ajiib vajh-e-mulaaqaat thi miri us se
ki vo bhi meri tarah shahr mein akelaa thaa

Mansoora Ahmad
Mansoora Ahmad
Mansoora Ahmad
Popular Shayari
2 totalmain us ko kho ke bhi us ko pukaarti hi rahi
ki saaraa rabt to aavaaz ke safar kaa thaa
Ghazalغزل
لب پہ توحید تو دل میں لیے بت خانہ پھروں سب کے ہم راہ چلوں سب سے جداگانہ پھروں اجنبی شہر سے یوں گزروں کہ جیسے گھر سے اپنے ہی گھر میں چلی آؤں تو بیگانہ پھروں بھٹکی روحوں کی طرح خاک سے تا ہفت افلاک دائرہ دائرہ افسانہ در افسانہ پھروں سفر شوق کی اک سمت معین بھی تو ہو کب تلک وقت کے بازار میں طفلانہ پھروں نظر آیا نہ خزاں سے کوئی اکتایا ہوا میں تو ہاتھوں میں لیے پھول کا نذرانہ پھروں مستحق پاؤں تو یہ فرض ادا ہو جائے اپنے ماتھے میں لیے سجدۂ شکرانہ پھروں
lab pe tauhid to dil mein liye but-khaana phirun
1 views
فراق آثار لمحوں کی دہائی کون دے گا ترے چہرے کے سورج میں دکھائی کون دے گا مجھے اک بات کہنا ہے اسے کتنے یگوں سے مگر صحرا کی وسعت میں سنائی کون دے گا جو اک بیکل سی خوشبو میرے اندر پھوٹتی ہے اسے اس کے دریچے تک رسائی کون دے گا کسی کی قید سے چھٹنا تو خیر اک مسئلہ ہے مجھے میرے ہی زنداں سے رہائی کون دے گا میں سلطاں کے در دولت پہ اک دستک تو دے لوں مگر اس ہاتھ کو ذوق گدائی کون دے گا
firaaq-aasaar lamhon ki duhaai kaun degaa
رات کی آنکھ میں میرے لئے کچھ خواب بھی تھے یہ الگ بات کہ ہر خواب میں گرداب بھی تھے زندگی بانجھ سی عورت تھی کہ جس کے دل میں بوند کی پیاس بھی تھی آنکھ میں سیلاب بھی تھے زخم کیوں رسنے لگے اک ترے چھو لینے سے دکھ سمندر تھے مگر موجۂ پایاب بھی تھے چاند کی کرنوں میں آہٹ ترے قدموں کی سنی اور پھر چاند کے ڈھل جانے کو بیتاب بھی تھے کتنا آباد مرے ساتھ تھا سایوں کا ہجوم کیسے تنہائی کے صحرا تھے جو شاداب بھی تھے
raat ki aankh mein mere liye kuchh khvaab bhi the
کس قدر دشوار ہے ان اجنبی شہروں میں رہنا گھر کی چوکھٹ ڈھونڈنے میں ہجرتوں کے درد سہنا اس سے کرنا گفتگو بس آتے جاتے موسموں کی اور سرگرداں ہوا سے اپنے دل کی بات کہنا اب تو اس کی جستجو کا ایک ہی انداز ٹھہرا تتلیوں کے ساتھ پھرنا خوشبوؤں کے ساتھ رہنا پھر کسی کی آنکھ میں دیکھا گیا ہے موسم گل کتنے دن کے بعد میں نے کوئی کھلتا رنگ پہنا کو بہ کو پھرتے ہی کٹ جائے گی ساری عمر اپنی کیا سرابوں کے نگر میں منزلوں کی قید سہنا اک بھنور میں گھومتی ہے سانس کی کشتی ازل سے اپنی فطرت ہی کہاں تھی پانیوں کے ساتھ بہنا
kis qadar dushvaar hai in ajnabi shahron mein rahnaa
مجھ کو حیرت کی صلیبوں سے اتارے کوئی بے صدا شہر میں رو کر ہی پکارے کوئی کل تجھے دیکھنا چاہا تو عجب بات ہوئی آنکھ پر ٹانک گیا چاند ستارے کوئی میں تری ذات سے باہر بھی تری ذات میں ہوں کیسے دکھلائے مجھے میرے کنارے کوئی اس نئے دور میں بچوں پہ یہ کیا وقت پڑا آگ میں جھونک گیا ان کے غبارے کوئی کس طرح ناؤ چلے اتنے چڑھے پانی میں تیری یادوں کا سمندر تو اتارے کوئی
mujh ko hairat ki salibon se utaare koi
تمام شہر میں تیرہ شبی کا چرچا تھا یہ اور بات کہ سورج افق پہ نکلا تھا عجیب وجہ ملاقات تھی مری اس سے کہ وہ بھی میری طرح شہر میں اکیلا تھا میں سب سمجھتی رہی اور مسکراتی رہی مرا مزاج ازل سے پیمبروں سا تھا میں اس کو کھو کے بھی اس کو پکارتی ہی رہی کہ سارا ربط تو آواز کے سفر کا تھا میں گل پرست بھی گل سے نباہ کر نہ سکی شعور ذات کا کانٹا بہت نکیلا تھا سب احتساب میں گم تھے ہجوم یاراں میں خدا کی طرح مرا جرم عشق تنہا تھا وہ تیرے قرب کا لمحہ تھا یا کوئی الہام کہ اس کے لمس سے دل میں گلاب کھلتا تھا مجھے بھی میرے خدا کلفتوں کا اجر ملے تجھے زمیں پہ بڑے کرب سے اتارا تھا
tamaam shahr mein tira-shabi kaa charchaa thaa





