"mangal ko bajrang-bali se tera shukr mana.un aur shukr ko tu allah se mera mangal mange"

Prabudha Saurabh
Prabudha Saurabh
Prabudha Saurabh
Sherشعر
Popular Sher & Shayari
4 total"bata.un kis havale se unhen bairag ka matlab jo taare puchhte hain raat ko ghar kyuun nahin jaata"
mangal ko bajrang-bali se teraa shukr manaaun
aur shukr ko tu allaah se meraa mangal maange
bataaun kis havaale se unhein bairaag kaa matlab
jo taare puchhte hain raat ko ghar kyuun nahin jaataa
Ghazalغزل
gorakh-dhandhaa ho jaaun kyaa?
گورکھ دھندھا ہو جاؤں کیا؟ میں بھی تم سا ہو جاؤں کیا؟ غزلوں کی بستی سونی ہے پھر آوارہ ہو جاؤں کیا؟ سچ کا گروی چھڑوانا ہے تھوڑا جھوٹا ہو جاؤں کیا؟ ساون نے آنسو سے پوچھا میں بھی کھارا ہو جاؤں کیا؟ سب امیدیں ڈوب رہی ہیں تنکا تنکا ہو جاؤں کیا؟ گھر دفتر کے بٹوارے میں آدھا آدھا ہو جاؤں کیا؟ منڈی اب بس اٹھنے کو ہے تھوڑا سستا ہو جاؤں کیا؟ سب کا ہو کر دیکھ چکا ہوں واپس خود کا ہو جاؤں کیا؟
tumhaari yaad ke manzar puraane gher lete hain
تمہاری یاد کے منظر پرانے گھیر لیتے ہیں نہ جانے ڈھونڈھ کر کیسے کہاں سے گھیر لیتے ہیں جو ہم نے ان دنوں بس یوں ہی پوکھر میں اچھالے تھے لگوں جب ڈوبنے تو وہ ہی تنکے گھیر لیتے ہیں میں ایسی شہرتوں کی سوچ سے بھی خوف کھاتا ہوں جدھر نکلو ادھر اخبار والے گھیر لیتے ہیں خدا جانے خدا نے کیوں مجھے اتنا نوازا ہے میں جب بھی لڑکھڑاتا ہوں سہارے گھیر لیتے ہیں یہ طاقت اور یہ شہرت سمے کا پھیر ہے پیارے گلی اپنی ہو تو ہاتھی کو کتے گھیر لیتے ہیں یہ میرے دوست بھی کمبخت رونے تک نہیں دیتے ذرا سا آنکھ کیا بھیگی کمینے گھیر لیتے ہیں
main jab se sach ko sach kahne lagaa huun
میں جب سے سچ کو سچ کہنے لگا ہوں جہاں کی آنکھ میں چبھنے لگا ہوں اجالا بانٹنے کی یہ سزا ہے انہریا چاند سا گھٹنے لگا ہوں بھرم رکھنا ان آنکھوں کا کہ جن کو میں روشن دان سا لگنے لگا ہوں میں اس کردار کو اب جی سکوں گا میں اس کردار پر مرنے لگا ہوں
jo ham teri aankhon ke taare hue hain
جو ہم تیری آنکھوں کے تارے ہوئے ہیں کئی رتجگوں کے سنوارے ہوئے ہیں برابر پہ چھوٹی محبت کی بازی نہ جیتے ہوئے ہیں نہ ہارے ہوئے ہیں انہیں کی نظر میں اترنا ہے ہم کو جو ہم کو نظر سے اتارے ہوئے ہیں قلم یاد کافی بھرم چند پنے بس اتنے میں بھی دن گزارے ہوئے ہیں غزل کا ہنر صرف حاصل غموں کا یہ اشعار اشکوں سے کھارے ہوئے ہیں
donon jaanib qaid-shuda is khush-fahmi mein rahte hain
دونوں جانب قید شدہ اس خوش فہمی میں رہتے ہیں سرحد کے اس پار پرندے آزادی میں رہتے ہیں شام تلک آداب بجاتے گردن دکھنے لگتی ہے پیادے ہو کر شاہوں والی آبادی میں رہتے ہیں گر روئے تو آنکھوں کے سب باشندے بہہ جائیں گے ہائے شکستہ خواب ہمارے اس بستی میں رہتے ہیں زینہ در زینہ جب تیری یاد اتر کر آتی ہے منہ بائے اشعار ہمارے حیرانی میں رہتے ہیں اس کی بک بک گھر سے چل کر چاند تلک ہو آتی ہیں اور ہم گم اس کے ہونٹوں کی ترپائی میں رہتے ہیں چار کتابیں ساتھ نہیں اور سو غزلیں کہہ بھی ماریں اب کے لکھنے والے جانے کس جلدی میں رہتے ہیں آدھی رات غزل کہنے کا شوق کسے ہے سوربھؔ جی بس اتنی سی بات ہے تب ہم تنہائی میں رہتے ہیں
tirgi ki apni zid hai jugnuon ki apni zid
تیرگی کی اپنی ضد ہے جگنوؤں کی اپنی ضد ٹھوکروں کی اپنی ضد ہے حوصلوں کی اپنی ضد کون سا قصہ سناؤں آپ کو مشکل یہ ہے آنسوؤں کی اپنی ضد ہے قہقہوں کی اپنی ضد گیت میرے چوم آئیں گے تمہیں بن کر صبا سرحدوں کی اپنی ضد ہے حسرتوں کی اپنی ضد راستوں نے خوب سمجھایا الجھنا مت مگر رہزنوں کی اپنی ضد ہے رہبروں کی اپنی ضد ہائے ٹپکا ہے لہو پھر آج کے اخبار سے چاقوؤں کی اپنی ضد ہے پسلیوں کی اپنی ضد دھڑکنوں کی بات مانوں یا کہ آئینے کی اب؟ آرزو کی اپنی ضد ہے جھریوں کی اپنی ضد





