"yaad jis ki liye hai dil 'nadim' duur ho kar bhi paas lagta hai"

Nadim Balkhi
Nadim Balkhi
Nadim Balkhi
Sherشعر
yaad jis ki liye hai dil 'nadim'
یاد جس کی لیے ہے دل نادمؔ دور ہو کر بھی پاس لگتا ہے
rang jin ka sabz hai vo kab girenge peD se
رنگ جن کا سبز ہے وہ کب گریں گے پیڑ سے دھوپ کی رت زرد پتے ہی اڑا لے جائے گی
vaz.a-dari ko oDh kar aksar
وضع داری کو اوڑھ کر اکثر آدمی بے لباس لگتا ہے
Popular Sher & Shayari
6 total"rang jin ka sabz hai vo kab girenge peD se dhuup ki rut zard patte hi uDa le ja.egi"
"vaz.a-dari ko oDh kar aksar aadmi be-libas lagta hai"
rang jin kaa sabz hai vo kab gireinge peD se
dhuup ki rut zard patte hi uDaa le jaaegi
yaad jis ki liye hai dil 'naadim'
duur ho kar bhi paas lagtaa hai
vaza-daari ko oDh kar aksar
aadmi be-libaas lagtaa hai
Ghazalغزل
mujhe jo duur se lagtaa thaa aab kaa dariyaa
مجھے جو دور سے لگتا تھا آب کا دریا گیا قریب تو پایا سراب کا دریا کبھی ثواب کے ساحل سے لگ نہیں سکتی وہ ناؤ جس کے لئے ہے عذاب کا دریا بظاہر آب رواں کا جو اک خزانہ ہے حقیقتاً ہے وہ دریا حباب کا دریا مطالعہ کی جو وادی سے ہو کے بہتا ہے وہ ہے مری نگہ انتخاب کا دریا پرند فکر کی پرواز جب ہوئی ہے بلند فلک سے عرش پہ اترا سحاب کا دریا حقیقتوں کے جو ساحل کو چھوڑ کر بھٹکے ملا ہے ان کو تصور میں خواب کا دریا سراب دشت میں پیاسوں کے واسطے نادمؔ بہا دیا ہے سخاوت کے آب کا دریا
raah jis ne chali ghaafilon ki tarah
راہ جس نے چلی غافلوں کی طرح قتل بھی وہ ہوا بزدلوں کی طرح تیری یادیں تصور کو جب مل گئیں میری خلوت سجی محفلوں کی طرح ڈھونڈتے ہیں سرابوں میں کیا تشنہ لب دشت ہوتا نہیں ساحلوں کی طرح موم بن کر وہ ہرگز پگھلتے نہیں سختیوں میں جو دل ہیں سلوں کی طرح روغن اخلاص کا رنگ لانے لگا میں نچوڑا گیا جب تلوں کی طرح یہ ہے سچ تیری فرقت نے مہلت نہ دی شب گزاری مگر واصلوں کی طرح سر میں سودائے سر ہو اگر جان من مشکلیں بھی نہیں مشکلوں کی طرح کچھ جواب اہل دل کے سوالوں کا دیں بات کرتے ہیں جو عاقلوں کی طرح قربت ان کی فریب سفر دے گئی دور سے جو لگیں منزلوں کی طرح اک مقدس صحیفہ مری شاعری جس کو پڑھتے ہو تم ناولوں کی طرح میرے افکار نادمؔ تن آساں نہیں یوں تو لگتا ہوں میں کاہلوں کی طرح
aql par us ki gir paDaa patthar
عقل پر اس کی گر پڑا پتھر جس نے پارس کو کہہ دیا پتھر قصر شیشے کا جب ہوا تعمیر ہر طرف سے برس گیا پتھر سنگ مرمر وہ کیسے بن سکتا فطرتاً جو سیاہ تھا پتھر وہ بتوں کو خدا نہ کیوں سمجھے کام جس کا ہے پوجنا پتھر دل کو دل سے گزند یوں پہنچی ایک شیشہ تھا دوسرا پتھر آئنے کا نہیں محافظ وہ کام جس کا ہے مارنا پتھر موم ہوتا نہیں کبھی نادمؔ خوش نما ہو کہ بد نما پتھر
dekhi hai jo patjhaD ki fazaa soch rahaa huun
دیکھی ہے جو پت جھڑ کی فضا سوچ رہا ہوں انجام یہی ہوگا مرا سوچ رہا ہوں مانگوں تو وہ الٹا ہی اثر اپنا دکھائے کیا نام اسی کا ہے دعا سوچ رہا ہوں اغیار ہی کا ذکر فقط میں نے کیا تھا اپنے ہوئے کیوں مجھ سے خفا سوچ رہا ہوں انجام جو آغاز بہاراں سے ملا ہے کیا اس نے گلستاں کو دیا سوچ رہا ہوں برتاؤ ستم گر کا تو معلوم ہے لیکن کیا اہل محبت سے ملا سوچ رہا ہوں آغوش تغافل میں جو برسوں سے پڑا تھا ہشیار وہی کیسے ہوا سوچ رہا ہوں کیوں خود کو نہ پہچان سکا دیکھ کے نادمؔ آئینہ کے آگے میں کھڑا سوچ رہا ہوں
begaana-e-manzil vo nahin raahguzar mein
بیگانۂ منزل وہ نہیں راہ گزر میں جس کے لئے آرام ہے آلام سفر میں رکھے نہ بصیرت کا توازن جو نظر میں ڈھونڈے گا فقط عیب ہی وہ کار ہنر میں گرداب سے لڑتے ہیں جو گرداب کے گھر میں ساحل انہیں ملتا ہے سمندر کے سفر میں آئی ہیں تخیل کے دو آبہ سے ہوائیں طوفاں جو سبک سیر ہے دریائے ہنر میں یوں درد کا سورج مری رگ رگ میں سمایا گرمیٔ وفا پھیل گئی دل کے کھنڈر میں خلوت کو تری یاد کی پروائی جو بھائی پھولے ہوئے گلزار کا منظر ہے نظر میں ہر جنس گراں قدر کا احساس جنہیں ہے رکھتے ہیں وہی دل کا لہو دیدۂ تر میں غنچے جو غم ہجر کے موسم نے کھلائے مثل گل شاداب مہکتے ہیں جگر میں وہ لوگ اجالے کے نگہ دار کہاں ہیں صرف آیا نظر داغ جنہیں روئے قمر میں اے کشتۂ امید نہ جا پاس تو اس کے پتوں کے سوا کچھ بھی نہیں بانجھ شجر میں واللہ محبت کا بھرم ہے تو انہیں سے بد نام زمانہ جو ہیں دنیا کی نظر میں آشفتہ مزاجی کا بھی ساماں اسے کہیے وہ آتش خاموش جو خفتہ ہے شرر میں کچھ گرمیٔ بازار وفا ہے تو انہیں سے سودائے جنوں خیز لئے جو بھی ہیں سر میں ہشیار و خبردار سر راہ مسافر آسیب کا خطرہ بھی ہے پریوں کے نگر میں ظلمت ہی نہیں خانۂ افلاس میں نادمؔ اخلاص و شرافت کا اجالا بھی ہے گھر میں
ham ne dekhe ajab ajab gunge
ہم نے دیکھے عجب عجب گونگے تھی زباں تو مگر تھے سب گونگے کر شکایت نہ بے زبانوں کی نطق والے ہوئے ہیں جب گونگے حشر برپا ہے بیچ دریا میں دونوں ساحل ہیں لب بہ لب گونگے یہ عنایت ہے عہد حاضر کی سلسلہ ہائے روز و شب گونگے بے ادب ہوں زباں دراز اگر ہو ہی جاتے ہیں با ادب گونگے زود گوئی میں جو ہوئے بدنام بن کے بیٹھے ہوئے ہیں اب گونگے ان کو پانی کوئی نہیں دیتا جو بھی نادمؔ ہیں تشنہ لب گونگے





