SHAWORDS
Muneer Ahmad Jami

Muneer Ahmad Jami

Muneer Ahmad Jami

Muneer Ahmad Jami

poet
1Shayari
12Ghazal

Popular Shayari

1 total

Ghazalغزل

See all 12
غزل · Ghazal

منت کش علاج مسیحا نہیں رہا کیا غم اگر مرض سے افاقہ نہیں رہا کثرت میں امتیاز ہے وحدت میں کچھ نہیں قطرہ ملا جو بحر میں قطرہ نہیں رہا دل میں تو جلوہ گر ہیں نگاہوں سے دور ہیں پردے کی بات یہ ہے کہ پردہ نہیں رہا جو بھی رہا عمل کے نتائج سے بے نیاز ہرگز وہ نا مراد تمنا نہیں رہا جس میں خودی نہیں اسے جینے کا حق نہیں یکساں ہے وہ جہاں میں رہا یا نہیں رہا ہاں آسمان غم مجھے اہل زمیں کہیں کب تار اشک رشک ثریا نہیں رہا ذائقؔ اگر ہو کہنی تو کہئے مفید بات ہرزہ سرائیوں کا زمانہ نہیں رہا

minnat-kash-e-ilaaj-e-masihaa nahin rahaa

غزل · Ghazal

جلوہ بہ جلوہ سامنے آتا ہے کوئی اور لحظہ بہ لحظہ مجھ کو لبھاتا ہے کوئی اور پردہ میں پھول جلوہ دکھاتا ہے کوئی اور رنگ اپنا رنگ و بو میں جماتا ہے کوئی اور کیسا غرور حسن کہاں کا نیاز عشق دنیا کو ان کے کھیل دکھاتا ہے کوئی اور میں جانتا ہوں شیخ و برہمن کی دوڑ دھوپ رستہ بتا کے ان کو پھراتا ہے کوئی اور بے خود ہے دل خیال میں ایک مست ناز کے پیتا ہے کوئی اور پلاتا ہے کوئی اور طوطی کی طرح آئنۂ کائنات میں کہتا ہوں وہ جو پیچھے سکھاتا ہے کوئی اور ذائقؔ ستم ظریفیٔ دور زماں کو دیکھ دولت کسی کی عیش اڑاتا ہے کوئی اور

jalva-ba-jalva saamne aataa hai koi aur

غزل · Ghazal

وہ آ رہے ہیں حسن خود آرا لئے ہوئے ہے ذرہ ذرہ بخت ثریا لئے ہوئے جوش الم دروغ خمار نشاط جھوٹ تیرا ہی وہم ہے یہ تماشا لئے ہوئے ان کا حریم ناز ہے غارت گر حواس لوٹا ہے کون قلب شکیبا لئے ہوئے بے خود نہ کیوں کسی کے تصور میں ہم رہیں ہر ہر نفس ہے ساغر صہبا لئے ہوئے موجوں کا جوش دیتا ہے طوفان کی خبر امروز ہے حقیقت فردا لئے ہوئے باغ جہاں کی سیر کو ذوق نظر ہے شرط نرگس نہ بن تو دیدۂ بینا لئے ہوئے ذائقؔ چھپائے رکھتا ہوں یوں دل میں راز دوست جیسے صدف میں گوہر یکتا لئے ہوئے

vo aa rahe hain husn-e-khud-aaraa liye hue

غزل · Ghazal

زندگانی حباب کی سی ہے ہست و بود اپنی خواب کی سی ہے ہے ہر اک سانس اک ورق جیسا زیست اپنی کتاب کی سی ہے ان کی مستانہ انکھڑیاں توبہ کوئی دوکاں شراب کی سی ہے تشنہ کام ہوس تو کیا جانے ارے دنیا سراب کی سی ہے چاک ذاتی کا عیب بھی ہے کمال کیا قبا بھی گلاب کی سی ہے چھیڑ مجھ کو کو راز دل سن لو میری حالت رباب کی سی ہے حدت ناز غم معاذ اللہ دل کی حالت کباب کی سی ہے دشمن ہوش ہے شباب کا دور اس میں مستی شراب کی سی ہے کیوں نہ خونریزیاں ہوں دنیا میں آمد اک انقلاب کی سی ہے عشق میں تیرے تلخئ غم بھی مجھ کو اک شہد ناب کی سی ہے زیست میں مرگ ہے تو مرگ میں زیست حالت اک موج آب کی سی ہے صفت و ذات ایک ہیں دراصل نسبت آب و حباب کی سی ہے بخشش اہل کرم کی اے ذائقؔ تابش آفتاب کی سی ہے

zindagaani habaab ki si hai

غزل · Ghazal

دل میں اپنے حسن عالمگیر دیکھ آئنے میں یار کی تصویر دیکھ کہہ رہے ہیں وہ بنا کر زلف کو مجرمان عشق کی زنجیر دیکھ تجھ کو آنا ہی پڑا تھا لے جگر دیکھ میری آہ کی تاثیر دیکھ خط پیشانی کا بھی مٹتا ہے کہیں خامۂ بے دست کی تحریر دیکھ ان کے دیوانوں میں ہم بھی جا ملے مل گئی زنجیر سے زنجیر دیکھ ان کے زیر حکم ساری کائنات کیسی ہے یہ قید بے زنجیر دیکھ دیکھ ہی لینا ہے ذائقؔ کو اگر ہر غزل ہے اس کی اک تصویر دیکھ

dil mein apne husn-e-aalamgir dekh

غزل · Ghazal

سرسراہٹ درد کی رستے ہوئے زخموں کی گونج زندگی میں ڈھل گئی ہے فکر کے لمحوں کی گونج بٹ گئی ہے شدت احساس غم کی بازگشت ٹپٹپائے دیدۂ پر آب سے اشکوں کی گونج روح کی چیخیں بدن میں بہر تصدیق حیات اور توثیق نوائے دل تری یادوں کی گونج نور کا قطرہ کوئی ٹپکے اندھیری رات میں دل کے سناٹے میں ابھری یوں ترے قدموں کی گونج میرا فن گویا ہے جامیؔ روشنی کا ہم سفر میری غزلوں میں نہاں ہے روح کے زخموں کی گونج

sarsaraahaT dard ki riste hue zakhmon ki guunj

Similar Poets