SHAWORDS
Naseem Sahar

Naseem Sahar

Naseem Sahar

Naseem Sahar

poet
9Sher
9Shayari
13Ghazal

Sherشعر

See all 9

Popular Sher & Shayari

18 total

Ghazalغزل

See all 13
غزل · Ghazal

buund paani ko miraa shahr taras jaataa hai

بوند پانی کو مرا شہر ترس جاتا ہے اور بادل ہے کہ دریا پہ برس جاتا ہے آتشیں دھوپ سے ملتی ہے کبھی جس کو نمو وہی پودا کبھی بارش سے جھلس جاتا ہے راہ تشکیل وہ ارباب وفا نے کی تھی اب جہاں قافلۂ اہل ہوس جاتا ہے ہو چکی بوئے وفا شہر سے رخصت کب کی کوئی دن ہے کہ پھلوں میں سے بھی رس جاتا ہے آدمی پر وہ کڑا وقت بھی آتا ہے کہ جب سانس لینے پس دیوار قفس جاتا ہے تم بھرے شہر میں کس ڈھنگ سے رہتے ہو نسیمؔ گویا ویرانے میں جا کر کوئی بس جاتا ہے

غزل · Ghazal

ba-naam-e-amn-o-amaan kaun maaraa jaaegaa

بہ نام امن و اماں کون مارا جائے گا نہ جانے آج یہاں کون مارا جائے گا لیے ہوئے ہیں سبھی اپنا سر ہتھیلی پر کسے خبر ہے کہاں کون مارا جائے گا عجیب معرکہ برپا ہے، کچھ خبر ہی نہیں کسے ملے گی اماں کون مارا جائے گا نماز پڑھنے کی مہلت ملے، ملے نہ ملے! نہ جانے وقت اذاں کون مارا جائے گا جو تیر بھی ہے، اطاعت گزار ہے اس کا یہ جانتی ہے کماں کون مارا جائے گا کئے گئے ہیں جو اتنے حفاظتی اقدام یہ دیکھنا ہے یہاں کون مارا جائے گا کسی کے لب پہ نسیمؔ سحر دعا کیسی یہی ہے ورد زباں کون مارا جائے گا

غزل · Ghazal

dhuup se jism bachaae rakhnaa kitnaa mushkil hai

دھوپ سے جسم بچائے رکھنا کتنا مشکل ہے خود کو سائے سائے رکھنا کتنا مشکل ہے ظاہر میں جو رستہ سیدھا لگتا ہو اس پر اپنے پیر جمائے رکھنا کتنا مشکل ہے آوازوں کی بھیڑ میں اتنے شور شرابے میں اپنی بھی اک رائے رکھنا کتنا مشکل ہے ہم سے پوچھو ہم دل کو سمجھایا کرتے تھے وحشی کو سمجھائے رکھنا کتنا مشکل ہے صرف پرندے کو معلوم ہے تیز ہواؤں میں اپنے پر پھیلائے رکھنا کتنا مشکل ہے آج کی رات ہوائیں بے حد سرکش لگتی ہیں آج چراغ جلائے رکھنا کتنا مشکل ہے دوستیوں اور دشمنیوں کی زد میں رہ کے نسیمؔ اپنا آپ بچائے رکھنا کتنا مشکل ہے

غزل · Ghazal

koi to zehan ke dar par zarur dastak de

کوئی تو ذہن کے در پر ضرور دستک دے اگر شعور نہ دے لا شعور دستک دے طلوع صبح کا منظر عجیب ہوتا ہے جب آسماں سے صدائے طیور دستک دے اس انتظار میں ہے میرا قصر بے خوابی کہ کوئی نیند پری کوئی حور دستک دے فصیل شہر تمنا کی تیرگی بھی چھٹے کبھی تو اس پہ کوئی صبح نور دستک دے پھر ایک بار عذاب شکستگی سے گزر پھر اس کے در پہ دل ناصبور دستک دے انا کے خول سے نکلیں تو یوں بھی ممکن ہے در فقیر پہ دست غرور دستک دے ہم اور نور کی خیرات مانگنے جائیں ہمارے در پہ تو خود کوہ طور دستک دے مجھے غیاب کا عالم زیادہ راس آیا مگر کبھی کبھی شوق ظہور دستک دے حدود وقت کے دروازے منتظر ہیں نسیمؔ کہ تو یہ فاصلے کر کے عبور دستک دے

غزل · Ghazal

suraj ke ham-safar hain hamaari umang ye

سورج کے ہم سفر ہیں ہماری امنگ یہ اور سامنے ہمارے ہے کالی سرنگ یہ میری طرح یہ دل کے لہو میں نہائے ہیں بے وجہ تو نہیں ہے گلابوں کا رنگ یہ اس معرکے میں کام جو ہم آ گئے تو کیا جاری رہے گی بعد ہمارے بھی جنگ یہ اک لمس مل گیا تھا مجھے تیرے دھیان کا اب عمر بھر اترنے نہیں دوں گا رنگ یہ شرمندہ ہوں نہ دوست مضر اس لیے ہوں میں آتے ہیں دشمنوں کی طرف ہی سے سنگ یہ آئی ہوئی گرفت میں ہے گرد باد کی اب جنگلوں میں جا کے گرے گی پتنگ یہ رعنائیاں عجیب سی ہیں یاد یار میں خوشبو یہ خوشبوؤں میں ہے رنگوں میں رنگ یہ

غزل · Ghazal

makin thaa vo to mohabbat ki baargaah thaa dil

مکیں تھا وہ تو محبت کی بارگاہ تھا دل پھر اس کے بعد کوئی خانۂ تباہ تھا دل یہاں بھی آ کے غم یار نے ٹھکانہ کیا مرے لیے تو یہی اک پناہ گاہ تھا دل بضد اسی پہ تھا چلنا ہے کوئی جاناں کو جو میں نے راستہ بدلا تھا سد راہ تھا دل بنا لیا ہے اسے بھی حمایتی اس نے وگر نہ پہلے بڑا میرا خیر خواہ تھا دل ستم تو یہ ہے کہ اس کا ہی نام لیوا تھا جب اختیار میں میرے بھی گاہ گاہ تھا دل ملال ہوتا بھی کیا اس کے فیصلے پہ مجھے زمانہ ایک طرف تھا مرا گواہ تھا دل

Similar Poets