SHAWORDS
Noor Jahan Sarwat

Noor Jahan Sarwat

Noor Jahan Sarwat

Noor Jahan Sarwat

poet
2Shayari
5Ghazal

Popular Shayari

2 total

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

مرے ماضی کی وہ تصویر دکھاتا ہے مجھے آبگینوں کی قطاروں میں سجاتا ہے مجھے وقت کے بند دریچوں سے نہ جانے کیوں کر ایک جھونکا ہے ہوا کا کہ بلاتا ہے مجھے مدتیں گزریں بھلائے ہوئے اس کو لیکن ہاں خیال اب بھی کبھی آ کے ستاتا ہے مجھے اس کے ہاتھوں کا میں شہکار ہوں اب کیا کیجے سوکھی مٹی سے وہ فنکار بناتا ہے مجھے وادئ جاں ہے کہ سمٹا ہوا صحرا ثروتؔ کوئی سورج ہے کہ ذروں میں چھپاتا ہے مجھے

mire maazi ki vo tasvir dikhaataa hai mujhe

غزل · Ghazal

وہ وفا کیش تھا دل زخموں کا محشر نکلا حال اس کا تو مرے حال سے بد تر نکلا خوف اتنا تھا کہ خوابوں نے چرا لی آنکھیں ذہن کے بند دریچوں سے نہ منظر نکلا کرب تنہائی کا عالم تھا کہ رشتوں کا فریب عمر بھر گھر میں رہا پھر بھی وہ بے گھر نکلا میں نے سمجھا تھا محبت کا مسافر جس کو وہ بھی میری ہی طرح میل کا پتھر نکلا آگہی نے یہ عجب رنگ دکھایا ثروتؔ پیکر نور بھی ظلمت کا سمندر نکلا

vo vafaa-kesh thaa dil zakhmon kaa mahshar niklaa

غزل · Ghazal

تھی کتاب زیست ورق ورق کوئی سلسلہ ہی نہ مل سکا کسی ذات کا کسی نام سے کوئی رابطہ ہی نہ مل سکا کوئی خواب تھا کہ خیال تھا وہ سرور تھا کہ سراب تھا کھلی آنکھ دیکھا جو غور سے کوئی فیصلہ ہی نہ مل سکا نہ تھی دور منزل آرزو دل خوش گماں کا قصور کیا سر راہ ایسا غبار تھا ہمیں راستہ ہی نہ مل سکا عجب ابتدا ہوئی عشق کی کہ مزاج ایسا بدل گیا کہیں اور دل کو لگا سکیں ہمیں حوصلہ ہی نہ مل سکا کہو ثروتؔ اب بھی اکیلی ہو نئی راہ تم نے چنی تھی کیا کسی رہنما کا گلہ ہے یا کوئی قافلہ ہی نہ مل سکا

thi kitaab-e-zist varaq varaq koi silsila hi na mil sakaa

غزل · Ghazal

نسبت ہی کسی سے ہے نہ رکھتے ہیں حوالے ہاں ہم نے جلا ڈالے ہیں رشتوں کے قبالے بے روح ہیں الفاظ کہیں بھی تو کہیں کیا ہے کون جو معنی کے سمندر کو کھنگالے جس سمت بھی جاؤں میں بکھر جانے کا ڈر ہے اس خوف مسلسل سے مجھے کون نکالے میں دشت تمنا میں بس اک بار گئی تھی اس وقت سے رستے ہیں مرے پاؤں کے چھالے بے چہرہ سہی پھر بھی حقیقت ہے حقیقت سکہ تو نہیں ہے جو کوئی اس کو اچھالے ثروتؔ کو اندھیروں سے ڈرائے گا کوئی کیا وہ ساتھ لیے آئی ہے قدموں کے اجالے

nisbat hi kisi se hai na rakhte hain havaale

غزل · Ghazal

رفاقتوں نے دئے ہیں مجھ کو عداوتوں کے عتاب سارے مرے ہی دل پر ہوئے ہیں نازل محبتوں کے عذاب سارے خوشی کی محفل نہ راس آئی ہزار چاہا کہ مسکرائیں تپش سے غم کی جھلس گئے ہیں شگفتگی کے گلاب سارے یہی ہے تدبیر حسن گلشن عوض گلوں کے ملے ہیں کانٹے عجیب قسمت کا ہے کرشمہ گنہ بنے ہیں ثواب سارے غرور سے سر اٹھا رہے تھے وہ جشن ہستی منا رہے تھے ہوا نے کھینچا جب اپنا دامن ہوا ہوئے پھر حباب سارے وہ خوشبوؤں کا لباس پہنے ملا کچھ ایسے کہ ایک پل میں پڑے ہوئے تھے جو جسم و جاں پر اتر گئے وہ نقاب سارے سوال سادہ سا زندگی سے کیا تھا ہم نے بھی ایک ثروتؔ وہ پتھروں کی ہوئی ہے بارش کہ مل گئے ہیں جواب سارے

rafaaqaton ne diye hain mujh ko 'adaavaton ke 'itaab saare

Similar Poets