SHAWORDS
Parveen Kumar Ashk

Parveen Kumar Ashk

Parveen Kumar Ashk

Parveen Kumar Ashk

poet
5Sher
5Shayari
5Ghazal

Sherشعر

Popular Sher & Shayari

10 total

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

kisi basti kisi nagar jaao

کسی بستی کسی نگر جاؤ وہ نظر آئے گا جدھر جاؤ اس کا جی بھر چکا ہے پھولوں سے لے کے ہاتھوں میں اپنا سر جاؤ ہم ہیں آوارگان شہر حیات کون ہم سے کہے کہ گھر جاؤ وہ اسی راستے سے گزرے گا پھول بن کر یہیں بکھر جاؤ دل پہ پتھر میں رکھ کے اٹھ آیا کوئی کہتا رہا ٹھہر جاؤ کب تلک یوں جیو گے گھٹ گھٹ کے اس سے اچھا ہے اشکؔ مر جاؤ

غزل · Ghazal

ek na ik divaar sarakti rahti hai

ایک نہ اک دیوار سرکتی رہتی ہے گھر کی چھت ہر رت میں ٹپکتی رہتی ہے جسم مرا شہروں میں ہنستا گاتا ہے روح مری جنگل میں سسکتی رہتی ہے تتلی پیار کرے کاغذ کے پھولوں سے خوشبو صحراؤں میں بھٹکتی رہتی ہے بھیڑ میں بھی اک چاند چمکتا رہتا ہے شہر میں بھی پائل سی چھنکتی رہتی ہے چاروں اور کے خالی منظر میں ہر سانس آنکھ مری تری صورت تکتی رہتی ہے جنگ لڑے برسوں گزرے لیکن اب بھی سر پہ مرے تلوار چمکتی رہتی ہے برف تو دور پہاڑوں پر گرتی ہے اشکؔ آگ مری وادی میں دہکتی رہتی ہے

غزل · Ghazal

jo zindagi ke sab se hasin moD par milaa

جو زندگی کے سب سے حسیں موڑ پر ملا وہ شخص پھر نہ مجھ کو کبھی عمر بھر ملا غم کی ہر اک کتاب میں تھا درج میرا نام رکھا ہوا میں ہر در و دیوار پر ملا تلوار کی طرح تھی ہوا تیز راہ میں پتا بچا نہ ایک بھی ثابت شجر ملا لاکھوں کا قتل کر کے بھی وہ مطمئن نہ تھا آخر وہ اپنے خوں میں مجھے تر بہ تر ملا تو حال زندگی کا مری جان جائے گا بس ایک بار میری نظر سے نظر ملا ہر ایک پھول پر تھی ترے آنسوؤں کی اوس قطرہ مرے لہو کا ہر اک شاخ پر ملا

غزل · Ghazal

siine par rakh hijrat kaa patthar chup-chaap

سینے پر رکھ ہجرت کا پتھر چپ چاپ گھر میں رہ اور چھوڑ دے اپنا گھر چپ چاپ چیخ چیخ کر موجیں مجھے بلاتی تھیں میں ڈوبا تو بیٹھ گیا ساگر چپ چاپ میں صحرا کے بند مکاں میں رہتا ہوں خوشبو کہاں سے آتی ہے اندر چپ چاپ گورا چٹا روپ وہ کالا جادو تھا مجھ پر پھونک کے بھاگ گیا منتر چپ چاپ میں نے اپنا سینہ چیر کے دکھلایا لوٹ گئے کیوں درد کے سوداگر چپ چاپ میرے آنسو پینے شام کو اک چڑیا میری گود میں آ بیٹھے اڑ کر چپ چاپ اک تنہا ہے اشکؔ جو بولے جاتا ہے سب اندر خاموش ہیں سب باہر چپ چاپ

غزل · Ghazal

barf se laDtaa thaa mere paas paani kyuun nahin

برف سے لڑتا تھا میرے پاس پانی کیوں نہیں اب سوال اٹھتا ہے دریا میں روانی کیوں نہیں داستاں پڑھ کر مری اخبار میں روتا ہے وہ آ کے سنتا دکھ مرا میری زبانی کیوں نہیں میں ترا بے خواب بچہ ماں بتا میرے لیے کوئی لوری کیوں نہیں کوئی کہانی کیوں نہیں ڈوبنا چاہوں گا تو خشکی میں ہو جاؤں گا غرق میں نہ پوچھوں گا کبھی دریا میں پانی کیوں نہیں میرا قد اونچا ہے لیکن با ہنر وہ بھی تو ہیں شہر کے بولوں پہ تیری مہربانی کیوں نہیں پاس اس کے پیسہ بنگلے گاڑیاں شہرت بھی ہے اشکؔ جی وہ شخص پھر بھی خاندانی کیوں نہیں

Similar Poets