یوں موجوں کا حساب کب تلک تم حال دل اپنا چھپاؤ گے یہاں اس رخ نازک پہ لے اک مسکراہٹ کا حجاب خار و خس کی اوٹ میں بھی کھل اٹھا تھا ایک پھول کچھ کنول کی نازکی تھی کچھ تھا انداز گلاب کیوں اچانک زیست کی محفل ہوئی ہے سوگوار کس کی آمد سے ہوا لطف چمن زیر عتاب یا تو دشت عشق میں چشمہ مروت کا بہا یا وہ صحرائے محبت کا تھا اک سنگیں سراب کچھ تو مہکی ہیں فضائیں کچھ ہوا بھی مہرباں ہاں مگر دل پر بہار دل نشیں مثل عذاب ہاں ضرورت ہے تری ماہمؔ اماوس میں بھی آج ہیں ستارے بھی پریشاں شب کی حالت بھی خراب

tum ye kahte ho main likh duun ek pechida kitaab

غزل · Ghazal

ابھی اس قصۂ غم کو نہ تم چھیڑو نہ ہم چھیڑیں مریض عشق بے دم کو نہ تم چھیڑو نہ ہم چھیڑیں گلستان محبت پر کہر سا چھا گیا جیسے گلوں پہ رقص شبنم کو نہ تم چھیڑو نہ ہم چھیڑیں محبت کے فسانے کا بھلا انجام کیا ہوگا ابھی اس فکر باہم کو نہ تم چھیڑو نہ ہم چھیڑیں اداسی کا گھنا سایہ ہے اس معصوم چہرے پر ہاں اس کی زلف کے خم کو نہ تم چھیڑو نہ ہم چھیڑیں اندھیری رات میں پھر سے قیامت ڈھا رہا ہے وہ ندی میں عکس ماہمؔ کو نہ تم چھیڑو نہ ہم چھیڑیں

abhi is qissa-e-gham ko na tum chheDo na ham chheDein

Similar Poets