haath jo kholaa to bachcha ro paDaa
band muTThi mein koi sikka na thaa

Mushtaq Sadaf
Mushtaq Sadaf
Mushtaq Sadaf
Popular Shayari
1 totalGhazalغزل
جب اچھے تھے دن رات کم یاد آئے برا وقت آیا تو ہم یاد آئے جو سمجھو محبت کی توہین ہے یہ ستم گر سے پہلے ستم یاد آئے زمانہ سے جب پڑ گیا واسطہ تو تری زلف کے پیچ و خم یاد آئے ملی جو محبت کے بدلے میں نفرت ہمیں اہل دنیا کے غم یاد آئے ہنسی آ گئی ان کی باتوں پہ یوں ہی وہ سمجھے کہ ان کے کرم یاد آئے جو ہنس کر کسی نے کسی سے کہا کچھ ہمیں بھی کسی کے ستم یاد آئے کبھی دل کو دل سے جو دیکھا بچھڑتے صدفؔ کو تمہارے کرم یاد آئے
jab achchhe the din raat kam yaad aae
درد کو درد کہو درد کے قابل ہو جاؤ ایسا بھی کیا ہے کہ خود دل ہی سے غافل ہو جاؤ تم کو طوفان سے لڑنا جو نہیں ہے منظور پھر تو بہتر ہے کہ کشتی نہیں ساحل ہو جاؤ امتحاں عشق میں ہونا ہے تو ہوگا وہ ضرور آگ کے کھیل میں پہلے ہی سے شامل ہو جاؤ اس سے پہلے کہ کسی اور کا میں ہو جاؤں میں تمہیں زہر دوں اور تم مرے قاتل ہو جاؤ لو چراغوں کی بڑھانے سے نہیں کچھ حاصل نور بن کے شب ظلمات پہ نازل ہو جاؤ سیکڑوں تجربے بے کار کیا کرتے ہو ہو مرے درد میں شامل تو مرا دل ہو جاؤ شور برپا ہے کہ نکلے ہو تلاش غم میں مخزن غم ہے مرا دل یہیں داخل ہو جاؤ احمقوں سے جو کبھی واسطہ پڑ جائے صدفؔ بات کرنے سے کہیں اچھا ہے جاہل ہو جاؤ
dard ko dard kaho dard ke qaabil ho jaao
کبھی انجانے میں جب بھی کسی کا دل دکھاتا ہوں تو پھر تنہائیوں میں بیٹھ کر آنسو بہاتا ہوں مجھے معلوم ہے منظر حسیں وہ ہو چکے دھندلے مگر کیوں روز آنکھوں میں وہی منظر بلاتا ہوں مری اس بات سے ناراض ہیں کچھ بستیوں والے خوشی گھر گھر لٹاتا ہوں مگر غم کیوں چھپاتا ہوں مری سانسوں کی قوت کا بہت مشکل ہے اندازہ میں پھونکوں سے چراغوں کو نہیں سورج بجھاتا ہوں مری فطرت ہے اپنے حافظے کو تازہ رکھنے کی میں اپنا حافظہ کمزور ہونے سے بچاتا ہوں
kabhi anjaane mein jab bhi kisi kaa dil dukhaataa huun
راز تک ذہن کو رسائی دے اور آنکھوں کو تو دکھائی دے راہ پہ دل رہے جوانی میں مجھ کو اس عمر میں سجھائی دے اصل چہرہ دکھائی دے تب نا اب کسے کون منہ دکھائی دے میں کہیں دیوتا نہ بن جاؤں میری سیرت میں کچھ برائی دے میرے حصہ میں عزت و شہرت اتنی دے غیر کو دکھائی دے شور میں تو بھی کیوں صدفؔ گم ہے اپنی آواز میں سنائی دے
raaz tak zehn ko rasaai de
ہم اپنی محبت کا تماشا نہیں کرتے کرتے ہیں اگر کچھ تو دکھاوا نہیں کرتے یہ سچ ہے کہ دنیا کی روش ٹھیک نہیں ہے کچھ ہم بھی تو دنیا کو گوارا نہیں کرتے اک بار تو مہمان بنیں گھر پہ ہمارے یہ ان سے گزارش ہے تقاضا نہیں کرتے دنیا کے جھمیلے ہی کچھ ایسے ہیں کہ ان کو ہم بھول تو جاتے ہیں بھلایا نہیں کرتے فردا پہ ہیں نظریں تو کبھی حال پہ نظریں ماضی کو مگر مڑ کے بھی دیکھا نہیں کرتے جن میں کہ بزرگوں کی کوئی قدر نہیں ہو ہم ایسے گھروں میں کبھی رشتہ نہیں کرتے بارش ہو کہ طوفان ہو یا آگ کا جنگل ہم گھر سے نکل جائیں تو سوچا نہیں کرتے جو خواب نظر آتا ہے سرسبز زمیں کا اس خواب کی تعبیر بتایا نہیں کرتے بازار میں بکتے نہیں وہ لوگ عموماً رشتوں کا جو اپنے کبھی سودا نہیں کرتے
ham apni mohabbat kaa tamaashaa nahin karte
رفتہ رفتہ ڈر جائیں گے قسطوں میں ہم مر جائیں گے میں نے چغلی کھائی تو پھر دشمن بھوکوں مر جائیں گے حکمت سے عاری منصوبے کتنوں کے در پر جائیں گے اندر ایسی خاموشی ہے سناٹے بھی ڈر جائیں گے حیوانوں سے بچ کر رہیے صحرا کو بھی چر جائیں گے
rafta rafta Dar jaaeinge





