"zindagi se mujhe ye gila rah gaya ik hunar mere andar daba rah gaya"

Muskan Syed Riaz
Muskan Syed Riaz
Muskan Syed Riaz
Sherشعر
Popular Sher & Shayari
4 total"raaz siine men hai kaghaz ke chhupaya koi harf likh likh ke ka.i baar miTaya koi"
zindagi se mujhe ye gila rah gayaa
ik hunar mere andar dabaa rah gayaa
raaz siine mein hai kaaghaz ke chhupaayaa koi
harf likh likh ke kai baar miTaayaa koi
Ghazalغزل
vo jo muddat ke baad aaya hai
وہ جو مدت کے بعد آیا ہے یاد ماضی بھی ساتھ لایا ہے میری بد حالیوں پہ خوش ہے جو کاش کہہ پاؤں وہ پرایا ہے میری پرچھائی غور سے دیکھو میرے اجداد کا ہی سایا ہے چاہے کٹ جائے سر جھکے گا نہیں ظرف کچھ ایسا ہم نے پایا ہے ہم تو خائف نہیں شہادت سے ہم نے کربل کو بھی سجایا ہے
yaa-ilaahi muraad bar aae
یا الٰہی مراد بر آئے آج مہمان کوئی گھر آئے جو مٹا دے دلوں کی تاریکی کوئی ایسی بھی تو سحر آئے اس لئے بھی بھلی ہے بے خبری کیا خبر آج کیا خبر آئے ابتدا ہو رہی ہے جس کی ابھی یا خدا راس وہ سفر آئے کیوں کرے چاہ پھر وہ منزل کی جس کے حصے حسیں ڈگر آئے
kar ke dushvaar yuun har ek qadam kaahe ko
کر کے دشوار یوں ہر ایک قدم کاہے کو ہم لئے پھرتے رہے بار حشم کاہے کو اشک سب اپنی روانی میں بہا لے جاتے خواب ہم دیکھتے بادیدۂ نم کاہے کو غم کی تاثیر میں تخفیف کیا کرتے ہیں کر کے نادان تماشائے الم کاہے کو قید اک خاک کے پتلے میں ہے اور نازاں ہے اس قدر روح کرے خود پہ ستم کاہے کو زعم خود پر ہو تو اس بات سے عبرت لیجو نیست و نابود ہوا باغ ارم کاہے کو ہو گئیں اب تو اندھیروں سے شناسا آنکھیں اب بھلا ان پہ اجالوں کا کرم کاہے کو وہ تو پت جھڑ کا تھا موسم اسے جانا ہی تھا کر دئے سارے شجر تم نے قلم کاہے کو دوڑ ہم جیت گئے اب کہو کیا کہتے ہو اپنی اوقات میں رہتے نہیں ہم کاہے کو
gham ke andhere chhaanTne chandaa bhi aaegaa
غم کے اندھیرے چھانٹنے چندا بھی آئے گا آنسو سنبھالنے مرے دریا بھی آئے گا رہتا نہیں ہے کوئی بھی گھٹنوں کے بل سدا اے طفل تجھ کو جلد ہی چلنا بھی آئے گا ہیں وقت کے مزاج میں تبدیلیاں جناب ہے آج یہ برا تو کل اچھا بھی آئے گا کاٹے گا سر جو ظلم کا جو حق کرے گا عام کوئی تو رہنما کبھی ایسا بھی آئے گا خاموشیاں ستائیں گی مسکانؔ جس گھڑی تب یاد تجھ کو یہ مرا شکوہ بھی آئے گا
nazzaara-e-dilkash kabhi dekhaa hi nahin hai
نظارۂ دل کش کبھی دیکھا ہی نہیں ہے آنکھوں میں کوئی عکس اترتا ہی نہیں ہے حیرت ہے کہ تم پر وہ عیاں ہو گیا کیسے قصہ جو کبھی ہم نے سنایا ہی نہیں ہے سو بار بہاروں نے کیا رخ مری جانب موسم یہ مرے دل کا بدلتا ہی نہیں ہے کیسے ہو پرکھ ایک کہانی سے کسی کی کردار کہانی میں سمٹتا ہی نہیں ہے ڈھلنا ہے جسے قوس قزح میں وہ کرن ہوں ڈر اپنے بکھر جانے کا لگتا ہی نہیں ہے وہ چاند تغیر سے کبھی باز نہ آیا تاریکئ شب کی اسے پروا ہی نہیں ہے
usi tarah hamein zikr-e-khudaa zaruri hai
اسی طرح ہمیں ذکر خدا ضروری ہے کہ جیسے جسم کو اچھی غذا ضروری ہے کچھ ایسے کھوئے تری ذات میں کہ بھول گئے نبھانا خود سے بھی عہد وفا ضروری ہے ہے اچھی بات طبیعت میں انکسار بھی ہو مگر مزاج میں تھوڑی انا ضروری ہے مرے طبیب نے مجھ کو دوا تو دی ہے ضرور شفا کے واسطے لیکن دعا ضروری ہے ہے منزلوں پہ پہنچنے کی جستجو تو ہمیں تمہارے جیسا کوئی نقش پا ضروری ہے





