'maasum' ajab hai haal-e-chaman har shoale kaa yahaan badlaa hai chalan
shaakhon ko jalaayaa jaataa hai taair ko sataayaa jaataa hai

Masoom Sharqi
Masoom Sharqi
Masoom Sharqi
Popular Shayari
1 totalGhazalغزل
میری خبر ہے دل کو نہ دل کی خبر مجھے دیوانہ کر گئی ہے کسی کی نظر مجھے کیسے قرار آئے مرے دل کو ہم نشیں پھرتی ہے تیری یاد لئے در بدر مجھے منزل کے پاس آ کے ہوئے دونوں دو طرف میں ہم سفر کو بھول گیا ہم سفر مجھے بیتے دنوں کے زخموں کا کرتا میں احتساب مہلت جو دیتی گردش شام و سحر مجھے ہوتی ہے ایک رات چراغوں کی زندگی یہ درس دے رہا ہے چراغ سحر مجھے چاہے کوئی تو پیار سے کر لے مجھے اسیر نفرت سے زیر کر نہ سکے گا مگر مجھے معصومؔ میرے حق میں وہ انمول ہیں رتن قدرت نے جو عطا کئے لعل و گہر مجھے
meri khabar hai dil ko na dil ki khabar mujhe
منزلیں کیا بتائیں میں کیا ہوں زندگی کا اداس رستہ ہوں تو خروش تلاطم دریا میں سکوت سراب صحرا ہوں کام آئی نہ کچھ شناسائی شہر کی بھیڑ میں اکیلا ہوں میں تری جستجو کے صحرا میں رقص کرتا ہوا بگولہ ہوں خار و خس ہی سہی مگر یارو میں بھی صحن چمن کا حصہ ہوں چشم عبرت سے دیکھیے مجھ کو اپنی تہذیب کا جنازہ ہوں آپ اپنی سنائیے معصومؔ میری کیا پوچھتے ہیں اچھا ہوں
manzilein kyaa bataaein main kyaa huun
مخالف ہو زمیں میری کہ دشمن آسماں میرا رہے گا رہتی دنیا تک چمن میں آشیاں میرا میں چاہوں بھی تو کھل سکتا نہیں راز نہاں میرا کہ اس محفل میں کوئی بھی نہیں ہے ہمزباں میرا نہیں ممکن کہیں بھی مل سکے مجھ کو نشاں میرا اگر دامن نہ چھوڑیں گے یہ ناقوس و اذاں میرا یقیں ہے مجھ کو اپنے دست و بازو عزم و ہمت پر بلا سے گر مخالف ہے یہ دور آسماں میرا اڑا کر لے چلی ہے مجھ کو منزل کی کشش دیکھوں کہاں تک ساتھ دیتے ہیں یہ اہل کارواں میرا ابھی امید کا دامن ہے میرے دست ہمت میں خدا رکھے سلامت ہے ابھی عزم جواں میرا یہ دنیا ہے حوادث گاہ یا مکتب محبت کا زمانہ ہر قدم پر لے رہا ہے امتحاں میرا مسلسل بارش فولاد و آتش ہے جہاں میں ہوں نہ راس آئے گا تجھ کو عالم برق و دخاں میرا پنپتے ہیں یہاں بوٹے نہ کھلتی ہیں یہاں کلیاں خزاں خوردہ چمن صر صر زدہ ہے گلستاں میرا اگر یوں ہی رہی گردش میں دنیا تو عجب کیا ہے پھر اک دن سجدہ گاہ قدسیاں ہو آستاں میرا گل و بلبل کو نذر طاق نسیاں کر چکا ہوں میں معرا کیوں نہ ہو حسن تصنع سے بیاں میرا ابھی وہم و گماں کی وادیوں میں تو ہے سرگرداں تری منزل سے کوسوں بڑھ گیا ہے کارواں میرا یہ شعر و شاعری ہے اشکؔ اقلیم سخن مجھ کو قلم میرا علم ہے اور زباں میری نشاں میرا
mukhaalif ho zamin meri ki dushman aasmaan meraa
غم کے طوفاں دل مضطر میں ٹھہر جاتے ہیں عیش کے لمحے تو پل بھر میں گزر جاتے ہیں حیف صد حیف کہ نا قدرئ فن کے ہاتھوں کتنے فن کار لہو تھوک کے مر جاتے ہیں وہ پہنچ سکتے نہیں بام ترقی پہ کبھی وقت کے زینے سے جو لوگ اتر جاتے ہیں اہل دانش پہ اٹھاتا نہیں انگلی کوئی جتنے الزام ہیں دیوانوں کے سر جاتے ہیں عزم و ہمت کو بنا لیتے ہیں جو راہنما سخت راہوں سے بھی ہنس ہنس کے گزر جاتے ہیں اپنے احساس کے جلتے ہوئے ویرانے میں خشک پتوں کی طرح لوگ بکھر جاتے ہیں جب شب غم میں مجھے تیرا خیال آتا ہے میری تنہائی کے لمحات سنور جاتے ہیں تحفۂ مہر و وفا کون یہاں دیتا ہے دل کا کشکول لئے آپ کدھر جاتے ہیں کس طرح وقت کی ٹھوکر وہ کریں گے برداشت دل دھڑکنے کی صدا سن کے جو ڈر جاتے ہیں ان کے سائے سے بھی تم دور رہو اے معصومؔ اپنے وعدے سے جو احباب مکر جاتے ہیں
gham ke tufaan dil-e-muztar mein Thahar jaate hain
میرے شکوے کا ذرا اس پہ اثر ہو تو سہی مہرباں مجھ پہ کبھی اس کی نظر ہو تو سہی دیکھنے والے مرا عزم سفر دیکھیں گے منزل شوق کوئی پیش نظر ہو تو سہی جلوے قدرت کے تو بکھرے ہوئے کونین میں ہیں دیکھنے والا کوئی اہل نظر ہو تو سہی میں مسرت بھرے لمحوں کا کروں استقبال مرے حصے میں حسیں شام و سحر ہو تو سہی مسکرانے کی تمنا تو مجھے ہے لیکن کوئی لمحہ غم دوراں سے مفر ہو تو سہی ہیچ ہر چیز زمانے کی نظر آئے گی تجھ کو خود اپنی حقیقت کی خبر ہو تو سہی میں بھی معصومؔ سمجھ لوں گا ہے دنیا جنت عیش و آرام سے کچھ روز بسر ہو تو سہی
mere shikve kaa zaraa us pe asar ho to sahi
تجھ سے ملے بغیر یہ مجھ کو پتا نہ تھا وصل و فراق کیا ہے یہ میں جانتا نہ تھا آزاد ہو گیا میں جہاں کے خیال سے لیکن ترا خیال مجھے چھوڑتا نہ تھا میں اس کو دیکھتا تھا بڑے اشتیاق سے لیکن کبھی وہ میری طرف دیکھتا نہ تھا تم کیا خفا ہوئے کہ خفا ہو گیا جہاں جب تم خفا نہ تھے تو کوئی بھی خفا نہ تھا اک تیری یاد ہی تھی مری منزل طلب ورنہ سفر میں کوئی مرا رہنما نہ تھا محرومیاں لکھی تھیں ہمارے نصیب میں دل پر ہمارے حرف مسرت لکھا نہ تھا معصومؔ یہ بھی اپنے مقدر کی بات ہے ان کا ملا سراغ تو اپنا پتا نہ تھا
tujh se mile baghair ye mujh ko pataa na thaa





