"phaldar tha to gaanv use pujta raha sukha to qatl ho gaya vo be-zaban darakht"

Parveen Kumar Ashk
Parveen Kumar Ashk
Parveen Kumar Ashk
Sherشعر
phaldar tha to gaanv use pujta raha
پھل دار تھا تو گاؤں اسے پوجتا رہا سوکھا تو قتل ہو گیا وہ بے زباں درخت
kisi kisi ko thamata hai chabiyan ghar ki
کسی کسی کو تھماتا ہے چابیاں گھر کی خدا ہر ایک کو اپنا پتہ نہیں دیتا
zamin ko ai khuda vo zalzala de
زمیں کو اے خدا وہ زلزلہ دے نشاں تک سرحدوں کے جو مٹا دے
haveliyan bhi hain karen bhi kar-khane bhi
حویلیاں بھی ہیں کاریں بھی کارخانے بھی بس آدمی کی کمی دیکھتا ہوں شہروں میں
samundar aankh se ojhal zara nahin hota
سمندر آنکھ سے اوجھل ذرا نہیں ہوتا ندی کو ڈر کسی چٹان کا نہیں ہوتا
Popular Sher & Shayari
10 total"kisi kisi ko thamata hai chabiyan ghar ki khuda har ek ko apna pata nahin deta"
"zamin ko ai khuda vo zalzala de nishan tak sarhadon ke jo miTa de"
"haveliyan bhi hain karen bhi kar-khane bhi bas aadmi ki kami dekhta huun shahron men"
"samundar aankh se ojhal zara nahin hota nadi ko Dar kisi chaTTan ka nahin hota"
zamin ko ai khudaa vo zalzala de
nishaan tak sarhadon ke jo miTaa de
phaldaar thaa to gaanv use pujtaa rahaa
sukhaa to qatl ho gayaa vo be-zabaan darakht
kisi kisi ko thamaataa hai chaabiyaan ghar ki
khudaa har ek ko apnaa pata nahin detaa
haveliyaan bhi hain kaarein bhi kaar-khaane bhi
bas aadmi ki kami dekhtaa huun shahron mein
samundar aankh se ojhal zaraa nahin hotaa
nadi ko Dar kisi chaTTaan kaa nahin hotaa
Ghazalغزل
kisi basti kisi nagar jaao
کسی بستی کسی نگر جاؤ وہ نظر آئے گا جدھر جاؤ اس کا جی بھر چکا ہے پھولوں سے لے کے ہاتھوں میں اپنا سر جاؤ ہم ہیں آوارگان شہر حیات کون ہم سے کہے کہ گھر جاؤ وہ اسی راستے سے گزرے گا پھول بن کر یہیں بکھر جاؤ دل پہ پتھر میں رکھ کے اٹھ آیا کوئی کہتا رہا ٹھہر جاؤ کب تلک یوں جیو گے گھٹ گھٹ کے اس سے اچھا ہے اشکؔ مر جاؤ
ek na ik divaar sarakti rahti hai
ایک نہ اک دیوار سرکتی رہتی ہے گھر کی چھت ہر رت میں ٹپکتی رہتی ہے جسم مرا شہروں میں ہنستا گاتا ہے روح مری جنگل میں سسکتی رہتی ہے تتلی پیار کرے کاغذ کے پھولوں سے خوشبو صحراؤں میں بھٹکتی رہتی ہے بھیڑ میں بھی اک چاند چمکتا رہتا ہے شہر میں بھی پائل سی چھنکتی رہتی ہے چاروں اور کے خالی منظر میں ہر سانس آنکھ مری تری صورت تکتی رہتی ہے جنگ لڑے برسوں گزرے لیکن اب بھی سر پہ مرے تلوار چمکتی رہتی ہے برف تو دور پہاڑوں پر گرتی ہے اشکؔ آگ مری وادی میں دہکتی رہتی ہے
jo zindagi ke sab se hasin moD par milaa
جو زندگی کے سب سے حسیں موڑ پر ملا وہ شخص پھر نہ مجھ کو کبھی عمر بھر ملا غم کی ہر اک کتاب میں تھا درج میرا نام رکھا ہوا میں ہر در و دیوار پر ملا تلوار کی طرح تھی ہوا تیز راہ میں پتا بچا نہ ایک بھی ثابت شجر ملا لاکھوں کا قتل کر کے بھی وہ مطمئن نہ تھا آخر وہ اپنے خوں میں مجھے تر بہ تر ملا تو حال زندگی کا مری جان جائے گا بس ایک بار میری نظر سے نظر ملا ہر ایک پھول پر تھی ترے آنسوؤں کی اوس قطرہ مرے لہو کا ہر اک شاخ پر ملا
siine par rakh hijrat kaa patthar chup-chaap
سینے پر رکھ ہجرت کا پتھر چپ چاپ گھر میں رہ اور چھوڑ دے اپنا گھر چپ چاپ چیخ چیخ کر موجیں مجھے بلاتی تھیں میں ڈوبا تو بیٹھ گیا ساگر چپ چاپ میں صحرا کے بند مکاں میں رہتا ہوں خوشبو کہاں سے آتی ہے اندر چپ چاپ گورا چٹا روپ وہ کالا جادو تھا مجھ پر پھونک کے بھاگ گیا منتر چپ چاپ میں نے اپنا سینہ چیر کے دکھلایا لوٹ گئے کیوں درد کے سوداگر چپ چاپ میرے آنسو پینے شام کو اک چڑیا میری گود میں آ بیٹھے اڑ کر چپ چاپ اک تنہا ہے اشکؔ جو بولے جاتا ہے سب اندر خاموش ہیں سب باہر چپ چاپ
barf se laDtaa thaa mere paas paani kyuun nahin
برف سے لڑتا تھا میرے پاس پانی کیوں نہیں اب سوال اٹھتا ہے دریا میں روانی کیوں نہیں داستاں پڑھ کر مری اخبار میں روتا ہے وہ آ کے سنتا دکھ مرا میری زبانی کیوں نہیں میں ترا بے خواب بچہ ماں بتا میرے لیے کوئی لوری کیوں نہیں کوئی کہانی کیوں نہیں ڈوبنا چاہوں گا تو خشکی میں ہو جاؤں گا غرق میں نہ پوچھوں گا کبھی دریا میں پانی کیوں نہیں میرا قد اونچا ہے لیکن با ہنر وہ بھی تو ہیں شہر کے بولوں پہ تیری مہربانی کیوں نہیں پاس اس کے پیسہ بنگلے گاڑیاں شہرت بھی ہے اشکؔ جی وہ شخص پھر بھی خاندانی کیوں نہیں





