SHAWORDS
N

Nizam Rampuri

Nizam Rampuri

Nizam Rampuri

poet
63Sher
63Shayari
20Ghazal

Sherشعر

See all 63

Popular Sher & Shayari

126 total

Ghazalغزل

See all 20
غزل · Ghazal

is qadar aap kaa itaab rahe

اس قدر آپ کا عتاب رہے دل کو میرے نہ اضطراب رہے نہ پٹی ان سے پیار کی میزان ہاں مگر رنج بے حساب رہے یوں شب وصل کا ہے عالم یاد جیسے برسوں کی یاد خواب رہے حال دل سن کے بول اٹھا قاصد یاد کس کو یہ سب کتاب رہے منتظر ہوں کسی کے آنے کا کس کی آنکھوں میں آ کے خواب رہے صبح کے اس حجاب نے مارا رات بھر ایسے بے حجاب رہے غیر کا منہ اور آپ سے باتیں ایسی باتوں سے اجتناب رہے ہم بھی مر کر عذاب سے چھوٹے آپ بھی داخل ثواب رہے ہائے وہ دن خدا نہ لائے یاد ہم سے روٹھے جو کچھ جناب رہے بحر ہستی سے کوچ ہے درپیش یاد منصوبۂ حباب رہے ایک دم کا یہاں توقف ہے خیمہ بے چوب بے طناب رہے کچھ نہ بن آئی اس کے آگے نظامؔ دو ہی باتوں میں لا جواب رہے

غزل · Ghazal

kahte hain sun ke maajraa meraa

کہتے ہیں سن کے ماجرا میرا تم سے کس روز ربط تھا میرا نامہ بر اس نے تو کہا سب کچھ تو نے بھی حال کچھ کہا میرا اب تو خواہاں وصال کا بھی نہیں کچھ عجب ہے معاملہ میرا اور کس کو سناتے ہو مجھ کو اور کس کا یہ ذکر تھا میرا یہ بھی کیا بات آئی اس دن کی یہ بھی کہیے قصور تھا میرا مجھ سے پھر پوچھنے سے کیا حاصل گر سمجھتے ہو مدعا میرا کچھ کسی بات کا خیال بھی ہے غیر کے سامنے گلا میرا دیکھ کر اس کا پھیرا لینا منہ اور حسرت سے دیکھنا میرا کچھ تو باعث ہے میرے آنے کا کچھ تو تم سے ہے واسطا میرا بے وفا کہتے ہیں سبھی تم کو کہیے اس میں قصور کیا میرا ایسی باتیں تو غیر کی ہوں گی آپ نے نام لے لیا میرا حال سن کے مرا نہ یہ تو کہہ ایک ہی حال ہے ترا میرا بے قراری سے شب کٹی ہوگی ایسا کس دن خیال تھا میرا کس نے بے تاب کر دیا مجھ کو کون آرام لے گیا میرا دم مرگ آ کے پوچھتے ہیں نظامؔ اب تو بخشا کہا سنا میرا

غزل · Ghazal

vo bigDe hain ruke baiThe hain jhunjlaate hain laDte hain

وہ بگڑے ہیں رکے بیٹھے ہیں جھنجلاتے ہیں لڑتے ہیں کبھی ہم جوڑتے ہیں ہاتھ گاہے پاؤں پڑتے ہیں گئے ہیں ہوش ایسے گر کہیں جانے کو اٹھتا ہوں تو جاتا ہوں ادھر کو اور ادھر کو پاؤں پڑتے ہیں ہمارا لے کے دل کیا ایک بوسہ بھی نہیں دیں گے وہ یوں دل میں تو راضی ہیں مگر ظاہر جھگڑتے ہیں جو تم کو اک شکایت ہے تو مجھ کو لاکھ شکوے ہیں لو آؤ مل بھی جاؤ یہ کہیں قصے نبڑتے ہیں ادھر وہ اور آئینہ ہے اور کاکل بنانا ہے ادھر وہم اور خاموشی ہے اور دل میں بگڑتے ہیں یہاں تو سب ہماری جاں کو ناصح بن کے آتے ہیں وہاں جاتے ہوئے دل چھٹتے ہیں دم اکھڑتے ہیں نہ دل میں گھر نہ جا محفل میں یاں بھی بیٹھنا مشکل ترے کوچے میں اب ظالم کب اپنے پاؤں گڑتے ہیں سحر کو روؤں یا ان کو مناؤں دل کو یا روکوں یہ قسمت وعدے کی شب جھگڑے سو سو آن پڑتے ہیں کبھی جھڑکی کبھی گالی کبھی کچھ ہے کبھی کچھ ہے بنے کیوں کر کہ سو سو بار اک دم میں بگڑتے ہیں نظامؔ ان کی خموشی میں بھی صد ہا لطف ہیں لیکن جو باتیں کرتے ہیں تو منہ سے گویا پھول جھڑتے ہیں

غزل · Ghazal

zaae nahin hoti kabhi tadbir kisi ki

ضائع نہیں ہوتی کبھی تدبیر کسی کی میری سی خدایا نہ ہو تقدیر کسی کی ناحق میں بگڑ جانے کی عادت یہ غضب ہے ثابت تو کیا کیجیے تقصیر کسی کی قاصد یہ زبانی تری باتیں تو سنی ہیں تب جانوں کہ لا دے مجھے تحریر کسی کی بے ساختہ پہروں ہی کہا کرتے ہیں کیا کیا ہم ہوتے ہیں اور ہوتی ہے تصویر کسی کی ایسی تو نظامؔ ان کی نہ عادت تھی وفا کی وہ جانے نہ جانے یہ ہے تاثیر کسی کی

غزل · Ghazal

kahne se na mana kar kahungaa

کہنے سے نہ منع کر کہوں گا تو میری نہ سن مگر کہوں گا تم آپ ہی آئے یوں ہی سچ ہے نالے کو نہ بے اثر کہوں گا گر کچھ بھی سنیں گے وہ شب وصل کیا کیا نہ میں تا سحر کہوں گا کہتے ہیں جو چاہتے ہیں دشمن میں اور تمہیں فتنہ گر کہوں گا کہتے تو یہ ہو کہ تو ہے اچھا مانو گے برا اگر کہوں گا یوں دیکھ کے مجھ کو مسکرانا پھر تم کو میں بے خبر کہوں گا اک بات لکھی ہے کیا ہی میں نے تجھ سے تو نہ نامہ بر کہوں گا کب تم تو کہو گے مجھ سے پوچھو میں باعث درد سر کہوں گا تجھ سے ہی چھپاؤں گا غم اپنا تجھ سے ہی کہوں گا گر کہوں گا معلوم ہے مجھ کو جو کہو گے میں تم سے بھی پیشتر کہوں گا حیرت سے کچھ ان سے کہہ سکوں گا بھولوں گا کا ادھر ادھر کہوں گا کچھ درد جگر کا ہوگا باعث کیوں تجھ سے میں چارہ گر کہوں گا اب حال نظامؔ کچھ نہ پوچھو غم ہوگا تمہیں بھی گر کہوں گا

غزل · Ghazal

kahiye gar rabt muddai se hai

کہیے گر ربط مدعی سے ہے کہتے ہیں دوستی تجھی سے ہے دیکھیے آگے آگے کیا کچھ ہو دل کی حرکت یہ کچھ ابھی سے ہے اس کی الفت میں جیتے جی مرنا فائدہ یہ بھی زندگی سے ہے ضد ہے گر ہے تو ہو سبھی کے ساتھ یا نہ ملنے کی ضد مجھی سے ہے خوف سے تم سے کہہ نہیں سکتے دل میں اک آرزو کبھی سے ہے مجھ سے پوچھو ہو کس سے الفت ہے تم سمجھتے نہیں کسی سے ہے رنجش غیر سے نہیں مطلب کام ہم کو تری خوشی سے ہے اس قدر آپ ہم پہ ظلم کریں اس کا انصاف آپ ہی سے ہے رشک دشمن نہ سہہ سکے گا نظامؔ یہ بھی ناچار اپنے جی سے ہے

Similar Poets