SHAWORDS
Mushir Jhanjhanvi

Mushir Jhanjhanvi

Mushir Jhanjhanvi

Mushir Jhanjhanvi

poet
2Sher
2Shayari
17Ghazal

Sherشعر

Popular Sher & Shayari

4 total

Ghazalغزل

See all 17
غزل · Ghazal

dil betaab-e-marg-e-naa-gahaan baaqi na rah jaae

دل بیتاب مرگ ناگہاں باقی نہ رہ جائے محبت کا یہ نازک امتحاں باقی نہ رہ جائے سنبھل کر پھونک اے برق تپاں میرے نشیمن کو کہیں عجلت میں شاخ آشیاں باقی نہ رہ جائے مدد اے جوش گریہ خون دل شامل ہے اشکوں میں کوئی اس سلسلہ کی داستاں باقی نہ رہ جائے محبت کی حدیں اس عالم امکاں سے بالا ہیں کسی کی جستجو میں لا مکاں باقی نہ رہ جائے تری شان کرم پر کوئی حرف آئے معاذ اللہ کوئی مے خوار اے پیر مغاں باقی نہ رہ جائے مسافر عشق کی منزل سراپا راز ہوتی ہے کہیں چہرے پہ گرد کارواں باقی نہ رہ جائے نشیمن سے قفس تک سلسلہ ہو برق لرزاں کا یہ طرز جور بھی اے آسماں باقی نہ رہ جائے تمہارے سامنے آنسو بھی تھم تھم کر نکلتے ہیں میں ڈرتا ہوں کہیں یہ داستاں باقی نہ رہ جائے مشیرؔ اب ہر نظر میں ایک لطف خاص پاتا ہوں کوئی عشوہ نصیب دشمناں باقی نہ رہ جائے

غزل · Ghazal

dafn kar dijiye aakhir ye tamaasha kab tak

دفن کر دیجئے آخر یہ تماشہ کب تک ایک ہی لاش سے کھیلے گا زمانہ کب تک بندشیں وسعت دریا پہ لگانے والو رخ نہ بدلے گا یہ سمٹا ہوا دریا کب تک جو بھی ملتا ہے ترا دوست ہی ملتا ہے مجھے میں ترے شہر میں پھرتا رہوں تنہا کب تک قتل کرنے کے طریقے وہی قاتل بھی وہی اس تسلسل سے نہ گھبرائے گی دنیا کب تک معجزہ کوئی بھی ہو درد کے ماروں کے لیے آپ کہلائیں گے اس طرح مسیحا کب تک نقش پتھر پہ بناؤ تو کوئی بات بنے برف کی سل پہ تراشا ہوا چہرہ کب تک کوئی تسکین نظر کی بھی تو صورت نکلے صرف آواز سے بہلے گی یہ دنیا کب تک اب تو احباب یہ کہہ کہہ کے گزر جاتے ہیں ایک گرتی ہوئی دیوار کا سایہ کب تک وقت کی پردہ دری کا یہ تقاضا ہے مشیرؔ زیست کے رخ پہ روایات کا پردا کب تک

غزل · Ghazal

daaman bachaa ke shauq se ghussa utaariye

دامن بچا کے شوق سے غصہ اتاریے کیچڑ میں سانپ کو بھی نہ پتھر سے ماریے پھر کیجئے گا شکوۂ ملبوس زندگی پہلے خود اپنے جسم کی حالت سنواریے بہتر یہی ہے آپ جہاں ہیں وہیں رہیں ٹیلے پہ چڑھ کے قد کو نہ اپنے ابھاریے میں گر گیا تو آپ پہ الزام آئے گا اتنی بلندیوں سے مجھے مت پکاریے یوں لگ رہا ہے جیسے کوئی اجنبی ہوں میں اتنے تپاک سے تو نہ مجھ کو پکاریے ایسی ہی احتیاج اگر ہے تو اے مشیرؔ دامن کسی شریف کے آگے پساریے

غزل · Ghazal

nasib-e-ishq masarrat kabhi nahin hoti

نصیب عشق مسرت کبھی نہیں ہوتی یہ بزم وہ ہے جہاں روشنی نہیں ہوتی جبین عشق کے سجدے قبول ہوتے ہیں مزاج حسن میں جب برہمی نہیں ہوتی سمجھ چکے ہیں اسیری کو ہم پیام اجل کہ زندگی قفس زندگی نہیں ہوتی مرے بغیر انہیں کون جان سکتا ہے وہ یوں گزرتے ہیں آواز بھی نہیں ہوتی ترا ستم بھی تو ہے ایک پرسش خاموش تری نگاہ کبھی اجنبی نہیں ہوتی بڑھے چلو یہی وارفتگی کی منزل ہے رہ طلب میں کبھی شام ہی نہیں ہوتی دل ایک آتش خاموش ہی سہی لیکن تمہاری یاد میں کوئی کمی نہیں ہوتی مری نظر میں یقیناً وہ ننگ گلشن ہے امین راز چمن جو کلی نہیں ہوتی ملی ہے راہ طلب میں مشیرؔ صرف مجھے وہ زندگی جو کبھی زندگی نہیں ہوتی

غزل · Ghazal

mohabbat mein sahar ai dil baraae naam aati hai

محبت میں سحر اے دل برائے نام آتی ہے یہ وہ منزل ہے جس منزل میں اکثر شام آتی ہے سفینہ جس جگہ ڈوبا تھا میرا بحر الفت میں وہاں ہر موج اب تک لرزہ بر اندام آتی ہے نہ جانے کیوں دل غم آشنا کو دیکھ لیتا ہوں جہاں کانوں میں آواز شکست جام آتی ہے دل ناداں یہی رنگیں ادائیں لوٹ لیتی ہیں شفق کی سرخیوں ہی میں تو چھپ کر شام آتی ہے محبت نے ہر اک سے بے تعلق کر دیا مجھ کو تمہاری یاد بھی اب تو برائے نام آتی ہے نہ جانے کون سی محفل میں اب تم جلوہ فرما ہو نظر رہ رہ کے اٹھتی ہے مگر ناکام آتی ہے غم دوراں سے مل جاتی ہے تھوڑی دیر کو فرصت تصور میں جہاں اک جنت بے نام آتی ہے بدل سکتا ہوں اس کا رخ مگر یہ سوچ کر چپ ہوں تمہارا نام لے کر گردش ایام آتی ہے لرز اٹھتے ہیں کونین اے مشیرؔ انجام الفت پر جبین شوق اس کے در سے جب ناکام آتی ہے

غزل · Ghazal

meri nazar nazar mein hain manzar jale hue

میری نظر نظر میں ہیں منظر جلے ہوئے ابھریں گے حرف حرف سے پیکر جلے ہوئے شعلوں کا رقص آب رواں تک پہنچ گیا دریا پہ بہہ کے آئے ہیں چھپر جلے ہوئے ہر ذرہ اس زمین کا لو دے رہا ہے آج کل آپ کو ملیں گے سمندر جلے ہوئے مظلوم و بے قصور جنہیں کہہ رہے ہیں آپ نکلے ہیں ان کے گھر سے بھی خنجر جلے ہوئے آنکھوں کی اس جلن سے نا مل پائے گی نجات دیکھے ہیں میری آنکھوں نے منظر جلے ہوئے ڈرنے لگے ہیں آگ سے آتش پرست بھی دیکھے ہیں جب سے چاروں طرف سر جلے ہوئے بے خواب وحشتوں کو سلانے کے واسطے آراستہ ہیں آج بھی بستر جلے ہوئے

Similar Poets