"hamen aziiz ho kitne ye janne ke liye hamari jaan bhi hazir hai azmao hamen"

Mehwar Noori
Mehwar Noori
Mehwar Noori
Sherشعر
hamen aziiz ho kitne ye janne ke liye
ہمیں عزیز ہو کتنے یہ جاننے کے لئے ہماری جان بھی حاضر ہے آزماؤ ہمیں
daulat se kahan juDte hain TuuTe hue rishte
دولت سے کہاں جڑتے ہیں ٹوٹے ہوئے رشتے شیشے کو کبھی گوند سے جوڑا نہیں جاتا
yuun uTha mere nasheman se dhuan
یوں اٹھا میرے نشیمن سے دھواں درد پہلو سے اٹھا ہو جیسے
Popular Sher & Shayari
6 total"daulat se kahan juDte hain TuuTe hue rishte shishe ko kabhi gond se joDa nahin jaata"
"yuun uTha mere nasheman se dhuan dard pahlu se uTha ho jaise"
daulat se kahaan juDte hain TuuTe hue rishte
shishe ko kabhi gond se joDaa nahin jaataa
hamein aziiz ho kitne ye jaanne ke liye
hamaari jaan bhi haazir hai aazmaao hamein
yuun uThaa mere nasheman se dhuaan
dard pahlu se uThaa ho jaise
Ghazalغزل
na ham ko yaad karo aur na yaad aao hamein
نہ ہم کو یاد کرو اور نہ یاد آؤ ہمیں عجیب حکم ہے کہتے ہیں بھول جاؤ ہمیں تمہارے چہرے تو کچھ روشنی میں آ جاؤ جو ہو سکے تو ذرا دیر تک جلاؤ ہمیں ہمیں عزیز ہو کتنے یہ جاننے کے لئے ہماری جان بھی حاضر ہے آزماؤ ہمیں کھلیں گے کتنے ہی اسرار لفظ لفظ مگر کبھی تو تم بھی اکیلے میں گنگناؤ ہمیں ضرورتوں کے سبب ہم بھی بک گئے محورؔ نظر سے اپنی گرے ہیں ذرا اٹھاؤ ہمیں
tu baahon mein dekhaa khvaab
تو باہوں میں دیکھا خواب سستی آنکھیں مہنگا خواب دریا دریا تیرا خواب ریت پہ اترا ڈوبا خواب تم کو اپنا دیکھا ہے میری مرضی میرا خواب کوٹھی کاریں نوکر سب ہو سکتا ہے الٹا خواب میلا میلا گزرا دن جب بھی دیکھا اجلا خواب
chup rahne se aisaa hogaa
چپ رہنے سے ایسا ہوگا تم کو دب کے رہنا ہوگا بیکاری کی دھوپ میں اکثر ایک پرندہ اڑتا ہوگا خالی بیٹھے کہتے رہیے جو بھی ہوگا اچھا ہوگا آنکھوں کے مشکیزے کھولو دریا پر تو پہرا ہوگا دکھنے لگیں گی آنکھیں محورؔ اتنی دور ستارا ہوگا
dhuup jami hai raston par
دھوپ جمی ہے رستوں پر چلتے ہیں انگاروں پر اب کے رکھا صحرا نے ریت کا مرہم چھالوں پر پھول کی قربت مل جائے نیند آ جائے کانٹوں پر پھول سمجھ کر بیٹھ گئی تتلی تیرے ہونٹوں پر اب کوئی بھی موسم ہو برف جمی ہے رشتوں پر
sar pe dhuup kaa neza utraa
سر پہ دھوپ کا نیزہ اترا رات کا جیسے نشہ اترا پتے ٹوٹے شاخوں سے شاید ایک پرندہ اترا سرخ لہو نے گردش پائی سورج قطرہ قطرہ اترا مہنگی پڑے گی یہ ضد اس کو وہ لشکر میں تنہا اترا بوجھ تھا کیسا دیواروں پر بوسیدہ تھا چھجا اترا
yaas-o-gham ranj-o-alam tanhaaiyaan ab ke baras
یاس و غم رنج و الم تنہائیاں اب کے برس میری قسمت میں رہیں ناکامیاں اب کے برس روشنی سورج کی آنکھوں پر ہے منظر دھوپ ہیں لگ رہی ہیں صورتیں پرچھائیاں اب کے برس آئینے میں دیکھ کر خود کو نہ تم ہونا اداس آئینوں میں پڑ گئیں ہیں جھائیاں اب کے برس دیکھنا ہوگا ستم یہ بھی زباں بندی کے بعد کاٹ لی جائیں گی سب کی انگلیاں اب کے برس خشک سالی تو نہیں ہے شہر میں محورؔ مگر ابر کب برسائیں گے اللہ میاں اب کے برس





