SHAWORDS
Mehboob Rahi

Mehboob Rahi

Mehboob Rahi

Mehboob Rahi

poet
3Sher
3Shayari
19Ghazal

Sherشعر

Popular Sher & Shayari

6 total

Ghazalغزل

See all 19
غزل · Ghazal

altaaf-o-karam ghaiz-o-ghazab kuchh bhi nahin hai

الطاف و کرم غیظ و غضب کچھ بھی نہیں ہے تھا پہلے بہت کچھ مگر اب کچھ بھی نہیں ہے برسات ہو سورج سے سمندر سے اگے آگ ممکن ہے ہر اک بات عجب کچھ بھی نہیں ہے دل ہے کہ حویلی کوئی سنسان سی جس میں خواہش ہے نہ حسرت نہ طلب کچھ بھی نہیں ہے اب زیست بھی اک لمحۂ ساکت ہے کہ جس میں ہنگامۂ دن گرمیٔ شب کچھ بھی نہیں ہے سب قوت بازو کے کرشمات ہیں راہیؔ کیا چیز ہے یہ نام و نسب کچھ بھی نہیں ہے

غزل · Ghazal

kyaa koi ganj-e-giraan-maaya chhupaa hai mujh mein

کیا کوئی گنج گراں مایہ چھپا ہے مجھ میں کھوجنے والے تو کیا کھوج رہا ہے مجھ میں میں تو خاموش ہوں حالات کی سفاکی پر جانے پھر کون ہے جو چیخ رہا ہے مجھ میں جس سے ہو پائی نہ تا حال شناسائی مری لوگ کہتے ہیں کہ اک ذہن رسا ہے مجھ میں پھر مسائل کے یزید آئے ہیں بیعت لینے گرم پھر معرکۂ کرب و بلا ہے مجھ میں دوستو مجھ کو کھنگالو گے کہاں تک آخر ماسوا کرب بھلا دوسرا کیا ہے مجھ میں نہ کوئی درد نہ احساس نہ جذبہ نہ امنگ یہ بھی راہیؔ کوئی جینے کی ادا ہے مجھ میں

غزل · Ghazal

zabt kaa jitnaa asaasa hai uThaae jaaeinge

ضبط کا جتنا اثاثہ ہے اٹھائے جائیں گے اب مہاجن کرب کے مجھ سے نہ ٹالے جائیں گے حق پرستوں سے صلیبوں کو سجایا جائے گا اور کبھی سر ان کے نیزوں پر اچھالے جائیں گے ریزہ ریزہ خواہشیں اور آرزوئیں زخم زخم میرے گھر سے جانے والے اور کیا لے جائیں گے ہے وہاں تو صرف سکوں کی نمائش کا چلن آپ اس بازار میں نقد وفا لے جائیں گے دل کا سونا روپ کی چاندی جوانی کا نکھار وقت کے قزاق آ کر سب اٹھا لے جائیں گے پھول چاہت کے بچھاتے جائیں گے ہر راہ میں نفرتوں کے خار اے راہیؔ اٹھا لے جائیں گے

غزل · Ghazal

hangaama shahr-e-jaan mein musalsal lahu se hai

ہنگامہ شہر جاں میں مسلسل لہو سے ہے احساس میں ہے جتنی بھی ہلچل لہو سے ہے شادابیاں اسی کی بدولت ہیں روح میں ہے ریگزار جسم جو جل تھل لہو سے ہے ثابت ہوا کہ دیتا ہے تو یہ بھی آگ سی ثابت ہوا یہ سوز مسلسل لہو سے ہے خاکے سبھی ادھورے ہیں سب نقش نا تمام دنیا میں جو بھی کچھ ہے مکمل لہو سے ہے قائم ہے اس سے عارض گلگوں کی دل کشی رنگیں رخ حیات کا آنچل لہو سے ہے دانشوری لہو سے ملی ایک شخص کو اک اور شخص ہے کہ جو پاگل لہو سے ہے راہیؔ وگرنہ ذہن ہے تاریکیوں کا گھر روشن خیال و فکر کی مشعل لہو سے ہے

غزل · Ghazal

shoalon mein gham-e-zaat ki jhulsaayaa huaa saa

شعلوں میں غم ذات کی جھلسایا ہوا سا ہر پیکر احساس ہے مرجھایا ہوا سا ہر شخص ہے اوہام کے آسیب کے ہاتھوں سہما ہوا سمٹا ہوا گھبرایا ہوا سا ہر ذہن جو فردوس تخیل تھا کسی دن لگتا ہے جہنم کوئی دہکایا ہوا سا صدیوں سے میں جینے کی سزا کاٹ رہا ہوں سانسوں کی صلیبوں پہ ہوں لٹکایا ہوا سا ہر شخص ہے بے مہریٔ حالات سے ہر دم روٹھا ہوا بپھرا ہوا جھلایا ہوا سا صحراؤں میں نفرت کے بھٹکتا ہوں مسلسل دو گھونٹ کو چاہت کے ہوں ترسایا ہوا سا کیا پائے گا پھر وسعت افکار کہ راہیؔ روٹی کے جھمیلوں میں ہے الجھایا ہوا سا

غزل · Ghazal

ik e'tidaal azal-taa-abad zaruri hai

اک اعتدال ازل تا ابد ضروری ہے ہر ایک شے میں توازن اشد ضروری ہے اگر بگاڑ نہ آئے بتاؤگے کیوں کر ہر اک قبول سے پہلے تو رد ضروری ہے وہ ظلم و جور ہو یا صبر و ضبط جو بھی ہو میاں سبھی کے لئے ایک حد ضروری ہے گزارشات پہ بھی جب نوازشات نہ ہوں مطالبات میں تب شد و مد ضروری ہے وہ سب کہ جس کی ضرورت کبھی نہ سمجھی گئی ہمارے دور میں وہ صد بصد ضروری ہے سبھی کے ساتھ مناسب نہیں ہے ایک سی بات عزیزو تفرقۂ نیک و بد ضروری ہے جو چاہتے ہو کہ فن پر ہو دسترس راہیؔ نگاہ نقد و شعور و خرد ضروری ہے

Similar Poets