SHAWORDS
Masood Qureshi

Masood Qureshi

Masood Qureshi

Masood Qureshi

poet
1Shayari
46Ghazal

Popular Shayari

1 total

Ghazalغزل

See all 46
غزل · Ghazal

اب بھی ملتے ہیں کرم بار نظر ہوتی ہے پر ملاقات بہ انداز دگر ہوتی ہے اب نہ ہمدرد اندھیرا ہے نہ شب کا پردہ اب تری خیر ہو اے دل کہ سحر ہوتی ہے عشق اور حسن کو آپس میں مگن رہنے دو ورنہ بنیاد جہاں زیر و زبر ہوتی ہے ان کے جاتے ہی یہ ہو جاتی ہے حالت اپنی کان آہٹ پہ لگے در پہ نظر ہوتی ہے ہم جو رخصت ہوئے دنیا سے تو دنیا چونکی دل نہ جب دھڑکے جبھی دل کی خبر ہوتی ہے

ab bhi milte hain karam baar-e-nazar hoti hai

غزل · Ghazal

ہم سے گفتگو ایسے دے کوئی بیاں جیسے قاعدے کے لفظوں کو مل گئی زباں جیسے دوستی کی یہ منزل ہے وبال جاں کتنی بات بات پر ابرو کھنچ گئے کماں جیسے بات چیت یاروں سے پل صراط پر چلنا لفظ ملتا رہتا ہے بزم ہو دکاں جیسے دیکھتا ہوں چہروں کو میں تلاش میں اپنی نقش خوب غیروں کے ہوں مرا نشاں جیسے یوں سنبھال کر رکھ لی دل میں دھول یادوں کی کارواں کی منزل ہو گرد کارواں جیسے

ham se guftugu aise de koi bayaan jaise

غزل · Ghazal

طلوع صبح سے کب کب زوال شب سے ہوا جہاں میں نور فقط برق نطق و لب سے ہوا جدا جدا تھے بہت نیک نام ہم دونوں ملامتوں کا ہدف ہیں ملاپ جب سے ہوا ملے ہو تم تو ہوئی قدر دل کو لمحوں کی گزر چکی ہے بہت پر حساب اب سے ہوا ہر ایک چاہنے والا بنا ہے خسرو غم دیار عشق میں یہ انقلاب کب سے ہوا لہو کی دھار کو سمجھے حقیر خنجر سے زوال صاحب جاناں اسی سبب سے ہوا کسی ادا کو ستم کہہ دیا کسی کو کرم یہ اختیار دل زار تم کو کب سے ہوا سجی ہیں دل میں تمہارے کرم کی تصویریں ادھر سے غم کا گزر بھی بڑے ادب سے ہوا

tulu-e-subh se kab kab zavaal-e-shab se huaa

غزل · Ghazal

مسکرا دیں تو کوئی خیر خبر آ جائے ہوں جو برہم تو کٹا طشت میں سر آ جائے دوستو راہ میں منزل کے نشاں بھی دیکھو چلتے چلتے نہ پھر آغاز سفر آ جائے منفرد حسن کی دشوار ہے پردہ داری سو حجابوں میں بھی انداز نظر آ جائے رات کی بات رہے پردۂ تاریکی میں شام کا بھولا اگر صبح کو گھر آ جائے اتنی معصوم سی خواہش بھی تو پوری نہ ہوئی خود بخود رات گزرنے پہ سحر آ جائے

muskuraa dein to koi khair-khabar aa jaae

غزل · Ghazal

جب لگی آنچ تو شعلے سے شرارے ٹوٹے بڑھ گئی رات کی ظلمت تو ستارے ٹوٹے عشق کا ناز وفا حسن کا احسان جفا ہم جو ٹوٹے تو محبت کے ادارے ٹوٹے اب کھلا راز کہ ہیں خواب ہی دنیا کے ستون زلزلے آئے ہیں جب خواب ہمارے ٹوٹے وہ کہیں چھوڑ نہ دے یہ نہ جفا ہو جائے ایک جنجال سے چھوٹے جو سہارے ٹوٹے ہم غباروں کے سہارے تو بہت اوج پہ تھے جب حقیقت کی لگی دھوپ غبار ٹوٹے اب تو کچھ جاں ہی سلامت ہے نہ تن ہی محفوظ سب کو عجلت سبھی خود کار اشارے ٹوٹے

jab lagi aanch to shoale se sharaare TuuTe

غزل · Ghazal

ہر آس توڑ کے جب ہم سبک صبا سے ہوئے نگاہ یار کے انداز آشنا سے ہوئے تری طلب میں عجب مرحلوں سے گزرے ہیں کبھی تو خود سے کبھی بد گماں خدا سے ہوئے یہ زعم تھا کہ ہمیں سے ہے ان کا نام و نشاں بچھڑ کے ان سے ہمیں بے نشاں ہوا سے ہوئے لبوں پہ شور تبسم ہے دل میں سناٹا ہوئے دو لخت جدا ہم جو آشنا سے ہوئے کفن عروس معانی کا جامۂ الفاظ خیال جان بہ لب تنگیٔ قبا سے ہوئے

har aas toD ke jab ham subuk sabaa se hue

Similar Poets