SHAWORDS
Manzar Ayubi

Manzar Ayubi

Manzar Ayubi

Manzar Ayubi

poet
2Shayari
6Ghazal

Popular Shayari

2 total

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

مرحلے زیست کے دشوار نہیں دیوانو ماورائے رسن و دار نہیں دیوانو کیا کرو گے دل پر خوں کی حکایت سن کر یہ حدیث لب و رخسار نہیں دیوانو آج کیوں پند گر وقت کی تقریروں میں لذت شوخئ گفتار نہیں دیوانو خاکۂ ذہن پہ ابھرے تو کوئی نقش جمیل بند دروازۂ انکار نہیں دیوانو کیا کرو گے مہ و انجم پہ جما کر نظریں مہر گیتی ہی ضیا بار نہیں دیوانو پرسش حال میں احساس تکلف کیسا کوئی سایہ پس دیوار نہیں دیوانو کوئی روشن تو کرے شمع شبستان خیال منجمد چشمۂ انوار نہیں دیوانو

marhale ziist ke dushvaar nahin divaano

غزل · Ghazal

شہر کا شہر حریف‌ لب و رخسار ملا نام میرا ہی لکھا کیوں سر دیوار ملا سوچتے سوچتے دھندلا گئے یادوں کے نقوش فکر کو میرے نہ اب تک لب اظہار ملا مشتہر کر دیا اتنا تری چاہت نے مجھے نام گھر گھر میں مرا صورت اخبار ملا جس کی قربت کو ترستا تھا زمانہ کل تک آج وہ شخص اکیلا سر بازار ملا میری سچائی کو اس وقت سراہا تو نے سر پہ جب باندھ کے میں جھوٹ کی دستار ملا آنکھوں آنکھوں ہی میں لہرائیں بہاریں منظرؔ اک شجر بھی نہ بھرے باغ میں پھل دار ملا

shahr kaa shahr harif-e-lab-o-rukhsaar milaa

غزل · Ghazal

یہ تو بجا کہ ہم رہیں چشم کرم سے دور دور خود بھی نہ رہ سکے مگر آپ جو ہم سے دور دور دیر و حرم کی نفرتیں لوٹ چکیں نشاط زیست راہروان راہ نو دیر و حرم سے دور دور اہل جہاں سے کیا ہمیں صرف ملال اس کا ہے آپ بھی ہم سے بد گماں آپ بھی ہم سے دور دور میرا مذاق بندگی توڑ چکا ہے روایتیں آج جبیں ہے آپ کے نقش قدم سے دور دور ایک اداس تیرگی قسمت بام دور ہوئی جب سے تمہاری یاد ہے شام الم سے دور دور میکدۂ جہاں میں ہے ایک ہجوم مے کشاں جام سفال کے قریب ساغر جم سے دور دور دل میں خیال منزل دار و رسن لئے ہوئے آج کوئی گزر گیا کوئے صنم سے دور دور منظرؔ سادہ دل جنہیں دوست سمجھ رہے تھے تم آج وہی وفا سرشت ہو گئے ہم سے دور دور

ye to bajaa ki ham rahein chashm-e-karam se duur duur

غزل · Ghazal

اس طرح کبھی راندۂ‌ دربار نہیں تھے رسوا تھے مگر یوں سر بازار نہیں تھے صحرا میں لئے پھرتی ہے دیوانگئ شوق کیا شہر میں تیرے در و دیوار نہیں تھے وہ دن گئے جب منزل جاناں کے مسافر رہرو تھے فقط قافلہ سالار نہیں تھے ہے جرأت گفتار تو پھر سامنے آ کر کہہ دیجیے ہم لوگ وفادار نہیں تھے کیوں ہم ہی کھٹکتے رہے دنیا کی نظر میں دیوانوں میں اک ہم ہی طرح دار نہیں تھے دیتے ہیں دعائیں تری دزدیدہ نظر کو دیوانے کبھی اتنے تو ہشیار نہیں تھے کیوں مہر بہ لب کوچۂ جاناں سے گزرتے انسان تھے ہم سایۂ دیوار نہیں تھے وارفتگئ شوق بتا تو ہی کہ ہم سے آباد کبھی کوچہ و بازار نہیں تھے

is tarah kabhi raanda-e-darbaar nahin the

غزل · Ghazal

وصال و ہجر کے قصے نہ یوں سناؤ ہمیں اب اس عذاب شب و روز سے بچاؤ ہمیں کسی بھی گھر میں سہی روشنی تو ہے ہم سے نمود صبح سے پہلے تو مت بجھاؤ ہمیں نہیں ہے خون شہیداں کی کوئی قدر یہاں لگا کے داؤ پہ ہم کو نہ یوں گنواؤ ہمیں تمام عمر کا سودا ہے ایک پل کا نہیں بہت ہی سوچ سمجھ کر گلے لگاؤ ہمیں گزر چکے ہیں مقام جنوں سے دیوانے یہ جان لینا اگر کل یہاں نہ پاؤ ہمیں ہمارے خوں سے نکھر جائے غم تو کیا کہنا بڑھاؤ دست ستم دار پر چڑھاؤ ہمیں کرشمہ سازیٔ فکر و نظر سے کیا حاصل بنے ہو خضر تو پھر راستہ دکھاؤ ہمیں یہ لمحہ بھر کا تصور تو جان لیوا ہے جو یاد آؤ تو تا عمر یاد آؤ ہمیں کتاب عشق ہیں لیکن نہ اتنی فرسودہ کہ بے پڑھے ہی فقط میز پر سجاؤ ہمیں اجڑ نہ جائے عروس سخن کی مانگ کہیں خیال و فن کی نئی جنگ سے بچاؤ ہمیں

visaal-o-hijr ke qisse na yuun sunaao hamein

غزل · Ghazal

یہ کرشمہ سازیٔ عشق کی مری جان زندہ نظیر ہے جو فقیر تھا وہ امیر ہے جو امیر تھا وہ فقیر ہے مری خواہشوں کی بساط پر یہ جو ایک سرخ لکیر ہے یہی اک لکیر تو اصل میں نئے موسموں کی سفیر ہے نہ وہ سر زمیں نہ وہ آسماں مگر آج بھی سر دشت جاں وہی ہاتھ ہے وہی مشک ہے وہی پیاس ہے وہی تیر ہے کسی لب پہ حرف ستم تو ہو کوئی دکھ سپرد قلم تو ہو یہ بجا کہ شہر ملال میں کوئی فیضؔ ہے کوئی میرؔ ہے میرے ہم سخن مرے ہم زباں بڑے خوش گماں بڑے خوش بیاں کوئی خواہشوں کا غلام ہے کوئی زلف و رخ کا اسیر ہے یہ عجیب رخ ہے حیات کا نہیں منزلوں سے جو آشنا وہی راستوں کا چراغ ہے وہی قافلے کا امیر ہے

ye karishma-saazi-e-ishq ki miri jaan zinda nazir hai

Similar Poets