SHAWORDS
Nasim Zahid

Nasim Zahid

Nasim Zahid

Nasim Zahid

poet
20Sher
20Shayari
7Ghazal

Sherشعر

See all 20

Popular Sher & Shayari

40 total

Ghazalغزل

See all 7
غزل · Ghazal

ye baat alag hai na ho izhaar-e-tamannaa

یہ بات الگ ہے نہ ہو اظہار تمنا انساں ہے بہرحال گرفتار تمنا ہر چیز یہاں بکتی ہے جو چاہو خریدو واللہ بہت خوب ہے بازار‌ تمنا مٹکا ہے ادھر مے کا نشے کا ہے تسلط لٹکا ہے ادھر کوئی سر دار تمنا محرومیٔ قسمت کی سزا کاٹ رہا ہوں اقرار ہے مجھ کو ہوں گنہ گار تمنا مغرور حسینہ سی ہیں تکمیل کی راہیں لازم ہے بہت اونچا ہو معیار تمنا ہشیار ذرا آگے ہوس کا ہے علاقہ بہتر ہے یہیں روک لو رفتار تمنا

غزل · Ghazal

jo de e'zaaz kaj-adaai par

جو دے اعزاز کج ادائی پر لعنتیں ایسی رہنمائی پر شاخ سے ٹوٹ کے گرا اک پھول شعر میں نے کہا جدائی پر یہ مرا خواب ہے جمال افروز یا ستارہ ہے چارپائی پر مصلحت کا اسیر ہے یہ دیا کیسے بھڑکے دیا سلائی پر تہمت کفر ہو گئی قربان آج ایمان کی صفائی پر زندگی کی کتاب مشکل ہے ٹھیک سے دھیان دیں پڑھائی پر

غزل · Ghazal

jivan ho ji pe baar to hairat ki baat hai

جیون ہو جی پہ بار تو حیرت کی بات ہے دار الاماں ہو دار تو حیرت کی بات ہے فصل خزاں چبھے تو کوئی مسئلہ نہیں چبھنے لگے بہار تو حیرت کی بات ہے ٹھکرا کے جو فصیل محبت سے اڑ گیا ہے اس کا انتظار تو حیرت کی بات ہے کھانی تھی میں نے کھائی ہے اللہ کی قسم آئے نہ اعتبار تو حیرت کی بات ہے نفرت کے ساتھ کیجیے اب آتشیں سلوک یوں جل رہا ہے پیار تو حیرت کی بات ہے زاہدؔ انا کی راہ میں کھا کھا کے ٹھوکریں اترا نہیں خمار تو حیرت کی بات ہے

غزل · Ghazal

ai falak mujh ko mukarnaa hai mukar jaataa huun

اے فلک مجھ کو مکرنا ہے مکر جاتا ہوں اب زمیں کو مری حاجت ہے اتر جاتا ہوں روکنے والے مجھے روک نہیں پاتے ہیں میں تو دریا ہوں بہرحال گزر جاتا ہوں مجھ سے کہنے لگا الزام مجسم ہو کر میں تو اکثر کسی معصوم کے سر جاتا ہوں دھوپ نے ضرب لگائی ہے مجھے ایسی کہ میں چھاؤں سے آنکھ ملاتے ہوئے مر جاتا ہوں اے غزل حرمت دستار پہ حرف آئے گا میں اگر سرپھرے زردار کے گھر جاتا ہوں میں تو سونا ہوں نہیں اس میں کوئی شک لیکن ہجر میں دھول کی مانند بکھر جاتا ہوں اسقدر نور محبت ہے مری آنکھوں میں مجھ کو بس تو نظر آتا ہے جدھر جاتا ہوں صرف حکمت کے سبب ہوتا ہے ایسا زاہدؔ کون کہتا ہے کہ میں ڈر کے ٹھہر جاتا ہوں

غزل · Ghazal

hai khel ki taqdir kaa in'aam mire naam

ہے کھیل کہ تقدیر کا انعام مرے نام بھیجے ہے کوئی نامۂ بے نام مرے نام میرے لیے کچھ کرنے کا ارماں ہے تو اک دن کچھ دیپ جلا دینا سر شام مرے نام تھی راہ مسیحائی میں اعزاز کی امید آیا ہے مگر قتل کا الزام مرے نام انصاف کے میخانے میں ہم دونوں ہیں یکساں اک جام ترے نام تو اک جام مرے نام ہر شخص کو یہ خواہش ناکام ہے زاہدؔ جیون میں ہو آرام ہی آرام مرے نام

غزل · Ghazal

ye kis ne kah diyaa mujhe rahbar pasand hai

یہ کس نے کہہ دیا مجھے رہبر پسند ہے میں خوب جانتا ہوں کہ وہ شر پسند ہے پنسل ہے میرے ہاتھ میں کاغذ ہے سامنے بس یہ بتا دے کون سا منظر پسند ہے ساحل پہ اس کے پیار نے بنگلہ دیا اسے اس نے کہا تھا مجھ کو سمندر پسند ہے یہ ہے حیا کا حال کہ مغرور ہے زوال اب کیا سوال کون سا زیور پسند ہے پختہ مکان والوں کو برسات ہے پسند برسات کو مگر مرا چھپر پسند ہے زاہدؔ نے مجھ سے پوچھا تجھے کون ہے پسند میں نے کہا کہ اچھا سخنور پسند ہے

Similar Poets