kabhi thi vo ghusse ki chitvan qayaamat
kabhi aajizi se manaanaa kisi kaa

Murli Dhar Shad
Murli Dhar Shad
Murli Dhar Shad
Popular Shayari
1 totalGhazalغزل
دوست بن کر وہ دلستاں نہ رہا چار دن بھی تو مہرباں نہ رہا دل کے دم سے تھا حسرتوں کا ہجوم اب وہ سالار کارواں نہ رہا کیا حسینوں نے ظلم چھوڑ دیا دل میں کیوں درد کا نشاں نہ رہا کعبہ میں دیر میں کلیسا میں ذکر اس کا کہاں کہاں نہ رہا دل میں میرے وہ چھپ کے بیٹھ گئے جب کوئی ان کا پاسباں نہ رہا مجھ سے گر روٹھ کر گیا کوئی بے وفائی کا بھی گماں نہ رہا آپ کے ظلم بھی خوشی سے سہے شادؔ کس روز شادماں نہ رہا
dost ban kar vo dilsitaan na rahaa
منہ ترا کیوں آج زور ناتوانی پھر گیا اس کے آتے ہی مرے چہرے پہ پانی پھر گیا بھول کر عاشق تمہارا جا رہا تھا طور پر دور سے سن کر صدائے لن ترانی پھر گیا ذلت و رسوائی کی حد بھی ہے کوئی ڈوب مر اے دل ناکام اب تو سر پہ پانی پھر گیا اس کے آگے تو نے پھیلایا اگر دست سوال یاد رکھ اے دل سلوک مہربانی پھر گیا دل مٹایا تیری خاطر جان کی پروا نہ کی کس لیے تو ہم سے اے عہد جوانی پھر گیا بے ستوں کو کاٹ کر لایا تھا ظالم جوئے شیر کوہ کن کی حسرتوں پر پھر بھی پانی پھر گیا پتیاں پژمردہ پھولوں کی چمن میں دیکھ کر سامنے آنکھوں کے دور عیش فانی پھر گیا کل کھلی تھی جو کلی ہے آج مرجھائی ہوئی میری نظروں میں مآل زندگانی پھر گیا بوالہوس کا منہ ہو کالا کان میں کیا کہہ دیا آپ کے چہرے پہ رنگ ارغوانی پھر گیا برق بن کر آج وہ محفل میں آئے اس طرح میری آنکھوں میں مرا عہد جوانی پھر گیا بھر کے ساقی نے دیا جام شراب ارغواں شادؔ کے چہرے پہ رنگ شادمانی پھر گیا
munh tiraa kyuun aaj zor-e-naa-tavaani phir gayaa
بس یہی تو مدعا ہے آپ کے ارشاد کا شادؔ کس نے نام رکھا عاشق ناشاد کا لیجئے حاضر ہے نذرانہ دل ناشاد کا ٹالنا آساں نہ تھا کچھ آپ کے ارشاد کا برق سمجھا ہے جسے سارا زمانہ دیکھیے آسماں پر چڑھ گیا لچھا مری فریاد کا حشر سے عشق نہاں کی اور شہرت ہو گئی ایک عالم قصہ خواں نکلا مری روداد کا بے تعلق ہو کے رہنا باغ عالم میں محال پا بہ گل ہونا تو دیکھو سرو سے آزاد کا باغباں صیاد گلچیں سب کے سب دیکھا کئے آشیاں اجڑا کیا اک خانماں برباد کا ترک الفت پر جو میں زندہ رہا گھبرا گئے ڈھونڈتے ہیں اب نیا پہلو کوئی بیداد کا ذکر دشمن پر مجھے جھٹلانے والے پھر تو کہہ تم ہو مضطر کیا بھروسہ ہے تمہاری یاد کا گرمئ داغ جگر سے موم ہو کر بہہ گیا تم اسی خنجر کو سمجھے تھے کہ ہے فولاد کا آنکھ سے کچھ ہو اشارہ کچھ تبسم لب پہ ہو شادؔ کرنا کچھ نہیں مشکل دل ناشاد کا تیری سب سنتے ہیں میری کوئی سنتا ہی نہیں کس سے روؤں جا کے اب دکھڑا تری بیداد کا شادؔ یکتائے جہاں ہے آپ کے سر کی قسم دیکھ لینا جانشیں ہوگا یہی استاد کا
bas yahi to mudda'aa hai aap ke irshaad kaa
پژمردہ دل ہے وصل کے ارماں کو کیا ہوا روتا ہوں میں بہار گلستاں کو کیا ہوا کب تک اڑاؤں ہجر میں دامن کی دھجیاں اے صبح تیرے چاک گریباں کو کیا ہوا بلبل کے چہچہے ہیں نہ کوئی شگفتہ پھول اے باغباں بہار گلستاں کو کیا ہوا دل چیر کر دکھانے کی شے ہو تو میں دکھاؤں فرقت کی رات صدمہ مری جاں کو کیا ہوا دشمن کا سوگ صاف ہے چہرے سے آشکار آئینہ دیکھ زلف پریشاں کو کیا ہوا بلبل ہے چپ فسردہ چمن لٹ گئی بہار میں نے کیا جو چاک گریباں کو کیا ہوا محو جمال ہو گئے آئینہ دیکھ کر تم کہہ رہے تھے نرگس حیراں کو کیا ہوا میں ان کو اس سوال کا اب کیا جواب دوں دامن کو آستیں کو گریباں کو کیا ہوا کانٹے ہزار دل میں ہیں کس کس کو روئیے پھولوں کو بلبلوں کو گلستاں کو کیا ہوا دل ٹکڑے ہو کے صبر کا دامن ہوا ہے چاک کس سے کہوں کہ چاک گریباں کو کیا ہوا الجھا ہوا ہے شادؔ کا دل بال کیا بنیں وہ کہہ رہے ہیں زلف پریشاں کو کیا ہوا
pazhmurda dil hai vasl ke armaan ko kyaa huaa
کب مٹائے سے مٹا رنج و صعوبت کا اثر ہے وطن میں بھی مرے چہرے پہ غربت کا اثر ہو چلا عشق مجازی پہ حقیقت کا اثر آ چلا مجھ کو نظر کثرت میں وحدت کا اثر ساری دنیا سے نہیں مجھ سے فقط بیزار تھے اور اس سے بڑھ کے کیا ہوتا محبت کا اثر بے وفا ان کا لقب ہے باوفا میرا خطاب وہ ہے طینت کی خرابی یہ ہے الفت کا اثر معجزہ دیکھا تصور کا تو آنکھیں کھل گئیں پا رہا ہوں آج میں جلوت میں خلوت کا اثر وہ پری سے حور بن جاتے یقینی بات تھی ان کی سیرت پر اگر پڑ جاتا صورت کا اثر ان پہ دل ہی آ گیا لے ہی گئے وہ میرا دل یہ تقاضا حسن کا تھا وہ شرارت کا اثر اک جگہ رہتا نہ تھا ٹک کر یہ عادت تھی مری کھینچ لایا خلد تک اب مجھ کو وحشت کا اثر خیر سے ملتے جو بد خونی ہے چہرے سے عیاں یہ مثل سچ ہے کہ ہو جاتا ہے صحبت کا اثر آپ کیا تھے ہو گئے کیا فیض سے استاد کے دیکھ لیجے شادؔ یہ ہوتا ہے نسبت کا اثر
kab miTaae se miTaa ranj-o-suubat kaa asar
نہ کوئی مہرباں اپنا نہ کوئی رازداں اپنا جسے سمجھے تھے اپنا دل وہ دل بھی اب کہاں اپنا جو ہو چشم کرم تیری جو ہو تو مہرباں اپنا زمیں اپنی فلک اپنا مکیں اپنے مکاں اپنا وہ لے کر آئنہ بیٹھے تھے لینے امتحاں اپنا کیا ہاتھوں سے اپنے دامن دل دھجیاں اپنا بھٹکتے پھر رہے ہیں جستجوئے یار میں اب تک کہیں ٹکنے نہیں دیتا ہمیں وہم و گماں اپنا جوانی میں کسے نیکی بدی کا ہوش ہوتا ہے جوانی میں نہیں کچھ سوجھتا سود و زیاں اپنا زمانے نے وہ کروٹ میری دنیا بدل ڈالی نہ اب ہے رازداں کوئی نہ کوئی مہرباں اپنا کسی کو یاد ہم آتے نہیں اس انجمن میں اب بحمداللہ ذکر خیر رہتا تھا جہاں اپنا وہ گل ہیں ہم گلستاں سے اڑے یوں بوئے گل بن کر نہ ڈھونڈے سے ملا گلچیں کو پھر نام و نشاں اپنا مزا استاد کے شعروں کا ہم کو شادؔ آتا ہے وہ ہے طرز سخن اپنی وہ ہے رنگ بیاں اپنا
na koi mehrbaan apnaa na koi raaz-daan apnaa





