subh-dam sehn-e-gulistaan mein sabaa ke jhonke
aatish-e-dard-e-mohabbat ko havaa dete hain
Nayyar Wasti
Nayyar Wasti
Nayyar Wasti
Popular Shayari
1 totalGhazalغزل
سوئے رات کو روتے روتے اٹھ بیٹھے پھر سوتے سوتے کاش وہ زیب بالیں ہوتے ہم چونک اٹھتے سوتے سوتے ختم ہوا افسانۂ ہستی ہنستے ہنستے روتے روتے بیت چلی برسات بھی آخر کاٹ دیں راتیں روتے روتے تیری یاد میں او پردیسی عمر گنوا دی روتے روتے سوکھ گئیں آشاؤں کی کلیاں فیض بہاراں ہوتے ہوتے شور ہے ہر سو نیرؔ نیرؔ ہو گئے چرچے ہوتے ہوتے
soe raat ko rote-rote
دل و نظر کے لئے لطف ناگہاں بن کر جوانی آئی تھی اک خواب رائیگاں بن کر وہ شاخ گل ہمیں اکثر قفس میں یاد آئی جو نذر برق ہوئی سقف آشیاں بن کر وہ گیت مطرب آتش نوا سنا مجھ کو جو آ سکے لب عشاق پر فغاں بن کر جو آج تک کسی اسلوب سے بیاں نہ ہوا وہ راز آج کھلا ان کی داستاں بن کر نہ رہنما ہے نہ منزل نہ راہ اے نیرؔ یہ لوگ چل دئے کس سمت کارواں بن کر
dil-o-nazar ke liye lutf-e-naa-gahaan ban kar
ہو چکی رسوائے عالم چاک دامانی مری اب چمن میں رنگ لائے گی غزل خوانی مری عشق کے انوار سے ہو جائیں گے دل تابناک انجمن افروز ہوگی شمع عرفانی مری چاک ہوں گے مرے سوز و ساز سے غنچوں کے دل گل کھلائے گی چمن میں نالہ سامانی مری بلبلوں کو یاد آ جائے گی روداد بہار دل کو تڑپائے گی اے نیرؔ غزل خوانی مری
ho chuki rusvaa-e-aalam chaak-daamaani miri
بہار صبح نے گل کو رلا کے چھوڑ دیا شراب ناب کو شبنم بنا کے چھوڑ دیا کوئی بتائے کہ اس ناخدا کو کیا کہیے سفینہ جس نے بھنور میں پھنسا کے چھوڑ دیا وہ سخت جاں ہوں کہ جب کامیاب ہو نہ سکی تری جفا نے مجھے آزما کے چھوڑ دیا تری نظر کی بہار آفرینیوں کے نثار کہ زخم دل کو گل تر بنا کے چھوڑ دیا ستم ہے تیری جفائے وفا نما کہ مجھے جفا و جور کا خوگر بنا کے چھوڑ دیا وہی ہے زمزمہ پیرا دلوں میں اے نیرؔ جسے نصیب نے شاعر بنا کے چھوڑ دیا
bahaar-e-subh ne gul ko rulaa ke chhoD diyaa
حیراں ہے آنکھ چشم عنایت کو کیا ہوا دنیا میں رسم و راہ محبت کو کیا ہوا مانا کہ شہر حسن میں جنس وفا نہیں لیکن جہاں میں عشق کی دولت کو کیا ہوا آتی ہے یاد روز خود آتی نہیں مگر یا رب ہماری شام مسرت کو کیا ہوا وقت وداع زرد ہوا رنگ رخ اگر رنگ و بہار عارض فطرت کو کیا ہوا تھی ہم کو عقل سے تو نہ پہلے ہی کچھ امید نیرؔ جنوں کے فیض و کرامت کو کیا ہوا
hairaan hai aankh chashm-e-inaayat ko kyaa huaa
جب نقاب رخ زیبا وہ اٹھا دیتے ہیں دل ہر ذرہ کو آئینہ بنا دیتے ہیں روح کو سوز دیا داغ جگر کو بخشا حضرت عشق عجب داد سخا دیتے ہیں صبح دم صحن گلستاں میں صبا کے جھونکے آتش درد محبت کو ہوا دیتے ہیں اب بھی اک غیرت ناہید کے نغمے اکثر عمر رفتہ کو مری مجھ سے ملا دیتے ہیں نیرؔ زار کی قسمت بھی جگاتے جاتے آپ سوئے ہوئے فتنے تو جگا دیتے ہیں
jab naqaab-e-rukh-e-zebaa vo uThaa dete hain





