"'nasiri' qabr pe ibrat ke liye likhva do tuul khincha hai yahan tak shab-e-tanha.i ne"

Nasiri Lakhnavi
Nasiri Lakhnavi
Nasiri Lakhnavi
Sherشعر
Popular Sher & Shayari
2 total'naasiri' qabr pe ibrat ke liye likhvaa do
tuul khinchaa hai yahaan tak shab-e-tanhaai ne
Ghazalغزل
yuun mubtalaa kisi pe koi ai khudaa na ho
یوں مبتلا کسی پہ کوئی اے خدا نہ ہو دل دے دیا ہو اور امید وفا نہ ہو تم بے نیاز ہو تو ہے قہر اس غریب پر جس کا بجز تمہارے کوئی آسرا نہ ہو محو خرام آپ ہیں بے چین اہل قبر مجھ کو یہ خوف ہے کہ قیامت بپا نہ ہو صدمے اٹھائے ہیں تو دعا ہے یہ ناصریؔ ان ظالموں پہ کوئی بشر مبتلا نہ ہو
yaad aati hai mujhe jab khush-bayaani aap ki
یاد آتی ہے مجھے جب خوش بیانی آپ کی کچھ نئے لفظوں میں کہتا ہوں کہانی آپ کی آپ نے پروا نہ کی میں قید ہستی سے چھٹا مہربانی ہو گئی نا مہربانی آپ کی قتل کی ضد ہے نزاکت سے نہیں اٹھتی ہے تیغ دیدنی ہے آج تو شان جوانی آپ کی جاننے والوں سے پردہ اس قدر بیکار ہے حسن ظاہر سب پہ اور یہ لن ترانی آپ کی مرنے والے کر کے آنکھیں بند قبروں میں گئے واہ وا کس شان سے آئی جوانی آپ کی داغ الفت اس لیے سینے میں رکھا ہے نہاں کوئی میرے پاس کیوں دیکھے نشانی آپ کی
jaan apni vaqf-e-zahmat-e-hijraan kiye hue
جاں اپنی وقف زحمت ہجراں کئے ہوئے عاشق ہر اک بلا کو ہیں مہماں کئے ہوئے سب منتشر ہیں میرے جنازے کو دیکھ کر تم ساتھ ہو جو حال پریشاں کئے ہوئے اب تو نفس کی آمد و شد بھی ہوئی ہے بند ایسی جگہ ہے سینے میں پیکاں کئے ہوئے کس واسطے یہ محویت آئینہ دیکھ کر کیوں آپ اک جہاں کو ہیں حیراں کئے ہوئے ہنگام احتزار ہے اے دم ذرا ٹھہر اس وقت ہوں تصور جاناں کئے ہوئے ان مشکلوں پہ سب کی تن آسانیاں فدا جن کو تری نگاہ ہو آساں کئے ہوئے مجمع کا خوف روز قیامت ہے ناصریؔ بیکار ہو وصال کا ارماں کئے ہوئے
dilbar kaa kyaa gila koi gham-khvaar bhi nahin
دلبر کا کیا گلہ کوئی غم خوار بھی نہیں پہلو میں آج تو دل بیمار بھی نہیں مرنا وہ جس کو حیلہ و آزار بھی نہیں قاتل وہ جس کے ہاتھ میں تلوار بھی نہیں تسکین دل محال ہے حالت کہے بغیر اس پر ستم کہ طاقت گفتار بھی نہیں محو جمال ہو کے مروں آرزو یہ ہے حالت یہ ہے کہ طاقت دیدار بھی نہیں اللہ رے اعتبار ادا و نگاہ پر مقتل میں آئے ہاتھ میں تلوار بھی نہیں
ik qayaamat hai bapaa shor-e-dil-e-dil-gir se
اک قیامت ہے بپا شور دل دلگیر سے اڑ گئے ٹکڑے فلک کے آہ کی تاثیر سے راز الفت کے عیاں ہونے کا ڈر جاتا رہا خامشی سیکھی ہے ہم نے بلبل تصویر سے چھیڑتا ہے کس لیے ناصح اسیر زلف کو دم الجھتا ہے تری الجھی ہوئی تقریر سے کس کا دل زخمی کیا تو نے ستم گر کیا کیا خوں ٹپکتا ہے لب سوفار و نوک تیر سے خوف کیا گر ہوگا مجمع روز حشر اے ناصریؔ میں اسے پہچان لوں گا خون دامن گیر سے
qurbaan hai sau jaan se tum par gila kaisaa
قربان ہے سو جان سے تم پر گلہ کیسا دیکھو تو مرے دل نے کیا حوصلہ کیسا ہوتا ہے مگر قید کوئی آپ کا وحشی سنیے تو ہے زنداں کی طرف غلغلہ کیسا ہاں شدت درد جگری بزم میں لائی دل مر گیا اے دوست تو پھر ولولہ کیسا تو نے تو کہا ہے میں رگ جاں سے قریں ہوں اور ہجر کا ہے قول کہ یہ فاصلہ کیسا مر جائے گا پابند وفا ظلم نہ چھوڑو میں قصۂ دل کہتا ہوں اے جاں گلہ کیسا





