piyein saaqi ke haathon se mai-e-ulfat piyein jab bhi
mire naaseh bas itni paarsaai chaahte hain ham

Maham Khan
Maham Khan
Maham Khan
Popular Shayari
2 totalmahaz khvaabon khayaalon mein tiraa didaar ho kab tak
haqiqat mein bhi tujh se aashnaai chaahte hain ham
Ghazalغزل
نظر تم پر پڑے تو مسکرانا بھول جاتے ہیں ہم اپنی داستان غم سنانا بھول جاتے ہیں ہمیشہ سوچتے ہیں ہم اسے کھونا نہیں مشکل ہم اپنی قوت دل آزمانا بھول جاتے ہیں جہاں ساقی کا لمحے بھر کو بھی دیدار ہو جائے جنون تشنگی کا وہ زمانہ بھول جاتے ہیں یہ زنجیریں یہ پابندی نہیں کچھ فائدہ دیتیں پرندے قید ہوں تو چہچہانا بھول جاتے ہیں ابھرتے چاند کا منظر یا جلوے ہوں بہاروں کے ترے آگے سب اپنا قہر ڈھانا بھول جاتے ہیں غم بربادیٔ گلشن سے گل بھی اس قدر سہمے دکھی چہرے پہ اک مسکاں سجانا بھول جاتے ہیں بلندی سے گرانے کے لیے کوشاں ہیں جو ماہمؔ فلک تیرا ازل سے آشیانہ بھول جاتے ہیں
nazar tum par paDe to muskuraanaa bhuul jaate hain
ہمیں تجھ سے نہیں اے زندگی کرنا گلہ کوئی نہیں دینا تھا تو نے گر جو کرتے بھی صلہ کوئی توقع اب کے انسانوں سے رکھنا بھی ہے نادانی کہ پتھر سے کسی کو ہے کبھی گوہر ملا کوئی ہمیشہ ناتواں مظلوم کا ہی دل ہے کیوں ٹوٹا کبھی تو ظالم و جابر کا بھی دے دل ہلا کوئی وہاں بھی روگ ہیں ہے بے رخی بے اعتنائی ہے یہاں شدت سے مرگ ہجر میں ہے مبتلا کوئی
hamein tujh se nahin ai zindagi karnaa gila koi
یہ جو صورت پہ تری غم سا ہے ٹھہرا ماہمؔ ایسا ہوتا ہے بھلا چاند کا چہرہ ماہمؔ ہم تو سمجھے تھے سحر اب تو ہوئی جاتی ہے رات کا رنگ مگر اب بھی ہے گہرا ماہمؔ لوگ راتوں میں بھی پھرتے ہیں جو بے خوفی سے تیرے ہی سر پہ تو جاتا ہے یہ سہرا ماہمؔ کبھی تاریکیوں میں یہ بھی ہے سوچا تم نے کب تلک دے گا یوںہی رات کا پہرا ماہمؔ
ye jo surat pe tiri gham saa hai Thahraa 'maaham'
برف لہجوں کی پگھل جائے تو کچھ بات کریں جلتی رسی سے یہ بل جائے تو کچھ بات کریں وقت رخصت یہ سنا میں نے انہی یاروں سے یہ ذرا دور نکل جائے تو کچھ بات کریں اچھے موسم تری یادیں نئی موسیقی سے دل کسی طور بہل جائے تو کچھ بات کریں آخری بار جو ملنے کو گئے ہم تو کہا یہ ذرا چائے ابل جائے تو کچھ بات کریں تو نہیں ہے نہ تری یاد کی گہرائی ہے دل حقیقت یہ نگل جائے تو کچھ بات کریں ہر کسی کا ہے تقاضہ یہی اک دوجے سے یہ مری سوچ میں ڈھل جائے تو کچھ بات کریں وقت تجھ سے جو میسر ہو تو یاروں سے ملیں اک تعلق یہ سنبھل جائے تو کچھ بات کریں شب میں نظارۂ ماہمؔ سے ابھی دل میرا حدت شوق سے جل جائے تو کچھ بات کریں
barf lahjon ki pighal jaae to kuchh baat karein
تم یہ کہتے ہو میں لکھ دوں ایک پیچیدہ کتاب کس نے مانگا ہے سمندر سے یوں موجوں کا حساب کب تلک تم حال دل اپنا چھپاؤ گے یہاں اس رخ نازک پہ لے اک مسکراہٹ کا حجاب خار و خس کی اوٹ میں بھی کھل اٹھا تھا ایک پھول کچھ کنول کی نازکی تھی کچھ تھا انداز گلاب کیوں اچانک زیست کی محفل ہوئی ہے سوگوار کس کی آمد سے ہوا لطف چمن زیر عتاب یا تو دشت عشق میں چشمہ مروت کا بہا یا وہ صحرائے محبت کا تھا اک سنگیں سراب کچھ تو مہکی ہیں فضائیں کچھ ہوا بھی مہرباں ہاں مگر دل پر بہار دل نشیں مثل عذاب ہاں ضرورت ہے تری ماہمؔ اماوس میں بھی آج ہیں ستارے بھی پریشاں شب کی حالت بھی خراب
tum ye kahte ho main likh duun ek pechida kitaab
ابھی اس قصۂ غم کو نہ تم چھیڑو نہ ہم چھیڑیں مریض عشق بے دم کو نہ تم چھیڑو نہ ہم چھیڑیں گلستان محبت پر کہر سا چھا گیا جیسے گلوں پہ رقص شبنم کو نہ تم چھیڑو نہ ہم چھیڑیں محبت کے فسانے کا بھلا انجام کیا ہوگا ابھی اس فکر باہم کو نہ تم چھیڑو نہ ہم چھیڑیں اداسی کا گھنا سایہ ہے اس معصوم چہرے پر ہاں اس کی زلف کے خم کو نہ تم چھیڑو نہ ہم چھیڑیں اندھیری رات میں پھر سے قیامت ڈھا رہا ہے وہ ندی میں عکس ماہمؔ کو نہ تم چھیڑو نہ ہم چھیڑیں
abhi is qissa-e-gham ko na tum chheDo na ham chheDein





