SHAWORDS
Manzoor Hashmi

Manzoor Hashmi

Manzoor Hashmi

Manzoor Hashmi

poet
29Shayari
19Ghazal

Popular Shayari

29 total

Ghazalغزل

See all 19
غزل · Ghazal

بس ایک نقش خیالی سا رہ گزار میں تھا نہ قافلے میں تھا شامل نہ میں غبار میں تھا تھے ثبت آنکھ کی پتلی پہ خواب کے منظر نشہ تو ٹوٹ چکا تھا مگر خمار میں تھا نہ جانے کون سے موسم میں پھول کھلتے ہیں یہی سوال خزاں میں یہی بہار میں تھا تمام عمر دکانیں سجائے بیٹھے رہے زباں اگرچہ تمنا کے کاروبار میں تھا نہ جانے کون سی مجبوریوں کا خوف رہا کیا نہ وہ بھی ہمارے جو اختیار میں تھا ہوا نے راکھ اڑائی تو پھر بھڑک اٹھا چھپا ہوا کوئی شعلہ مرے شرار میں تھا کھنچی ہوئی تھی مرے گرد واہموں کی فصیل میں قید اپنے بنائے ہوئے حصار میں تھا

bas ek naqsh-e-khayaali saa rahguzaar mein thaa

غزل · Ghazal

سلگتا دشت بہت جس کے انتظار میں تھا وہ ابر الجھا ہوا بحر بے کنار میں تھا ہر ایک سمت ہوا کے عظیم لشکر تھے اور اک چراغ ہی میدان کارزار میں تھا کھنچی ہوئی تھی مرے گرد واہموں کی فصیل میں قید اپنے بنائے ہوئے حصار میں تھا مرے شجر پہ مگر پھول پھل نہیں آئے وہ یوں تو پھلتے درختوں ہی کی قطار میں تھا کوئی کمیں تھا نہ مہمان آنے والا تھا کواڑ جانے کھلا کس کے انتظار میں تھا زمیں کی پیاس کا بادل کو تھا خیال بہت مگر برسنا سمندر کے اختیار میں تھا کھلی فضا تھی مگر پاؤں میں تھیں زنجیریں عجیب کشمکش جبر و اختیار میں تھا

sulagtaa dasht bahut jis ke intizaar mein thaa

غزل · Ghazal

شوق جب جرأت اظہار سے ڈر جائے گا لفظ خود اپنا گلا گھونٹ کے مر جائے گا تیز رفتار ہواؤں کو یہ احساس کہاں شاخ سے ٹوٹے گا پتا تو کدھر جائے گا یہ چمکتا ہوا سورج بھی مری شام کے بعد رات کے گہرے سمندر میں اتر جائے گا صرف اک گھر کو ڈبونا ہی نہیں کام اس کا اب یہ سیلاب کسی اور کے گھر جائے گا ہیں ہر اک سمت یہی لوگ یہی دنیا ہے ان سے بچ کے کوئی جائے تو کدھر جائے گا کام اتنا تو کرے گا یہ ابلتا ہوا خون سارے منظر میں مرا رنگ تو بھر جائے گا

shauq jab jurat-e-izhaar se Dar jaaegaa

غزل · Ghazal

سر پر تھی کڑی دھوپ بس اتنا ہی نہیں تھا اس شہر کے پیڑوں میں تو سایا ہی نہیں تھا پانی میں ذرا دیر کو ہلچل تو ہوئی تھی پھر یوں تھا کہ جیسے کوئی ڈوبا ہی نہیں تھا لکھے تھے سفر پاؤں میں کس طرح ٹھہرتے اور یہ بھی کہ تم نے تو پکارا ہی نہیں تھا اپنی ہی نگاہوں پہ بھروسہ نہ رہے گا تم اتنا بدل جاؤگے سوچا ہی نہیں تھا کندہ تھے مرے ذہن پہ کیوں اس کے خد و خال چہرہ جو مری آنکھ نے دیکھا ہی نہیں تھا

sar par thi kaDi dhuup bas itnaa hi nahin thaa

غزل · Ghazal

فوج کی آخری صف ہو جاؤں اور پھر اس کی طرف ہو جاؤں تیر کوئی ہو کماں کوئی ہو چاہتے ہیں کہ ہدف ہو جاؤں اک زمانہ ہے ہواؤں کی طرف میں چراغوں کی طرف ہو جاؤں اشک اس آنکھ میں آئے نہ کبھی اور ٹپکے تو صدف ہو جاؤں عہد نو کا نہ سہی گزراں کا باعث عز و شرف ہو جاؤں

fauj ki aakhiri saf ho jaaun

غزل · Ghazal

کسی بہانے سہی دل لہو تو ہونا ہے اس امتحاں میں مگر سرخ رو تو ہونا ہے ہمارے پاس بشارت ہے سبز موسم کی یقیں کی فصل لگائیں نمو تو ہونا ہے میں اس کے بارے میں اتنا زیادہ سوچتا ہوں کہ ایک روز اسے روبرو تو ہونا ہے لہولہان رہیں ہم کہ شاد کام رہیں شریک قافلۂ رنگ و بو تو ہونا ہے کوئی کہانی کوئی روشنی کوئی صورت طلوع میرے افق سے کبھو تو ہونا ہے

kisi bahaane sahi dil lahu to honaa hai

Similar Poets