SHAWORDS
Miyan Dad Khan Sayyah

Miyan Dad Khan Sayyah

Miyan dad Khan Sayyah

Miyan dad Khan Sayyah

poet
2Shayari
8Ghazal

Popular Shayari

2 total

Ghazalغزل

See all 8
غزل · Ghazal

جب سے دیکھا ہے بنا گوش قمر میں تنکا پھانس کی طرح کھٹکتا ہے جگر میں تنکا نیزہ بازی پہ ہمیں اپنی نہ دھمکا اے ترک ہم سمجھتے ہیں اسے اپنی نظر میں تنکا آتش نالۂ بلبل یہ چمن میں بھڑکی نہ بچا نام کو صیاد کے گھر میں تنکا خار مژگاں کو نظر بھر کے نہ دیکھا میں نے پڑ گیا اڑ کے مرے دیدۂ تر میں تنکا سن کے آمد تری آنکھوں سے اٹھا لیتے ہیں دیکھتے ہیں جو پڑا راہ گزر میں تنکا گرد اس بحر صفا کے میں پھرا کرتا ہوں رہتا ہے گردی میں جس طرح بھنور میں تنکا آہ سوزاں نے جلائے ترے جنگل سیاحؔ نام کو بھی نہ رہا ایک شجر میں تنکا

jab se dekhaa hai banaa gosh-e-qamar mein tinkaa

غزل · Ghazal

کون صیاد ادھر بہر شکار آتا ہے طائر دل قفس تن میں جو گھبراتا ہے زلف مشکیں کا جو اس شوخ کے دھیان آتا ہے زخم سے سینۂ مجروح کا چر جاتا ہے ہجر میں موت بھی آئی نہ مجھے سچ ہے مثل وقت پر کون کسی کے کوئی کام آتا ہے اب تو اللہ ہے یاران وطن کا حافظ دشت میں جوش جنوں ہم کو لیے جاتا ہے ڈوب کر چاہ ذقن سینہ مرا دل نکلا قد آدم سے سوا آب نظر آتا ہے مژدہ اے دل کہ مسیحا نے دیا صاف جواب اب کوئی دم کو لبوں پر مرا دم آتا ہے تیغ سی چلتی ہے قاتل کی دم جنگ زباں صلح کا نام جو لیتا ہے تو ہکلاتا ہے طرۂ کاکل پیچاں رخ نورانی پر چشمۂ آئینہ میں سانپ سا لہراتا ہے شوق طوف حرم کوئے صنم کا دن رات صورت نقش قدم ٹھوکریں کھلواتا ہے دو بہ دو عاشق شیدا سے وہ ہوگا کیونکر آئینے میں بھی جو منہ دیکھتے شرماتا ہے سخت پچھتاتے ہیں ہم دے کے دل اس کو سیاحؔ اپنی افسوس جوانی پہ ہمیں آتا ہے

kaun sayyaad idhar bahr-e-shikaar aataa hai

غزل · Ghazal

کبھی ادھر جو سگ کوئے یار آ نکلا گماں ہوا مرے ویرانے میں ہما نکلا رخ اس کا دیکھ ہوا زرد نیر اعظم سنہرے برج سے جس دم وہ مہ لقا نکلا وہ سن کے پاک محبت کا نام کہتے ہیں ہماری جان کو لو یہ بھی پارسا نکلا ہمارے پاؤں پڑے آ کے آبلے ہر گام کبھی جو دشت جنوں میں برہنہ پا نکلا مہ صیام میں آیا جو وہ ہلال ابرو گماں ہوا یہ مجھے چاند عید کا نکلا جہاں کی سیر تو کی تو نے لیکن اے شہ حسن کبھی فقیر کے تکیے پہ تو نہ آ نکلا نہ نکلا وہم کے مارے وہ گھر سے بھی سیاحؔ گلی سے یار کے تابوت جب مرا نکلا

kabhi idhar jo sag-e-ku-e-yaar aa niklaa

غزل · Ghazal

نہیں ملتا دلا ہم کو نشاں تک مکاں ڈھونڈ آئے اس کا لا مکاں تک بنا ہر موئے تن خار مغیلاں ستایا جوش وحشت نے یہاں تک ہماری جان کے پیچھے پڑا ہے دل ناداں کو سمجھائیں کہاں تک رواں شب کو ہوا کیا ناقۂ روح نظر آئی نہ گرد کارواں تک زمیں پہ زلزلہ آیا تو پہنچا مرے نالوں کا غوغا آسماں تک ملے ہے دل کو ذوق بوسۂ لب مزا ہے ورنہ ہر شے کا زباں تک جو رکھتے تھے دماغ اپنا فلک پر زمیں پر اب نہیں ان کا نشاں تک جلایا شمع سا اس شعلہ رو نے گئے گھل سوز غم سے استخواں تک جہاں کی سیر کی سیاحؔ ہم نے نہ پہنچے پر سخن کے قدرداں تک

nahin miltaa dilaa ham ko nishaan tak

غزل · Ghazal

اپنے ہی دم سے ہے چرچا کفر اور اسلام کا گاہ عابد ہوں خدا کا گہہ پجاری رام کا لوٹتے ہیں جس کو سن سن کر ہزاروں مرغ دل ہو رہا ہے ذکر کس کے گیسوؤں کے دام کا چشم مست یار کا ہم چشم لو پیدا ہوا دیکھنا اب پوست کھینچا جائے گا بادام کا سیر کرتا ہے وہ عالم کی مرا پیک نگاہ لاکھ ہے بے دست و پا لیکن ہے پھر سو کام کا سر جدا تن سے کیا اک ہاتھ میں جلاد نے نقد جاں دیجے کیا اس نے یہ کام انعام کا ہیں شہ ملک جنوں صحرا ہے اپنا تخت گاہ تن پہ ہر داغ جنوں سکہ ہے اپنے نام کا جلد نام اپنا بتا دے جیسے بندہ ہوں ترا واسطہ دیتا ہوں میں اے بت خدا کے نام کا بت پرستی کی بہت سیاحؔ اب کر یاد حق شغل مولا میں رہے بندہ وہی ہے کام کا

apne hi dam se hai charchaa kufr aur islaam kaa

غزل · Ghazal

ترک ان دنوں جو یار سے گفت و شنید ہے ہم کو محرم اور رقیبوں کو عید ہے شاید ہمارے قول پہ حبل الورید ہے ہم سے خدا قریب ہے کعبہ بعید ہے گزرا مہ صیام نہ کیوں پنجۂ شراب خالی کا چاند یہ نہیں ہے ماہ عید ہے شغل اپنا بادہ خواری ہے اور تاک سلسلہ پیر مغاں بھی ایک ہمارا مرید ہے دل لے چکے ہیں جان بھی اب مانگتے ہیں وہ بیٹھے ہیں بگڑے اور تقاضا شدید ہے چل کھول قفل آبلۂ پا کے اے جنوں ہر اک زبان خار بیاباں کلید ہے وحشت میں پیرہن کی اڑیں دھجیاں تمام تن پر قبائے داغ ہے سو نو خرید ہے سنتا ہوں روز حشر نہ ہوگی اسے نجات جو سیدوں سے بغض رکھے وہ یزید ہے ایسا مزا بھرا ہے طبیعت میں فقر کا گنج شکر ہے سینہ مرا دل فرید ہے سیاحؔ بے نوا ہوں جہاں گرد ہے لقب گردش میں چرخ پیر بھی میرا مرید ہے

tark in dinon jo yaar se guft-o-shunid hai

Similar Poets