SHAWORDS
Mumtaz Mirza

Mumtaz Mirza

Mumtaz Mirza

Mumtaz Mirza

poet
3Shayari
15Ghazal

Popular Shayari

3 total

Ghazalغزل

See all 15
غزل · Ghazal

بہت دعوے کیے ہیں آگہی نے نہیں سمجھا محبت کو کسی نے جبیں پر خاک کے ذرے نہیں ہیں ستارے چن دیے ہیں بندگی نے شکایت ہے انہیں بھی زندگی سے جنہیں سب کچھ دیا ہے زندگی نے صبا سے پوچھیے کیا گل کھلائے چمن میں ان کی آہستہ روی نے خدا غارت کرے دست ستم کو ابھی تو آنکھ کھولی تھی کلی نے مہ و انجم کو ضو بخشی ہے ممتازؔ ہمارے آنسوؤں کی روشنی نے

bahut daave kiye hain aagahi ne

غزل · Ghazal

زمانہ گزرا ہے طوفان غم اٹھائے ہوئے غزل کے پردے میں روداد دل سنائے ہوئے ہمیں تھے جن سے گناہ وفا ہوا سرزد کھڑے ہیں دار کے سائے میں سر جھکائے ہوئے ہمارے دل کے سبھی راز فاش کرتے ہیں جھکی جھکی سی نظر ہونٹ کپکپائے ہوئے ہمارے دل کے اندھیروں کا غم نہ کر ہم دم ہمارے دم سے یہ رستے ہیں جگمگائے ہوئے شمار روز و شب و ماہ کس نے رکھا ہے ہزاروں سال ہوئے ان کو دل میں آئے ہوئے گزرتے رہتے ہیں نظروں سے ساری شب ممتازؔ ہزاروں قافلے یادوں کے سر جھکائے ہوئے

zamaana guzraa hai tufaan-e-gham uThaae hue

غزل · Ghazal

مرے نالوں میں اتنا تو اثر ہے شب غم ہے مگر کچھ مختصر ہے امیدیں لائے تھے غم لے کے اٹھے یہ روداد حیات مختصر ہے نہیں ہے دور کچھ منزل ہماری زمانہ راہ میں حائل مگر ہے اسیروں کو رہائی مل تو جائے مگر شرط شکست بال و پر ہے وہ راہیں جن کو سونا کر گئے وہ انہیں پر آج تک میری نظر ہے جہاں تم ہو وہاں ہیں لالہ و گل جہاں ہم ہیں وہاں برق و شرر ہے بدل ڈالا ہے جس نے میرا عالم کسی کی اک نگاہ مختصر ہے الٰہی خیر میرے آشیاں کی صبا کے ساتھ پھر موج شرر ہے مہ و خورشید کو سمجھا ہے منزل خدایا کس قدر عاجز بشر ہے

mire naalon mein itnaa to asar hai

غزل · Ghazal

پلکوں پہ کچھ چراغ فروزاں ہوئے تو ہیں اس زندگی کے مرحلے آساں ہوئے تو ہیں میری جبیں نے جن کو نوازا تھا کل تلک وہ ذرے آج مہر درخشاں ہوئے تو ہیں نادم بھی ہوں گے اپنی جفاؤں پہ ایک دن وہ کم نگاہیوں پہ پشیماں ہوئے تو ہیں شمع وفا جلاتے ہیں ظلمت کدوں میں جو وہ لوگ اس جہاں میں پریشاں ہوئے تو ہیں کس موج خوں سے گزرے ہیں ممتازؔ کیا کہیں کہنے کو آج ہم بھی غزل خواں ہوئے تو ہیں

palkon pe kuchh charaagh farozaan hue to hain

غزل · Ghazal

رنگ کچھ شوخ سے تصویر میں بھر کر دیکھو زندگی شوخ ہے اس شوخ پہ مر کر دیکھو ایک پل کے لیے ممتازؔ ٹھہر کر دیکھو دل کی جانب بھی ذرا ایک نظر کر دیکھو اپنی ہستی کا صنم توڑو تو پاؤ گے نجات ریت کے ذروں کی مانند بکھر کر دیکھو کتنا پیارا ہے جہاں کتنی حسیں ہے یہ حیات یاس و اندوہ کے دریا سے گزر کر دیکھو لب ساحل پہ تو ممتازؔ نہ مل پایا سکوں سیل طوفان حوادث سے گزر کر دیکھو

rang kuchh shokh se tasvir mein bhar kar dekho

غزل · Ghazal

لائی بہار شوق کے ساماں نئے نئے دنیا نئی نئی سی دل و جاں نئے نئے ساقی کی اک نگاہ نے بخشی حیات نو دل میں مچل گئے مرے ارماں نئے نئے ہر آن طرز نو سے ستائے ہے آسماں میرے لیے ستم کے ہیں عنواں نئے نئے بربادیوں کا اپنے نشیمن کی غم نہیں تعمیر ہو رہے ہیں گلستاں نئے نئے فصل بہار آئی مبارک ہو اے جنوں دامن نئے نئے ہیں گریباں نئے نئے اس چشم نیم باز کی وہ کم نگاہیاں دل میں اتر گئے مرے پیکاں نئے نئے مسجد میں بھی فسانہ بتوں کا جناب شیخ شاید ہوئے ہیں آپ مسلماں نئے نئے ممتازؔ اک چراغ سر رہ گزر سہی ہوں گے چراغ اس سے فروزاں نئے نئے

laai bahaar shauq ke saamaan nae nae

Similar Poets