bhuul gayaa huun sab kuchh 'saalim' mujh ko kuchh bhi yaad nahin
yaadon ke aaine mein ab ik ik chehra dhundlaa hai

Mohammad Salim
Mohammad Salim
Mohammad Salim
Popular Shayari
2 totalpyaas ke shahar mein dariyaa bhi saraabon kaa milaa
manzil-e-shauq tarasti rahi paani ke liye
Ghazalغزل
بیت گیا ہے پیار کا موسم گھر گھر صحرا جیسا ہے دل کے دروازے پر اب تو خاموشی کا پہرا ہے سات سمندر پار جو آکر دشت فضا کو دیکھا ہے ریت کا منظر آنکھوں میں ہے دل میں خوف کا دریا ہے اس کی کشتی ڈوب گئی تھی بیچ بھنور میں آ کے مگر کس مشکل سے جان بچا کر ساحل تک وہ آیا ہے ظلمت کی راہوں میں ہم بھی گم ہو کر رہ جاتے مگر نور کا پیکر ساتھ ہمارے آگے آگے چلتا ہے سرخ ہوئے پھر زرد ہوئے جب سارے پتے گلشن کے درد سے بولا زخم گل یہ کون سا موسم آیا ہے بھول گیا ہوں سب کچھ سالمؔ مجھ کو کچھ بھی یاد نہیں یادوں کے آئینے میں اب اک اک چہرہ دھندلا ہے
biit gayaa hai pyaar kaa mausam ghar ghar sahraa jaisaa hai
فنا کے راستے پر گامزن ہیں ہم مرے ہمدم سنبھل کر پاؤں رکھیں اب ہے شام غم مرے ہمدم اندھیرے میں نکلنا ہے تلاش نور میں تجھ کو کبھی لو ہو نہ تیرے درد کی مدھم میرے ہمدم گزرتی جا رہی ہے عمر ساری فکر دنیا میں کبھی ہو فکر فردا میں نگہ پر نم مرے ہمدم ریا کی حکمرانی ہر طرف ہے تو بھی اب دکھلا یہاں اخلاص کی شمشیر کا دم خم مرے ہمدم چراغ علم و فن تیرا اگر روشن رہے یوں ہی نہ ہوگا جلوۂ فکر و نظر بھی کم مرے ہمدم ہوا باطل کی پھر اب سنسناتی ہے زمانے میں ہراساں کیوں ہے تو رکھ کر یقیں محکم مرے ہمدم تری یادوں کا پرچم جب بھی لہراتا ہے آنکھوں میں تری قربت بھلا دیتی ہے حال غم مرے ہمدم
fanaa ke raaste par gaamzan hain ham mire hamdam
سلگتی خواہشوں تلے ہمارے دل کا حال کیا دھواں دھواں ہو زندگی تو زیست کا مآل کیا چلا جو قتل گاہ کو وہ زیر لب ہنسی لیے تھی کیفیت یہ جذب میں تو خوف کا سوال کیا نہ اس کی مثل ہے کوئی جمال لا زوال میں نہاں ہے اندروں میں وہ تو اور کی مثال کیا زمیں فلک ہوا پہاڑ رونق حیات ہیں جہت جہت ہے بے مثال خلق کا کمال کیا سنو ملا نہیں خدا کبھی مناظرہ سے بھی فضول بحث کیا ہو اب مزید قیل و قال کیا یقیں کا پھول کھل گیا تو روح بھی سنور گئی خزاں کی جب ہوا چلی تو قلب کا جمال کیا
sulagti khvaahishon tale hamaare dil kaa haal kyaa
وقت کی دوری کو آنکھوں میں سمٹتے دیکھا غم زدہ حال کو ماضی سے لپٹتے دیکھا خانقاہیں تو ابھی چپ ہیں مگر میں نے وہاں رس بھری بات میں میراث کو بٹتے دیکھا میں نے اخلاص کی توقیر میں دیکھی جو کمی دل میں رشتوں کی محبت کو بھی گھٹتے دیکھا کیسے مغلوب ہو شمشیر یہ سوچا میں نے دست قاتل سے ہر اک سر کو جو کٹتے دیکھا وضع داری سے ہوئی جب بھی یہ دنیا خالی اچھے اچھوں کو اصولوں سے بھی ہٹتے دیکھا اس کے وعدوں پہ بھروسہ نہیں کرنا سالمؔ میں نے اکثر اسے باتوں سے پلٹتے دیکھا
vaqt ki duuri ko aankhon mein simaTte dekhaa
کتنے جتن کے بعد ہی پہنچے تھے اس کے گھر پیاسی نظر سے چوم لیا ہم نے جس کا در قطرے بھی انفعال کے یوں تابدار تھے رب جیسے مہربان تھا بندوں کے حال پر دل تو لرز رہا تھا گناہوں کے خوف سے لیکن دعا یہی تھی الٰہی معاف کر اک عاشقوں کی بھیڑ تھی رقصاں طواف میں بارش بھی اک تھی نور کی اجلے لباس پر سالمؔ بھی تھا نڈھال سا کعبہ کے سامنے لیکن تھا اس کے قلب پہ تسکین کا اثر
kitne jatan ke baad hi pahunche the us ke ghar
یادوں کی قندیل جلانا اچھا لگتا ہے درد کی لو کو اور بڑھانا اچھا لگتا ہے تازہ ہوا تھی مہکی فضا تھی کیا تھے اچھے دن پل پل اب تو پچھلا زمانہ اچھا لگتا ہے تجھ سے بچھڑ کر پیارے وطن تیری ہی چاہت میں غم سے لپٹ کر آنسو بہانا اچھا لگتا ہے مایوسی کی راہ میں جب تک خواب سنہرا ہو شوق سفر میں خواب سجانا اچھا لگتا ہے یوں ہی خفا ہو جانا اس کی عادت ہے سالمؔ پیار سے لیکن اس کو منانا اچھا لگتا ہے
yaadon ki qindil jalaanaa achchhaa lagtaa hai





