main ne maanaa ki bahut aap hasin hain lekin
aap kaa dil bhi hasin ho ye zaruri to nahin

Mukhlis Musavviri
Mukhlis Musavviri
Mukhlis Musavviri
Popular Shayari
5 totalqubul un ki duaaein zarur hoti hain
ragon mein apni lahu jo halaal rakhte hain
mere dil mein miri aankhon mein nazar mein rahiye
kam se kam aap kisi ek to ghar mein rahiye
raat mein tiir andhe chalaane lage
aur nishaane pe un ke nishaane lage
Digriyaan-yaafta hazaaron hain
hain haqiqat mein pass ginti ke
Ghazalغزل
بچھڑے ہوئے دلوں کو ملانے سے رکھ غرض آپس کی نفرتوں کو مٹانے سے رکھ غرض تالے زباں پہ اپنی لگانے سے رکھ غرض ایمان ہر قدم پہ بچانے سے رکھ غرض رہ دشمنوں سے اپنے خبردار ہر گھڑی اور دوستوں کے عیب چھپانے سے رکھ غرض دنگوں کے خوف سے نہ دکھا بزدلی کبھی امن و اماں کی بیل چڑھانے سے رکھ غرض نہ دیکھ ذات پات رضاکار ہے اگر جلتے ہوئے گھروں کو بجھانے سے رکھ غرض ہر گام پر بلند عزائم کا دے سبق آندھی میں بھی چراغ جلانے سے رکھ غرض لازم نہیں کہ ہر کوئی ہو جائے متفق مخلصؔ تو فن کے موتی لٹانے سے رکھ غرض
bichhDe hue dilon ko milaane se rakh gharaz
بجلیوں کو پالا ہے میں نے اک زمانے سے روشنی نکلتی ہے میرے آشیانے سے جانتا ہوں اس کو میں ہے وہ مصلحت اندیش ہاتھ تو ملا لے گا دل رہا ملانے سے کس قدر یہ بہتر ہے قول اہل دانش کا جرم اور بڑھتے ہیں جرم کے چھپانے سے یہ حدیث بھی دیکھو حق ہے ہر زمانے میں عمر گھٹتی جاتی ہے جھوٹی قسمیں کھانے سے کتنی ہی بلندی پر بیٹھ جائیں گدھ سارے عالی ہو نہیں جاتے اونچی کرسی پانے سے ذہن اہل دانش میں پائی ہے جگہ مخلصؔ ہر ادب کی محفل میں صرف آنے جانے سے
bijliyon ko paalaa hai main ne ik zamaane se
گوشۂ گل ہی نہیں باغ تھا مسکن اپنا جب سے آزاد ہوئے گھر ہوا مدفن اپنا فکر و آلام کے سائے سے بہت دور تھا یہ یاد کیونکر نہ ہمیں آئے گا بچپن اپنا یہ زر و مال یہ دنیا کی تمنا یہ ہوس ان میں ہر کوئی ہے تا حشر ہی دشمن اپنا غنچہ و گل میں تبسم ہی تبسم دیکھا ڈالی ڈالی پہ نظر آیا ہے بچپن اپنا لطف لیتے ہوئے زخمی سے مسیحا نے کہا قابل دید ہے ہر زخم کا جوبن اپنا اپنے اسلاف کے اجداد بھی ہیں دفن یہاں کیوں نہ ہو جان سے پیارا ہمیں گلشن اپنا ہے یقیں خون شہیدوں کا ہے اس مٹی میں تب ہی خوشبو سے بھرا پھولوں نے دامن اپنا ہم بھی افلاک نشینوں میں ہیں شامل مخلصؔ کیوں نہ چمکے گا ستاروں کی طرح فن اپنا
gosha-e-gul hi nahin baagh thaa maskan apnaa
تیرگی روشنی سے شرمندہ آدمی آدمی سے شرمندہ آپ کیوں ہیں ابھی سے شرمندہ سوچ کر ان کہی سے شرمندہ ذکر احساں ہوا جو باتوں میں میرا محسن مجھی سے شرمندہ سبز پیڑوں کے بیچ اک پودا بے ثمر بیکلی سے شرمندہ ہوں سخی حاتموں کی بستی میں اپنی بد قسمتی سے شرمندہ میری ہستی چراغ کی بتی اپنی کم مائیگی سے شرمندہ دین مخلصؔ کو ہے مصورؔ کی کیوں رہے وہ کسی سے شرمندہ
tirgi raushni se sharminda
تو پائیدار عالم ناپائیدار میں باقی فنا نصیب ہیں اس خاک زار میں کیسے کہوں کیا حال ہوا خار زار میں دل کی پتنگ جب سے گئی دست یار میں اپنا سمجھ کے لیجے مجھے اعتبار میں لگ جائیں چار چاند تمہارے وقار میں دنیا بڑی حسین ہے معشوق کی طرح دے گی فریب لے کے تمہیں اعتبار میں تمہید باندھنے کا زمانہ گزر گیا مطلب کی کہیے وہ بھی مگر اختصار میں مخلص زمانے بھر کی ہوس ہو تو کس لیے جب کہ ممات و زیست نہیں اختیار میں
tu paaedaar aalam-e-naa-paaedaar mein
ہے کون جو بتائے تمہارا ہے گھر کہاں ڈھونڈے گی تم کو شمس و قمر کی نظر کہاں رکنا پڑے گا راہ میں اے ہم سفر کہاں کیا جانے اپنی شام کہاں اور سحر کہاں اے اہل کارواں یہ تمہیں ہے خبر کہاں منزل کدھر ہے لے کے چلا راہبر کہاں پروانہ صدقے ہونے لگا شمع پر مگر معراج عشق کیا ہے اسے یہ خبر کہاں اک ساتھ کہہ اٹھے ہیں سبھی بزم ناز میں عالم میں کوئی اور سہی تو مگر کہاں ہم کو صنم کے حسن میں حسن خدا ملا پھر یہ بتاؤ ہم سا کوئی دیدہ ور کہاں دیوانہ کہہ رہا ہے بگولوں کو دیکھ کر پھرنے لگی بہار چمن چھوڑ کر کہاں ہم تو چلیں گے ساتھ زمانے کے عمر بھر چلتا ہے اپنے ساتھ زمانہ مگر کہاں مخلصؔ ہوس کو چھوڑ دو میرا ہے مشورہ دیکھا ہے آپ نے یہ شجر بارور کہاں
hai kaun jo bataae tumhaaraa hai ghar kahaan





