"sadiyon se main jiine ki saza kaaT raha huun sanson ki salibon pe huun laTkaya hua sa"

Mehboob Rahi
Mehboob Rahi
Mehboob Rahi
Sherشعر
sadiyon se main jiine ki saza kaaT raha huun
صدیوں سے میں جینے کی سزا کاٹ رہا ہوں سانسوں کی صلیبوں پہ ہوں لٹکایا ہوا سا
phir masa.il ke yazid aa.e hain bai'at lene
پھر مسائل کے یزید آئے ہیں بیعت لینے گرم پھر معرکۂ کرب و بلا ہے مجھ میں
altaf-o-karam ghaiz-o-ghazab kuchh bhi nahin hai
الطاف و کرم غیظ و غضب کچھ بھی نہیں ہے تھا پہلے بہت کچھ مگر اب کچھ بھی نہیں ہے
Popular Sher & Shayari
6 total"phir masa.il ke yazid aa.e hain bai'at lene garm phir ma.arka-e-karb-o-bala hai mujh men"
"altaf-o-karam ghaiz-o-ghazab kuchh bhi nahin hai tha pahle bahut kuchh magar ab kuchh bhi nahin hai"
sadiyon se main jiine ki sazaa kaaT rahaa huun
saanson ki salibon pe huun laTkaayaa huaa saa
phir masaail ke yazid aae hain bai'at lene
garm phir maarka-e-karb-o-balaa hai mujh mein
altaaf-o-karam ghaiz-o-ghazab kuchh bhi nahin hai
thaa pahle bahut kuchh magar ab kuchh bhi nahin hai
Ghazalغزل
altaaf-o-karam ghaiz-o-ghazab kuchh bhi nahin hai
الطاف و کرم غیظ و غضب کچھ بھی نہیں ہے تھا پہلے بہت کچھ مگر اب کچھ بھی نہیں ہے برسات ہو سورج سے سمندر سے اگے آگ ممکن ہے ہر اک بات عجب کچھ بھی نہیں ہے دل ہے کہ حویلی کوئی سنسان سی جس میں خواہش ہے نہ حسرت نہ طلب کچھ بھی نہیں ہے اب زیست بھی اک لمحۂ ساکت ہے کہ جس میں ہنگامۂ دن گرمیٔ شب کچھ بھی نہیں ہے سب قوت بازو کے کرشمات ہیں راہیؔ کیا چیز ہے یہ نام و نسب کچھ بھی نہیں ہے
kyaa koi ganj-e-giraan-maaya chhupaa hai mujh mein
کیا کوئی گنج گراں مایہ چھپا ہے مجھ میں کھوجنے والے تو کیا کھوج رہا ہے مجھ میں میں تو خاموش ہوں حالات کی سفاکی پر جانے پھر کون ہے جو چیخ رہا ہے مجھ میں جس سے ہو پائی نہ تا حال شناسائی مری لوگ کہتے ہیں کہ اک ذہن رسا ہے مجھ میں پھر مسائل کے یزید آئے ہیں بیعت لینے گرم پھر معرکۂ کرب و بلا ہے مجھ میں دوستو مجھ کو کھنگالو گے کہاں تک آخر ماسوا کرب بھلا دوسرا کیا ہے مجھ میں نہ کوئی درد نہ احساس نہ جذبہ نہ امنگ یہ بھی راہیؔ کوئی جینے کی ادا ہے مجھ میں
zabt kaa jitnaa asaasa hai uThaae jaaeinge
ضبط کا جتنا اثاثہ ہے اٹھائے جائیں گے اب مہاجن کرب کے مجھ سے نہ ٹالے جائیں گے حق پرستوں سے صلیبوں کو سجایا جائے گا اور کبھی سر ان کے نیزوں پر اچھالے جائیں گے ریزہ ریزہ خواہشیں اور آرزوئیں زخم زخم میرے گھر سے جانے والے اور کیا لے جائیں گے ہے وہاں تو صرف سکوں کی نمائش کا چلن آپ اس بازار میں نقد وفا لے جائیں گے دل کا سونا روپ کی چاندی جوانی کا نکھار وقت کے قزاق آ کر سب اٹھا لے جائیں گے پھول چاہت کے بچھاتے جائیں گے ہر راہ میں نفرتوں کے خار اے راہیؔ اٹھا لے جائیں گے
hangaama shahr-e-jaan mein musalsal lahu se hai
ہنگامہ شہر جاں میں مسلسل لہو سے ہے احساس میں ہے جتنی بھی ہلچل لہو سے ہے شادابیاں اسی کی بدولت ہیں روح میں ہے ریگزار جسم جو جل تھل لہو سے ہے ثابت ہوا کہ دیتا ہے تو یہ بھی آگ سی ثابت ہوا یہ سوز مسلسل لہو سے ہے خاکے سبھی ادھورے ہیں سب نقش نا تمام دنیا میں جو بھی کچھ ہے مکمل لہو سے ہے قائم ہے اس سے عارض گلگوں کی دل کشی رنگیں رخ حیات کا آنچل لہو سے ہے دانشوری لہو سے ملی ایک شخص کو اک اور شخص ہے کہ جو پاگل لہو سے ہے راہیؔ وگرنہ ذہن ہے تاریکیوں کا گھر روشن خیال و فکر کی مشعل لہو سے ہے
shoalon mein gham-e-zaat ki jhulsaayaa huaa saa
شعلوں میں غم ذات کی جھلسایا ہوا سا ہر پیکر احساس ہے مرجھایا ہوا سا ہر شخص ہے اوہام کے آسیب کے ہاتھوں سہما ہوا سمٹا ہوا گھبرایا ہوا سا ہر ذہن جو فردوس تخیل تھا کسی دن لگتا ہے جہنم کوئی دہکایا ہوا سا صدیوں سے میں جینے کی سزا کاٹ رہا ہوں سانسوں کی صلیبوں پہ ہوں لٹکایا ہوا سا ہر شخص ہے بے مہریٔ حالات سے ہر دم روٹھا ہوا بپھرا ہوا جھلایا ہوا سا صحراؤں میں نفرت کے بھٹکتا ہوں مسلسل دو گھونٹ کو چاہت کے ہوں ترسایا ہوا سا کیا پائے گا پھر وسعت افکار کہ راہیؔ روٹی کے جھمیلوں میں ہے الجھایا ہوا سا
ik e'tidaal azal-taa-abad zaruri hai
اک اعتدال ازل تا ابد ضروری ہے ہر ایک شے میں توازن اشد ضروری ہے اگر بگاڑ نہ آئے بتاؤگے کیوں کر ہر اک قبول سے پہلے تو رد ضروری ہے وہ ظلم و جور ہو یا صبر و ضبط جو بھی ہو میاں سبھی کے لئے ایک حد ضروری ہے گزارشات پہ بھی جب نوازشات نہ ہوں مطالبات میں تب شد و مد ضروری ہے وہ سب کہ جس کی ضرورت کبھی نہ سمجھی گئی ہمارے دور میں وہ صد بصد ضروری ہے سبھی کے ساتھ مناسب نہیں ہے ایک سی بات عزیزو تفرقۂ نیک و بد ضروری ہے جو چاہتے ہو کہ فن پر ہو دسترس راہیؔ نگاہ نقد و شعور و خرد ضروری ہے





