"is shahar ka dastur hai rishton ka bhulana tajdid-e-marasim ke liye haath na bandhun"

Muzaffar Eraj
Muzaffar Eraj
Muzaffar Eraj
Sherشعر
Popular Sher & Shayari
2 totalis shahar kaa dastur hai rishton kaa bhulaanaa
tajdid-e-maraasim ke liye haath na baandhun
Ghazalغزل
vo bahut be-qaraar hai shaayad
وہ بہت بیقرار ہے شاید اس کو بھی انتظار ہے شاید نفرتیں سر سے پاؤں تک دیکھیں دل میں تھوڑا سا پیار ہے شاید کر کے طے مرحلے اداس تھا وہ جیب میں اس کی ہار ہے شاید زندگی آخری ٹھکانے پر قابل اعتبار ہے شاید غم بھی پھل پھولتا ہے آئے دن شجر سایہ دار ہے شاید میرے رونے پہ کوئی بات نہ کی آج وہ سوگوار ہے شاید گفتگو میں نہ مجھ سے جیت سکا اس لئے شرمسار ہے شاید جس کو دیکھوں وہ گرتا پڑتا ہے ہر طرف انتشار ہے شاید کج کلاہی تمہاری ایرجؔ جی باعث افتخار ہے شاید
tumhaare shahr mein jaane kahaan se utraa thaa
تمہارے شہر میں جانے کہاں سے اترا تھا کہ ان دنوں بھی کوئی اس کے دل میں بستا تھا میں جان بوجھ کے ہونے کو آیا تھا نیلام کسی نے تم کو بھی بولی لگاتے دیکھا تھا یہ حادثہ تھا کہ ایمان میں بھی لے آیا یہ سانحہ ہے کہ میں نے تمہیں کو پوجا تھا چرا کے لے گیا میرا سکون میرا قرار وہ برسوں ساتھ مرے گھر میں میرے رہتا تھا بلا سے چھین کے لے جائے زندگی میری میں مطمئن ہوں کہ میرا بھی کوئی اپنا تھا میں اس طرح سے بکا یوں لٹا پھر ایسا ہوا وہ اپنی طوطا کہانی سنانے آیا تھا اسے سدا ہی رہا زعم پارسائی کا اگرچہ اس کو درندوں نے روز نوچا تھا میں اپنی بے سر و سامانیاں چھپاؤں کیا وہ ہم سفر تھا مرا جس نے مجھ کو لوٹا تھا زباں سے زخم لگانے سے باز آ ایرجؔ یہ زخم مانا تجھے بار بار لگتا تھا
sulagti dhuup thi dasht-o-jabal the banjar the
سلگتی دھوپ تھی دشت و جبل تھے بنجر تھے جہاں جہاں سے بھی گزرے عجیب منظر تھے جو ماں کی کوکھ سے نکلے تری تلاش رہی لحد نصیب ہوئی جب بھی تیرے خوگر تھے بدل چکی ہے اچانک حرارت ارضی جوالا پھوٹ رہے ہیں جہاں سمندر تھے سراب جیسے گزاری ہے زندگی ہم نے کہ دور ہی سے لبھانے میں ہم ہنر ور تھے نہ بت تراشے نہ پوجے نہ توڑ ڈالے مگر کسی بھی شہر میں آئے بہ شکل آزر تھے ہماری موت سے پہلے ہی کتنے لوگوں نے ہمارے بارے میں لکھا تھا ہم گداگر تھے میں جن کے بیچ میں لیٹا تھا بے حس و حرکت لٹے پٹے تھے مسافر کٹے ہوئے سر تھے وہ دن کہ ماں کی دعائیں پناہ تھیں ایرجؔ کنول تھے رات کی رانی تھے ہم گل تر تھے
vo bahut be-qaraar hai shaayad
وہ بہت بے قرار ہے شاید اس کو بھی انتظار ہے شاید نفرتیں سر سے پاؤں تک دیکھیں دل میں تھوڑا سا پیار ہے شاید کر کے طے مرحلے اداس تھا وہ جیت میں اس کی ہار ہے شاید زندگی آخری ٹھکانے پر قابل اعتبار ہے شاید غم بھی پھل پھولتا ہے آئے دن شجر سایہ دار ہے شاید میرے رونے پہ کوئی بات نہ کی آج وہ سوگوار ہے شاید گفتگو میں نہ مجھ سے جیت سکا اس لئے شرمسار ہے شاید جس کو دیکھوں وہ گرتا پڑتا ہے ہر طرف انتشار ہے شاید کج کلاہی تمہاری ایرجؔ جی باعث افتخار ہے شاید
basaaein kitni bhi ham bastiyaan khalaaon mein
بسائیں کتنی بھی ہم بستیاں خلاؤں میں اٹھے ہیں خاک سے رہنا تو ہے سرابوں میں ہمیں نہ بور کرو صاحب ادا کہہ کر رہے ہیں ہم تو ہمیشہ ہی کج اداؤں میں نہ دھوپ مجھ کو گوارہ نہ چاند کی خوشبو مرا وجود بکھرتا نہ یوں ہواؤں میں دکھائی مجھ کو دیا تھا وہ چاند سا چہرہ ستارہ آنکھیں مگر کھو گئیں کتابوں میں وہ لخت لخت تو اترا تھا خون میں ایرجؔ میں اس کی کھوج میں ہوں اپنے ہم نواؤں میں
shahr-e-be-saut mein amaan mil jaae
شہر بے صوت میں اماں مل جائے کوئی پتھر مری طرف ہی آئے اک فصیل ہوا نہ رنگ نہ روپ اک خیال خدا مجھے بہکائے میرا چہرہ اتارنے والو میری صورت کسے کسے بہلائے نیلا پیلا غبار تنہا پیڑ میرے آنگن میں چاند بھی گھبرائے کھڑکیاں اپنے جسم کی کھولو کیا عجب دھوپ شام تک آ جائے یخ زدہ منجمد کہر آلود کون چٹان سے پھسلنے پائے مضطرب رات چشم نم ایرجؔ پھول شبنم کو بھی لہو رلوائے





