tire sukhan ke sadaa log honge girvida
miThaas urdu ki thoDi bahut zabaan mein rakh

Mubarak Ansari
Mubarak Ansari
Mubarak Ansari
Popular Shayari
1 totalGhazalغزل
ہم ترے شہر سے یوں جان وفا لوٹ آئے جیسے دیوار سے ٹکرا کے صدا لوٹ آئے نہ کوئی خواب نہ منظر نہ کوئی پس منظر کتنا اچھا ہو جو بچپن کی فضا لوٹ آئے آ گئیں پھر وہی موسم کی جبیں پر شکنیں مسئلے پھر وہی اس بار بھی کیا لوٹ آئے اپنے آنگن میں کوئی پیڑ لگا تلسی کا شاید اس طرح سے پھر خواب ترا لوٹ آئے جسم سے سوتے پسینے کے ابل اٹھے ہیں اب تو بہتر ہے کہ مسموم ہوا لوٹ آئے لوٹ ہم آئے مبارکؔ یوں در جاناں سے جیسے آکاش سے مفلس کی دعا لوٹ آئے
ham tire shahr se yuun jaan-e-vafaa lauT aae
گماں کی قید حصار قیاس سے نکلو کسی طرح سے بھی اس سبز گھاس سے نکلو یہ شہر سنگ ہے شہر وفا نہیں ہے یہ اگر نکلنا ہے ہوش و حواس سے نکلو وگرنہ وقت تمہیں حاشیے پہ رکھ دے گا یقیں کے سحر سے آشوب آس سے نکلو یہ کیسا نشہ ہے آخر جو ٹوٹتا ہی نہیں کوئی پکار رہا ہے گلاس سے نکلو کہاں تلک میں نگاہوں کو دوں فریب اپنی کبھی تو گرد عدم کے لباس سے نکلو مبارکؔ آگ کے دریا سے بھی گزرنا ہے دہکتی دھوپ سے صحرا کی پیاس سے نکلو
gumaan ki qaid-e-hisaar-e-qayaas se niklo
کچھ اب کے جنگ پہ اس کی گرفت ایسی تھی دراصل تھا وہی فاتح شکست ایسی تھی خوش آمدید نئی روشنی کو کیوں کہتی ہماری قوم قدامت پرست ایسی تھی حواس و ہوش کوئی بھی نہ رکھ سکا قائم ہوائے تازہ بھی شعلہ بدست ایسی تھی نفس نفس کو ہم اپنا گواہ کرنے لگے ہمارے سمت صدائے الست ایسی تھی شناخت کر نہ سکا آئنہ نظر بھی اسے ہر ایک شاخ بدن لخت لخت ایسی تھی ہزار رنگ کے جلووں سے تھی فضا معمور گزشتہ رات مبارکؔ نشست ایسی تھی
kuchh ab ke jang pe us ki giraft aisi thi
زمین فکر میں لفظوں کے جنگل چھوڑ جانا غزل میں اپنی کوئی شعر مہمل چھوڑ جانا ہیں نامانوس ابھی کرب تماشا سے نگاہیں دیار جاں میں آشوب مسلسل چھوڑ جانا نظر آئیں کبھی تحریر میں بے ربط فقرے کبھی پیشانئ تنقید پہ بل چھوڑ جانا بڑی مشکل سے ہوتا ہے کوئی درویش خصلت میاں آساں نہیں کمخواب و مخمل چھوڑ جانا کہ راس آتا نہیں آنکھوں کو اب شعلوں کا موسم ہواؤں اس طرف بھی لا کے بادل چھوڑ جانا مبارکؔ بس یہی اک آخری خواہش ہے اپنی جو مجھ کو قتل کرنا ہو تو مقتل چھوڑ جانا
zamin-e-fikr mein lafzon ke jangal chhoD jaanaa
کھینچ کر مجھ کو ہر اک نقش و نشاں لے جائے کیا پتہ ذوق سفر میرا کہاں لے جائے کام یہ ہر کس و ناکس کے نہیں ہے بس کا جس کو سچ کہنا ہو خنجر پہ زباں لے جائے صرف اک بار تبسم وہ اچھالے تو ادھر اور بدلے میں مرا سارا جہاں لے جائے جس کو دکھلانی ہو دنیا کو شجاعت اپنی وہی سر اپنا سر نوک سناں لے جائے کہیں روشن نظر آتے نہیں اب سر کے چراغ عرصۂ جنگ سے وہ خود کو کہاں لے جائے اپنی غزلوں میں جسے رنگ قزح بھرنا ہو وہ مبارکؔ مرا اعجاز بیاں لے جائے
khinch kar mujh ko har ik naqsh-o-nishaan le jaae
نفس نفس کو ہوا کی رکاب میں رکھنا وجود اپنا کف آفتاب میں رکھنا غریب شہر تجھے تشنگی نہ لے ڈوبے سنبھل کے اپنا قدم دشت آب میں رکھنا یہ وہ گلاب ہیں جو دھوپ سہہ نہیں سکتے انہیں ہمیشہ شب ماہتاب میں رکھنا کہ جن کا چشم نظارہ طواف کرنے لگے کچھ ایسے نقش بھی دیوار خواب میں رکھنا وہ خواہ پھول ہو مہتاب ہو کہ ساغر ہو کوئی بھی شے ہو نہ اس کے جواب میں رکھنا حسین لفظوں کی صورت ہیں خد و خال اس کے مبارکؔ ان کو بھی اپنی کتاب میں رکھنا
nafas nafas ko havaa ki rikaab mein rakhnaa





