navaazish par hain maail vo karam-naa-aashnaa nazrein
niyaaz-e-ishq kaam aa hi gayaa hangaam-e-naaz aakhir

Mohammad Saeed Razmi
Mohammad Saeed Razmi
Mohammad Saeed Razmi
Popular Shayari
2 totalmain ab huun gharq-e-jalva yaa ki khud huun saahib-e-jalva
huaa hai chashm-e-nazzaara ko mushkil imtiyaaz aakhir
Ghazalغزل
اک عمر میں اب سمجھا دنیا کا یہ حاصل تھا جو نقش تھا دھوکا تھا جو رنگ تھا باطل تھا ہنگامۂ ہستی سے فرصت جو ملی دیکھا اک داغ ندامت ہی کل زیست کا حاصل تھا اے موج لب دریا سر پیٹ نہ تو اپنا جو غرق ہوا اس میں آزردۂ ساحل تھا کچھ ذوق سماعت ہی دنیا کو نہ تھا ورنہ ہر ساز خموشی میں اک زمزمۂ دل تھا طوفان حوادث میں جب غور کیا میں نے خود آپ ہی دریا تھا خود آپ ہی ساحل تھا دنیائے محبت میں کعبہ تھا نہ بت خانہ ہر نقش قدم تیرا ایک سجدہ گہہ دل تھا ہر سانس سے پیدا تھا اک محشر رسوائی مانا کہ ترا رزمیؔ خاموش تھا غافل تھا
ik umr mein ab samjhaa duniyaa kaa ye haasil thaa
1 views
وہ جلوہ گہہ ناز ہے یا بزم طور ہے ہر ایک ذرہ روکش دنیائے نور ہے ان خود نمائیوں پہ بھی محرومیاں عجب اے چشم نا مراد یہ تیرا قصور ہے اللہ رے انبساط تماشائے حسن دوست دنیا اسیر موجۂ بحر سرور ہے مایوس ہو نہ دل کسی امیدوار کا اے حسن بے نیاز ترحم ضرور ہے نیرنگیٔ کمال محبت تو دیکھیے موسیٰ حریف جلوۂ لیلائے طور ہے میں اور تاب جلوۂ برق جمال یار اے عقل ہرزہ کار سراسر فتور ہے رنگینیوں میں غرق ہے کیوں بزم کائنات اللہ کون جلوہ طراز ظہور ہے اس دشمن وفا سے ہے امید التفات رزمیؔ یہ کیا خیال ہے کچھ بھی شعور ہے
vo jalva-gah-e-naaz hai yaa bazm-e-tur hai
مفت راز زندگی رسوا کیا اے مری وارفتگی یہ کیا کیا زندگی کیا تھی طلسم آب و گل میں خدا جانے کہ کیا سمجھا کیا وسعتیں ہی وسعتیں آئیں نظر جس طرف اٹھی نظر دیکھا کیا ایک منظر بھی نہیں اب دل پذیر تو نے اے افسردگی یہ کیا کیا منظر ہستی کی عبرت خیزیاں جس نے دیکھا عمر بھر رویا کیا
muft raaz-e-zindagi rusvaa kiyaa
خراب حال وفا کو رلائے جاتے ہیں نظر چرائے ہوئے مسکرائے جاتے ہیں وفا شعار سہی غیر مجھ سے کیوں کہیے یہ روز کس لیے قصے سنائے جاتے ہیں وفا کی قدر تری انجمن میں کیوں ہوتی فریب غیر کے نقشے جمائے جاتے ہیں تم اپنے حسن پہ نازاں ہو اور اہل نظر دل خراب کی قیمت بڑھائے جاتے ہیں کسے خبر ہے کہ انجام آرزو کیا ہو نصیب عشق و وفا آزمائے جاتے ہیں کبھی تو عشق و ہوس میں بھی چاہیے یہ تمیز اسی امید پہ صدمے اٹھائے جاتے ہیں خرام ناز کی حشر آفرینیاں توبہ قدم قدم پہ قیامت اٹھائے جاتے ہیں اب ان کی یاد کو کیوں کر بھلائیے دل سے کہ ریشہ ریشہ میں وہ تو سمائے جاتے ہیں سنا ہے اب تو ہیں رزمیؔ بھی باریاب جمال اس انجمن میں ہمیشہ بلائے جاتے ہیں
kharaab-haal vafaa ko rulaae jaate hain
یا غم محبوب یا جام شراب ہائے وہ سرمستی عہد شباب مجھ سے پوچھ اے آرزوئے کامیاب اعتبار نالۂ نامستجاب الحذر اے سازش حسن و شباب کر دئے دیر و حرم دونوں خراب مختصر تر ہے یہی شرح فراق یا تمہاری یاد یا پھر اضطراب ہائے ان آنکھوں کی مستی کیا کہوں ہر نظر پروردۂ موج شراب
yaa gham-e-mahbub yaa jaam-e-sharaab
عکس جمال یار کی تاثیر دیکھنا دل بن گیا ہے حسن کی تصویر دیکھنا آئی ہے پھر چمن سے ہوائے جنوں نواز شاید ہے پھر نصیب میں زنجیر دیکھنا پھر دل کو ہے کشاکش حسرت سے واسطہ پھر دل ہے وقت کاوش تدبیر دیکھنا پھر ابتلائے عشق کی جرأت ہوئی مجھے پھر ہے فغاں کو حسرت تاثیر دیکھنا پھر جذب آزما ہے دل بے قرار شوق پھر ہے خروش نالۂ شب گیر دیکھنا پھر عجز شوق نے انہیں مغرور کر دیا پھر تمکنت ہوئی ہے عناں گیر دیکھنا پھر کشمکش سے ضبط کی گھبرا چلا ہے دل پھر چاہتا ہوں آہ کی تاثیر دیکھنا پھر رو رہا ہوں عشرت ماضی کی یاد میں پھر ہوں اسیر گردش تقدیر دیکھنا پھر ہو رہی ہے ان سے تصور میں گفتگو پھر ہوں میں محو لذت تقریر دیکھنا قسمت میں میری کوئی خوشی کی گھڑی بھی ہے اے واقفان نوحۂ تقدیر دیکھنا رزمیؔ ہے دل میں پھر ہوس امتحان شوق پھر چاہتا ہوں برش شمشیر دیکھنا
aks-e-jamaal-e-yaar ki taasir dekhnaa





