"main ruk gaya chaDhi hui naddi ke samne kuchh vaqt mere paas tha barsat ke liye"
Naseem Abbasi
Naseem Abbasi
Naseem Abbasi
Sherشعر
Popular Sher & Shayari
2 totalmain ruk gayaa chaDhi hui naddi ke saamne
kuchh vaqt mere paas thaa barsaat ke liye
Ghazalغزل
dost ban kar bhi kahin ghaat lagaa sakti hai
دوست بن کر بھی کہیں گھات لگا سکتی ہے موت کا کیا ہے کسی روپ میں آ سکتی ہے ان مکانوں میں یہ دھڑکا سا لگا رہتا ہے اگلی بارش در و دیوار گرا سکتی ہے تیرا دن ہو کہ مری رات نہیں رک سکتے اپنے محور پہ زمیں خود کو گھما سکتی ہے ایسی ترتیب سے روشن ہیں تری محفل میں ایک ہی پھونک چراغوں کو بجھا سکتی ہے میرا فن میرے خد و خال پہ تقسیم ہوا میری بینی مری تصویر بنا سکتی ہے فطرتاً اس کی مہک چاروں طرف پھیلے گی پھول سے موج صبا شرط لگا سکتی ہے خوش نہ ہو اتنا کہ یوں روشنیاں پھوٹ پڑیں اس چکا چوند میں بینائی بھی جا سکتی ہے گدگداہٹ میں نسیمؔ اس نے نہیں سوچا تھا یہ ہنسی ٹوٹ کے بچے کو رلا سکتی ہے
jahaan jahaan bhi havas kaa ye jaanvar jaae
جہاں جہاں بھی ہوس کا یہ جانور جائے دلوں سے مہر و محبت کی فصل چر جائے کھلے ہیں اونچی حویلی کے پالتو کتے فقیر راہ ذرا دیکھ بھال کر جائے وہیں سے ہوں میں جہاں سے دکھائی دیتا ہوں وہیں تلک ہوں جہاں تک مری نظر جائے ہے کوئی دیر سے اس پار منتظر میرا رکا ہوا ہوں کہ ندی ذرا اتر جائے وہ باد تند ہے ہر پیڑ کی یہ کوشش ہے ہوا کے ساتھ کوئی دوسرا شجر جائے حدود ذات سے آگے خداؤں کی حد ہے میں سوچتا ہوں اگر ذہن کام کر جائے بھری پڑی ہے عفونت سے انچ انچ زمیں اس ایک پھول کی خوشبو کدھر کدھر جائے ابھی تلک ترے رستے میں پل صراط پہ ہے گزرنے والا ضروری نہیں گزر جائے نسیمؔ گاؤں کی مسجد میں رات کاٹے گا اک اجنبی سا مسافر ہے کس کے گھر جائے
itnaa na ghuum raat ko phulon ki baas mein
اتنا نہ گھوم رات کو پھولوں کی باس میں سوئے پڑے ہیں چاروں طرف سانپ گھاس میں ہر سمت اس نے آتشی شیشے لگا دیے سڑکوں پہ لوگ آئے تھے کالے لباس میں گردش میں زندگی رہی افواہ کی طرح عمریں گزار دی گئیں خوف و ہراس میں اگلا نصاب نور بصیرت سے پڑھ لیا آنکھیں تو چھوڑ آئے تھے پہلی کلاس میں یہ اور بات زیر زمیں دفن ہو گئیں ورنہ جڑوں کا خون ہے پھل کی مٹھاس میں اب بار بار اس کی طرف دیکھتے ہو کیا اب صرف میری تشنہ لبی ہے گلاس میں منظر کسی طلسم کی زد میں نہ ہو نسیمؔ سرسوں کا رنگ دوڑ رہا ہے کپاس میں
chhoTe baDe bure bhale din raat ke liye
چھوٹے بڑے برے بھلے دن رات کے لیے ہر شے ہے صرف صورت حالات کے لیے موجود ہیں اس آئینہ خانہ میں ہر طرف میرے ہی عکس میری ملاقات کے لیے جو بات سوچنے کی ہے کب سوچتا ہوں میں کب سوچتا ہے کوئی میری ذات کے لیے پھرتی ہیں دل میں صورتیں قرب و جوار کی آباد ہے یہ شہر مضافات کے لیے چھوٹے سے پیڑ کی جڑیں جاتی ہیں دور دور صحرا میں رزق ڈھونڈنے ہر پات کے لیے میں رک گیا چڑھی ہوئی ندی کے سامنے کچھ وقت میرے پاس تھا برسات کے لیے ہم لوگ ہیں سلیٹ پہ لکھے ہوئے نسیمؔ مٹنا پڑے گا اگلے سوالات کے لیے
vo mere zehn pe itnaa savaar ho gayaa thaa
وہ میرے ذہن پہ اتنا سوار ہو گیا تھا میں کم سنی میں جنوں کا شکار ہو گیا تھا کرے گا کون تری وسعتوں کا اندازہ جو ہم کنار ہوا بے کنار ہو گیا تھا تمام عمر پھر اپنی تلاش میں گزری میں اپنے آپ سے اک دن فرار ہو گیا تھا مجھے گنوا کے لیا دل نے سوجھ بوجھ سے کام فضول خرچ کفایت شعار ہو گیا تھا بھٹک رہا تھا کوئی سرپھری ہواؤں میں پھر اس کے بعد سپرد غبار ہو گیا تھا ملی تھی ماں کی غلامی سے یہ سرافرازی کہ بادشاہوں میں میرا شمار ہو گیا تھا مجھے بھی اچھے برے کی شناخت ہو گئی تھی نسیمؔ جن دنوں بے روزگار ہو گیا تھا
meraa tan sar se judaa karte hi bekal ho gayaa
میرا تن سر سے جدا کرتے ہی بے کل ہو گیا وہ ادھورا رہ گیا اور میں مکمل ہو گیا حسن کی تاویل میں بس اتنی تبدیلی ہوئی ٹاٹ کا ٹکڑا ترے شانوں پہ مخمل ہو گیا پہلے گہرے پانیوں میں اس کی بود و باش تھی اب ہوا کے دوش پر آیا تو بادل ہو گیا پھول کی اک ضرب سے آنسو نکل آئے مرے ایک ہلکی بات کا احساس بوجھل ہو گیا وقت کی نبضوں پہ اس کا ہاتھ بھی کمزور تھا سانس کی رفتار پر میں بھی مسلسل ہو گیا اس قدر مانوس تھی خلقت اندھیرے سے نسیمؔ روشنی پھوٹی تو سارا شہر پاگل ہو گیا





