SHAWORDS
M

Mahmood Rampuri

Mahmood Rampuri

Mahmood Rampuri

poet
1Shayari
14Ghazal

Popular Shayari

1 total

Ghazalغزل

See all 14
غزل · Ghazal

گھر میں نظر آتی نہیں غم خوار کی صورت تکتے ہیں پڑے ہم در و دیوار کی صورت چھپتی ہی نہیں عشق کے بیمار کی صورت کچھ اور ہی ہوتی ہے اس آزاد کی صورت وعدے پہ بنائی تو ہے اقرار کی صورت آنکھوں سے عیاں ہے مگر انکار کی صورت جب وصل میں کچھ ہوتی ہے تکرار کی صورت دل بیچ میں آ جاتا ہے دیوار کی صورت کرتے ہیں کچھ اس شان سے وہ وصل کا وعدہ اقرار کی صورت ہے نہ انکار کی صورت کی دید کی خواہش تو وہ منہ پھیر کے بولے دیکھے تو کوئی طالب دیدار کی صورت محمودؔ کرم دیکھ کے زاہد نے سر حشر یہ چاہا کہ بن جاؤں گنہ گار کی صورت

ghar mein nazar aati nahin gham-khvaar ki surat

غزل · Ghazal

نیک و بد عشق میں جو ہے مری تقدیر میں ہے آپ وہ کیجئے جو آپ کی تدبیر میں ہے وصل کہتے ہیں اسے ربط اسے کہتے ہیں دیکھ لو تیر جگر میں ہے جگر تیر میں ہے شور محشر کی تو اک دھوم مچا رکھی ہے شور یہ ہے جو مرے بالوں کی زنجیر میں ہے کھل گیا آج مجھے وعدہ فراموشی سے کہ ترا وصل کسی اور کی تقدیر میں ہے وہ مرا حال جو پوچھیں تو یہ کہنا قاصد ابھی جیتا ہے مگر مرنے کی تدبیر میں ہے کوئی کچھ جرم کرے نام وہ میرا لیں گے اک زمانے کی برائی مری تقدیر میں ہے وصف کچھ اس کا بیاں ہو نہیں سکتا محمودؔ لطف جو داغ کی تقریر میں تحریر میں ہے

nek-o-bad ishq mein jo hai miri taqdir mein hai

غزل · Ghazal

یہ سچ ہے ہر جگہ تم جلوہ گر ہو وہ دیکھے جس کی آنکھیں ہوں نظر ہو عداوت میں عداوت کی ہو تاثیر محبت میں محبت کا اثر ہو مزا جب ہے کہ ہمدم رنگ لائے لہو دل کا ہو یا خون جگر ہو وہ عرض وصل پر اس بت کا کہنا خدا کا واسطہ کیوں میرے سر ہو وہ چاہے ان بتان سنگ دل کو الٰہی جس کا پتھر کا جگر ہو نہیں دن سن تمہارے وہ کہ محمودؔ تمہاری عمر غفلت میں بسر ہو

ye sach hai har jagah tum jalva-gar ho

غزل · Ghazal

مانا کہ سخت ہوتی ہے تیر و تبر کی چوٹ لیکن بری بلا ہے کسی کی نظر کی چوٹ تیغ ادا کا وار ہے تیر نظر کی چوٹ دل کی بچاؤں ضرب کہ روکوں جگر کی چوٹ بڑھ کر ہے زخم تیغ سے بھی زخم بات کا یہ چار دن کی چوٹ ہے وہ عمر بھر کی چوٹ سینے سے وہ ملے تو نظر سے نظر ملی دل کا بھرا جو زخم تو ابھری جگر کی چوٹ احساں کا بار صاحب ہمت کی موت ہے میری دعا قبول کرے کیوں اثر کی چوٹ درد انتہا کا دل میں ہے محمودؔ آج تک کھائی تھی ابتدا میں کسی کی نظر کی چوٹ

maanaa ki sakht hoti hai tir-o-tabar ki choT

غزل · Ghazal

جب ہوا وعدہ اور وفا نہ ہوا پھر برابر ہے وہ ہوا نہ ہوا کس سے ہوگی جو کی وفا میں نے کس کا ہوگا وہ جب مرا نہ ہوا تم سلامت رہو زمانے میں میری کیا میں ہوا ہوا نہ ہوا غیر کے بدلے چھوڑتے ہو مجھے وہ اگر خوگر جفا نہ ہوا جان دینی قبول کی ہم نے دل لگانے کا جو صلہ نہ ہوا جب کہا اس نے آج کیوں چپ ہو پھر شکایت کا حوصلہ نہ ہوا جس کے محمودؔ وہ ہوئے دشمن اس کا پھر کوئی آشنا نہ ہوا

jab huaa vaada aur vafaa na huaa

غزل · Ghazal

جور کب تک سہا کرے کوئی صبر کب تک کیا کرے کوئی کہیں دشمن بھی دوست ہوتے ہیں تم نہ سمجھو تو کیا کرے کوئی تم بڑے پارسا سہی لیکن بد گمانی کو کیا کرے کوئی دے کے دل تم کو جان سے جاتے پھر تمہیں لے کے کیا کرے کوئی دل اگر ہو کسی کا کہنے میں کیوں کسی کی سنا کرے کوئی دیں عدو کو دعا وہ جینے کی مر نہ جائے تو کیا کرے کوئی کہتے ہیں تجھ سے دل نہیں ملتا اس کو محمودؔ کیا کرے کوئی

jaur kab tak sahaa kare koi

Similar Poets