miri nazar mein gae mausamon ke rang bhi hain
jo aane vaale hain un mausamon se Darnaa kyaa

Mushfiq Khwaja
Mushfiq Khwaja
Mushfiq Khwaja
Popular Shayari
7 totalye lamha lamha zinda rahne ki khvaahish kaa haasil hai
ki lahza lahza apne aap hi mein mar rahaa huun main
dil ek aur hazaar aazmaaishein gham ki
diyaa jalaa to thaa lekin havaa ki zad par thaa
bujhe hue dar-o-divaar dekhne vaalo
use bhi dekho jo ik umr yaan guzaar gayaa
ye haal hai mire divaar-o-dar ki vahshat kaa
ki mere hote hue bhi makaan khaali hai
nazar churaa ke vo guzraa qarib se lekin
nazar bachaa ke mujhe dekhtaa bhi jaataa thaa
hazaar baar khud apne makaan pe dastak di
ik ehtimaal mein jaise ki main hi andar thaa
Ghazalغزل
ہم پہ تنہائی میں کچھ ایسے بھی لمحے آئے بن گئے آپ کی تصویر ہمارے سائے درد سے کچھ عجب احوال تھا دل کا کل رات جیسے رونے کی کہیں دور سے آواز آئے ایک تیرا ہی تبسم تو نہ تھا وجہ سکوں میرے آنسو بھی محبت میں بہت کام آئے دل میں آباد امیدیں ہیں مگر کیسے نہ پوچھ دن ڈھلے جیسے درختوں کے ہوں لمبے سائے ہم کو اک عمر نہ جینے کا سلیقہ آیا ہم نے اک عمر تمناؤں کے دھوکے کھائے اپنی دنیا میں خوشی آئی تو ایسے آئی جیسے اک نقش بنے بنتے ہی پھر مٹ جائے
ham pe tanhaai mein kuchh aaise bhi lamhe aae
کام کچھ آ نہ سکی رسم شناسائی بھی شامل بزم تھی شاید مری تنہائی بھی کاش تو اپنی طلب میں کبھی پہنچے مجھ تک تیرا ہی آئنہ ہے چشم تماشائی بھی سہل مت سمجھو مرے شوق کی ناکامی کو مفت ملتی ہے کہیں عزت رسوائی بھی چشم بے خواب میں ہے خواب کی صورت اک شخص خود سے غافل بھی ہے اور محو خود آرائی بھی خیر میں تو اسی قابل تھا مگر یہ تو بتا زندگی کیا تو کسی کو کبھی راس آئی بھی
kaam kuchh aa na saki rasm-e-shanaasaai bhi
دہر کو لمحۂ موجود سے ہٹ کر دیکھیں نئی صبحیں نئی شامیں نئے منظر دیکھیں گھر کی دیواروں پہ تنہائی نے لکھے ہیں جو غم میرے غم خوار انہیں بھی کبھی پڑھ کر دیکھیں آپ ہی آپ یہ سوچیں کوئی آیا ہوگا اور پھر آپ ہی دروازے پہ جا کر دیکھیں کچھ عجب رنگ سے کٹتے ہیں شب و روز اپنے لوگ کیا کچھ نہ کہیں ہم کو جو آ کر دیکھیں
dahr ko lamha-e-maujud se haT kar dekhein
یہ کیا ضرور ہمیں کو وہ آزمائے گا ہر آنے والا مقدر بھی ساتھ لائے گا کسے خبر ہے کہ اس تیرہ خاکداں کے لئے ہے ایک دل ہی تو روشن سو ڈوب جائے گا کھلے دریچوں سے یوں جھانکتی ہے مایوسی کہ جیسے اب کوئی جھونکا ادھر نہ آئے گا اداس رات کی سرگوشیوں کے بعد اگر سحر جو آئی تو کس کو یقین آئے گا میں جس کے ماضی کا اک لمحۂ گریزاں ہوں یہ دیکھنا ہے وہ کیسے مجھے بھلائے گا ہزار خواب ہیں ان خود فریب آنکھوں میں بچھڑ کے بھی وہ یہاں سے کہیں نہ جائے گا یہ دن بھی آ گئے اب اپنے دل پہ بیتی ہوئی میں خود کہوں گا مجھی کو یقیں نہ آئے گا
ye kyaa zarur hamin ko vo aazmaaegaa
کوئی دل تو نہیں ہے کہ ٹھہر جائے گا وقت اک خواب رواں ہے سو گزر جائے گا ہر گزرتے ہوئے لمحے سے یہی خوف رہا حسرتوں سے مرے دامن کو یہ بھر جائے گا شدت غم سے ملا زیست کو مفہوم نیا ہم سمجھتے تھے کہ دل جینے سے بھر جائے گا چند لمحوں کی رفاقت ہی غنیمت ہے کہ پھر چند لمحوں میں یہ شیرازہ بکھر جائے گا اپنی یادوں کو سمیٹیں گے بچھڑنے والے کسے معلوم ہے پھر کون کدھر جائے گا یادیں رہ جائیں گی اور یادیں بھی ایسی جن کا زہر آنکھوں سے رگ و پے میں اتر جائے گا
koi dil to nahin hai ki Thahar jaaegaa
کیوں خلوت غم میں رہتے ہو کیوں گوشہ نشیں بے کار ہوئے آخر تمہیں صدمہ کیا پہنچا کیا سوچ کے خود آزار ہوئے کیوں صاف کشادہ رستوں پر تم ٹھوکریں کھاتے پھرتے ہو کیوں تیرہ و تار سی گلیوں میں تم ان کے خوش رفتار ہوئے کیا اٹھتے بیٹھتے سوچتے ہو کیا لکھتے پڑھتے رہتے ہو اس عمر میں یہ بے کیفی کیوں کس واسطے نیک اطوار ہوئے کیوں ایسے سفر پر نکلے ہو منزل نہیں جس کی کوئی بھی کیوں ایسی راہ پہ چلتے ہو سائے بھی جہاں دیوار ہوئے کیوں ترک علائق کو تم نے سمجھا ہے علاج غم آخر دیکھو تو ولی صوفی بھی یہاں کس ٹھاٹ کے دنیا دار ہوئے اس کلبۂ احزاں سے ہرگز ابھرے گا نہ سورج کوئی بھی کب خاک ستارہ بار ہوئی کب سائے سحر آثار ہوئے کب صبح کے نالے کام آئے کیا گریۂ نیم شبی سے ملا اس قریۂ خواب فروشاں میں تم کس کے لیے بیدار ہوئے
kyuun khalvat-e-gham mein rahte ho kyuun gosha-nashin bekaar hue





