us ek lamhe mein ai dost saath saath hain ham
vo ek lamha jo imkaan mein nahin aayaa

Mehar Ali
Mehar Ali
Mehar Ali
Popular Shayari
11 totalmain nahin jaantaa kahaan huun main
in dinon khud se raabta hi nahin
ik 'umr tere saath chalaa bhi to kyaa milaa
ab sochtaa huun tujh se bichhaD kar hi dekh luun
zard se sabz hotaa jaataa hai
ik shajar intizaar se niklaa
ye soch kar vujud faraamosh kar diyaa
khud se milaa to teri tamanna karungaa main
mujh mein ab meri jagah baaqi nahin
main tiri maujudgi se bhar gayaa
talaash kartaa hai har gaam kaarvaan ham ko
havaa-e-dasht bulaa le gai kahaan ham ko
anginat naqsh banaa leinge ye naqqaash magar
husn mahtaab kaa mahtaab mein rah jaaegaa
apne andar jo bhari jast to hairaani hui
is kuein mein sabhi kuchh mere 'alaava niklaa
dekhi hai 'umr bhar yahi be-chehra kaaenaat
do chaar pal vujud ke andar hi dekh luun
hasb-e-maa'mul ek moD pe aaj
der tak teraa intizaar huaa
Ghazalغزل
ہر فسانہ اسی اک باب میں رہ جائے گا آدمی وقت کے گرداب میں رہ جائے گا اس قدر محو نہ ہو حسن میں اپنے نرگس تیرا ہونا اسی تالاب میں رہ جائے گا انگنت نقش بنا لیں گے یہ نقاش مگر حسن مہتاب کا مہتاب میں رہ جائے گا رائیگانی لیے جائیں گے نئے خواب کی اور باقی سامان اسی خواب میں رہ جائے گا رات ہوتے ہی پلٹ آؤں گا میں گھر کی طرف دل مگر محفل احباب میں رہ جائے گا خاک بے رنگ میں مل جائے گا رنگین بدن عکس آئینۂ زرتاب میں رہ جائے گا تم جو سوچو تو فقط ایک ہی لمحہ ہے یہاں سب اسی لمحۂ کم یاب میں رہ جائے گا ڈوب جائے گا سبھی کچھ مگر اک رنگ فنا میری ہستی کے سیہ تاب میں رہ جائے گا
har fasaana isi ik baab mein rah jaaegaa
خانۂ دل کیے ویران کہاں جاتا ہے یہ تری یاد کا سامان کہاں جاتا ہے حیرتی ہوں کہ فقط ایک گلی دیکھنے سے شہر دل میں مچا طوفان کہاں جاتا ہے زرد پھولوں میں گل سرخ کا منظر کوئی کیا بتاؤں کہ مرا دھیان کہاں جاتا ہے اپنی وحشت مری آنکھوں کے حوالے کر کے اتنی عجلت میں بیابان کہاں جاتا ہے تیری خاطر میں سبھی کار جہاں چھوڑ آیا یوں ملاقات کے دوران کہاں جاتا ہے شام سے پہلے ہوا آنکھ سے اوجھل سورج کوئی دیکھے کہ یہ نادان کہاں جاتا ہے
khaana-e-dil kiye viraan kahaan jaataa hai
مہتاب نیم زرد ستارہ دکھائی دے کوئی تو خاکدان پہ ایسا دکھائی دے کیسی بہار آئی کہ صحن چمن میں آج ہر اک گلاب عکس اسی کا دکھائی دے کچھ اس لیے بھی ہم اسے ملنے نہیں گئے برسوں کے بعد جانے وہ کیسا دکھائی دے یونہی ٹہلنے گلیوں میں آتے رہیں یہ لوگ یونہی یہ ماہتاب دمکتا دکھائی دے کیا کیا نہ دیکھنے کی تمنا رہی مگر دنیا پہ یک نگاہ سے کیا کیا دکھائی دے
mahtaab-e-nim zard sitaara dikhaai de
دھوپ سے بچتے بچاتے ٹھنڈی چھاؤں تک گئے ہم نے اس کا ہاتھ تھاما کہکشاؤں تک گئے زرد پتوں نے گلابوں کو لبادہ کر لیا ہم بہاروں کو رکھے سر پر خزاؤں تک گئے آدمی نے آگ دہکائی اندھیری غار میں جس کے شعلے رقص کرتے دیوتاؤں تک گئے وہ تو ہم میں ہی تھا لیکن ڈھونڈنے اپنا سراغ جو نہیں ہیں ہم کئی ایسی دشاؤں تک گئے ہائے کتنی مختصر ہے اپنی روداد حیات ہم گپھاؤں سے چلے تھے اور گپھاؤں تک گئے خود پلٹ آئے ہیں وہ بے رنگ و بے نقش و نگار رنگ بھرنے کے لیے جو ان خلاؤں تک گئے
dhuup se bachte bachaate ThanDi chhaaon tak gae
بس خانۂ وجود میں تیری کمی رہی تنہائی کھڑکیوں سے مجھے جھانکتی رہی یادوں کے در سے کتنے فسانے پلٹ گئے ہاں ایک شام تھی جو مسلسل کھڑی رہی دل میں تمہارے بعد کوئی آ نہیں سکا جو چیز جس جگہ پہ پڑی تھی پڑی رہی میں خواب نامی ایک جزیرے پہ آ گیا اور زیست گلیوں گلیوں مجھے ڈھونڈھتی رہی میں اب کی بار تنہا ہی یوفوریا گیا ہر ایک میز مجھ سے ترا پوچھتی رہی
bas khaana-e-vujud mein teri kami rahi
اک نئے روپ سے ہر روز ملا دیتا ہے آئنہ بھی کسی عالم کا پتہ دیتا ہے چاند تنہائی کا ساتھی ہے ہمارا لیکن اکثر اوقات یہ تنہائی بڑھا دیتا ہے جب کبھی بڑھنے لگوں خود سے ملاقات کو میں تیرا ہونا مجھے آواز لگا دیتا ہے کون اس خواب کی دیوار پہ آ کر ہر شب ایک بے رنگ سی تصویر بنا دیتا ہے روز اک خواب دکھا دیتا ہے آنکھوں کو یہ دل روز اک فتنے کو سینے میں جگا دیتا ہے پہلے کرتا ہے شکایت کہ اندھیرا کیوں ہے میں چراغوں کو جلا دوں تو ہوا دیتا ہے
ik nae ruup se har roz milaa detaa hai





