SHAWORDS
M

Masooda Hayat

Masooda Hayat

Masooda Hayat

poet
12Sher
12Shayari
17Ghazal

Sherشعر

See all 12

Popular Sher & Shayari

24 total

Ghazalغزل

See all 17
غزل · Ghazal

aaj hai dahr mein kyaa ik nai aafat ke sivaa

آج ہے دہر میں کیا اک نئی آفت کے سوا بغض و نفرت کے سوا رنج و مصیبت کے سوا اس طرح چھایا ہوا ہے نگہ‌ و دل پہ طلسم جیسے ہر چیز حقیقت ہو حقیقت کے سوا اپنے ہر جبر کو وہ مہر و وفا کہتے ہیں ہم بھی کچھ نام نہ دیں اس کو محبت کے سوا ہستیٔ عشق کو اب تک نہ کوئی جان سکا ورنہ ہے دہر میں کیا اور محبت کے سوا ہر نفس اک نئے طوفان کی یورش ہے حیاتؔ کس کو الزام دیں اس دور میں قسمت کے سوا

غزل · Ghazal

kyaa kahein mahfil se teri kyaa uThaa kar le gae

کیا کہیں محفل سے تیری کیا اٹھا کر لے گئے ہم متاع درد کو تنہا اٹھا کر لے گئے دھوپ کا صحرا نظر آتا ہے اب چاروں طرف آپ تو ہر پیڑ کا سایا اٹھا کر لے گئے اس بھری دنیا میں اب تو کوئی بھی اپنا نہیں جیسے تم ہر درد کا رشتہ اٹھا کر لے گئے قطرے قطرے کو ترستے ہیں وہ اب اہل ہوس جو کبھی دھرتی سے ہر دریا اٹھا کر لے گئے اب وہی ذرے ہمارے حال پر ہیں خندہ زن آسماں تک جن کو ہم اونچا اٹھا کر لے گئے کیا غرض ہم کو وہاں اب کوئی بھی آباد ہو ہم تو اس بستی سے گھر اپنا اٹھا کر لے گئے وہ تو مجنوں تھا رہا جو عمر بھر صحرا نورد ہم جہاں پہنچے وہیں صحرا اٹھا کر لے گئے کر نہ پائے راہ بر بھی رہنمائی جب حیاتؔ ہم بھی حیرانی میں نقش پا اٹھا کر لے گئے

غزل · Ghazal

dilon se uThne lagegaa dhuaan to kyaa hogaa

دلوں سے اٹھنے لگے گا دھواں تو کیا ہوگا بدل گیا کبھی رنگ جہاں تو کیا ہوگا مچل گیا جو دل ناتواں تو کیا ہوگا اٹھا نہ عشق کا بار گراں تو کیا ہوگا ہمیں فریب محبت قبول ہے لیکن جو کھل گئی کبھی دل کی زباں تو کیا ہوگا ہم اہل دل ہیں کسی امتحاں سے کیا ڈرتے لیا فلک نے ترا امتحاں تو کیا ہوگا ہزار درد سمیٹے ہوئے ہوں اک دل میں بکھر گئی جو مری داستاں تو کیا ہوگا حیاتؔ کس کو دکھاؤں گی آبگینۂ دل ملا نہ کوئی یہاں قدرداں تو کیا ہوگا

غزل · Ghazal

koi to dil ki nigaahon se dekhtaa jaae

کوئی تو دل کی نگاہوں سے دیکھتا جائے ہماری روح کے کچھ غم سمیٹتا جائے تمہارے ملنے کی ہر آس آج ٹوٹ گئی تمہیں بتاؤ کہ اب کس طرح جیا جائے ذرا تو سوچیے اس دل کا حال کیا ہوگا تلاش گل میں جو پتھر کی چوٹ کھا جائے سجا کے تم کو گلوں سے اٹھائے ہیں پتھر زمانہ کتنا ستم گر ہے کیا کیا جائے کریں گے کیسے حقیقت کا سامنا ہم لوگ ہمیں تو خواب ہی کوئی دکھا دیا جائے کسی طرح تو اندھیرے غموں کے چھٹ جائیں مرا بجھا ہوا دل ہی کوئی جلا جائے رہ حیات میں کانٹے بچھیں کہ پھول کھلیں یہ شرط ہے تری جانب وہ راستہ جائے

غزل · Ghazal

na raas aai chaman-zaar ki fazaa mujh ko

نہ راس آئی چمن زار کی فضا مجھ کو مزاج برق نے بے گھر بنا دیا مجھ کو تمام عمر بھٹکتے رہے جو راہوں میں دکھا رہے ہیں وہی آج راستا مجھ کو ہجوم درد میں دل نے تو سب کا ساتھ دیا ملا نہ اپنے ہی اشکوں کا ہم نوا مجھ کو وہ پاس تھے تو ہر اک شے میں دل دھڑکتا تھا وہ دور ہیں تو کھٹکتی ہے ہر فضا مجھ کو یہ کارواں نہ مری گمرہی پہ یوں ہنستا رہ طلب میں جو ملتے وہ نقش پا مجھ کو قدم قدم پہ سنوارا جنہیں محبت میں سمجھ رہے ہیں وہی اب شکستہ پا مجھ کو کوئی رفیق نہ رہبر نہ کوئی راہ گزر اڑا کے لائی ہے کس شہر میں ہوا مجھ کو حیاتؔ دکھتی ہوئی رگ کو کس نے چھیڑ دیا اٹھی وہ ٹیس کہ یاد آ گیا خدا مجھ کو

غزل · Ghazal

kyaa kahein mahfil se teri kyaa uThaa kar le gae

کیا کہیں محفل سے تیری کیا اٹھا کر لے گئے ہم متاع درد کو تنہا اٹھا کر لے گئے دھوپ کا صحرا نظر آتا ہے اب چاروں طرف آپ تو ہر پیڑ کا سایا اٹھا کر لے گئے اب وہی ذرے ہمارے حال پر ہیں خندہ زن آسماں تک جن کو ہم اونچا اٹھا کر لے گئے کیا غرض ہم کو وہاں اب کوئی بھی آباد ہو ہم تو اس بستی سے گھر اپنا اٹھا کر لے گئے وہ تو مجنوں تھا رہا جو عمر بھر صحرا نورد ہم جہاں پہنچے وہیں صحرا اٹھا کر لے گئے کر نہ پائے راہ بر بھی رہنمائی جب حیاتؔ ہم بھی حیرانی میں نقش پا اٹھا کر لے گئے

Similar Poets