"donon aalam se vo begana nazar aata hai jo tire ishq men divana nazar aata hai"

Purnam Allahabadi
Purnam Allahabadi
Purnam Allahabadi
Sherشعر
donon aalam se vo begana nazar aata hai
دونوں عالم سے وہ بیگانہ نظر آتا ہے جو ترے عشق میں دیوانہ نظر آتا ہے
aarzu hasrat tamanna mudda.a koi nahin
آرزو حسرت تمنا مدعا کوئی نہیں جب سے تم ہو میرے دل میں دوسرا کوئی نہیں
kaam kuchh tere bhi hote teri marzi ke khilaf
کام کچھ تیرے بھی ہوتے تیری مرضی کے خلاف ہاں مگر میرے خدا تیرا خدا کوئی نہیں
Popular Sher & Shayari
6 total"aarzu hasrat tamanna mudda.a koi nahin jab se tum ho mere dil men dusra koi nahin"
"kaam kuchh tere bhi hote teri marzi ke khilaf haan magar mere khuda tera khuda koi nahin"
donon aalam se vo begaana nazar aataa hai
jo tire ishq mein divaana nazar aataa hai
aarzu hasrat tamanna muddaaa koi nahin
jab se tum ho mere dil mein dusraa koi nahin
kaam kuchh tere bhi hote teri marzi ke khilaaf
haan magar mere khudaa teraa khudaa koi nahin
Ghazalغزل
tumhein dil-lagi bhuul jaani paDegi mohabbat ki raahon mein aa kar to dekho
تمہیں دل لگی بھول جانی پڑے گی محبت کی راہوں میں آ کر تو دیکھو تڑپنے پہ میرے نہ پھر تم ہنسو گے کبھی دل کسی سے لگا کر تو دیکھو وفاؤں کی ہم سے توقع نہیں ہے مگر ایک بار آزما کر تو دیکھو زمانے کو اپنا بنا کر تو دیکھا ہمیں بھی تم اپنا بنا کر تو دیکھو خدا کے لیے چھوڑ دو اب یہ پردہ کہ ہیں آج ہم تم نہیں غیر کوئی شب وصل بھی ہے حجاب اس قدر کیوں ذرا رخ سے آنچل اٹھا کر تو دیکھو جفائیں بہت کیں بہت ظلم ڈھائے کبھی اک نگاہ کرم اس طرف بھی ہمیشہ ہوئے دیکھ کر مجھ کو برہم کسی دن ذرا مسکرا کر تو دیکھو جو الفت میں ہر اک ستم ہے گوارا یہ سب کچھ ہے پاس وفا تم سے ورنہ ستاتے ہو دن رات جس طرح مجھ کو کسی غیر کو یوں ستا کر تو دیکھو اگرچہ کسی بات پر وہ خفا ہیں تو اچھا یہی ہے تم اپنی سی کر لو وہ مانیں نہ مانیں یہ مرضی ہے ان کی مگر ان کو پرنمؔ منا کر تو دیکھو
donon aalam se vo begaana nazar aataa hai
دونوں عالم سے وہ بیگانہ نظر آتا ہے جو ترے عشق میں دیوانہ نظر آتا ہے عشق بت کعبۂ دل میں ہے خدایا جب سے تیرا گھر بھی مجھے بت خانہ نظر آتا ہے شعلۂ عشق میں دیکھے کوئی جلنا دل کا شمع کے بھیس میں پروانہ نظر آتا ہے مصر کا چاند بھی شیدا ہے ازل سے ان کا حسن کا حسن بھی دیوانہ نظر آتا ہے باغباں باغ میں کس شوخ کی تحریر ہے یہ ورق گل پہ جو افسانہ نظر آتا ہے ہے عجب حسن تصور ترے دیوانے کا تیرے جیسا ترا دیوانہ نظر آتا ہے ان کی مست آنکھ مرے دل میں ہے رقصاں پرنمؔ خوب پیمانے میں پیمانہ نظر آتا ہے
doston ke sitam ki baat karo
دوستوں کے ستم کی بات کرو بات غم کی ہے غم کی بات کرو سچی باتوں کے ہو اگر قائل اپنی جھوٹی قسم کی بات کرو اپنا کعبہ ہے کوچۂ جاناں ہم سے کوئے صنم کی بات کرو چاہتے ہو جو تم دلوں کا ملاپ چھوڑ کے میں کو ہم کی بات کرو جن کے نقش قدم ہیں راہنما ان کے نقش قدم کی بات کرو درد جس نے دیا ہے بہر خدا اس نگاہ کرم کی بات کرو بات اشک وفا کی ہے یارو پرنمؔ دیدہ نم کی بات کرو
mujhe ranj hogaa na maut kaa agar aisi maut nasib ho
مجھے رنج ہوگا نہ موت کا اگر ایسی موت نصیب ہو مرا دم جو نکلے تو اے خدا مرے پاس میرا حبیب ہو ہے عبث دواؤں کا سوچنا نہ تو فکر مند طبیب ہو تو علاج اس کا کرے گا کیا جو مریض عشق حبیب ہو کر اسیر مجھ کو بہ صد خوشی مگر اتنی عرض بھی سن مری وہاں قید کر کہ قفس مرا مرے آشیاں کے قریب ہو جسے تیرے حسن کی ہو خبر وہی چشم عشق ہے معتبر بڑی خوش نصیب ہے وہ نظر تری دید جس کو نصیب ہو شب و روز پرنمؔ غم زدہ رہے درد دل میں جو مبتلا وہ قرار پائے تو کس طرح اسے چین کیسے نصیب ہو
aag bhi dil mein lagi hai aur ashk-e-gham bhi hai
آگ بھی دل میں لگی ہے اور اشک غم بھی ہے عشق کہتے ہیں جسے شعلہ بھی ہے شبنم بھی ہے وقت آخر چارہ گر جتنی خوشی ہے غم بھی ہے یار کی صورت بھی ہے آنکھوں میں میرا دم بھی ہے باعث تکلیف بھی ہے باعث آرام بھی یاد جاناں زخم بھی ہے زخم کا مرہم بھی ہے پھر خطا جنت میں ہوگی باوجود احتیاط صرف عادت ہی نہیں یہ فطرت آدم بھی ہے سب کے آنسو پونچھنے والے ادھر بھی دیکھ لے آب دیدہ تیری محفل میں ترا پرنمؔ بھی ہے
vaqt jab saazgaar hotaa hai
وقت جب سازگار ہوتا ہے سچ ہے دشمن بھی یار ہوتا ہے بانٹ لے غم جو غم کے ماروں کا وہ بڑا غم گسار ہوتا ہے لوگ اس کو بھی کاٹ دیتے ہیں پیڑ جو سایہ دار ہوتا ہے جس کا کوئی نہیں زمانے میں اس کا پروردگار ہوتا ہے جس کے آغاز کا ہو نیک انجام کام وہ شاندار ہوتا ہے آپ گلشن میں جب نہیں ہوتے گل بھی نظروں میں خار ہوتا ہے دل کی بازی وہ ہار کے بولے جیت کا نام ہار ہوتا ہے وہ بڑا خوش نصیب ہے یارو یار کو جس سے پیار ہوتا ہے چشم بیمار بند ہونے لگی ختم اب انتظار ہوتا ہے اس کا لاشہ کوئی نہ ہو جس کا بے کفن بے مزار ہوتا ہے دیدۂ اہل درد میں پرنمؔ اشک دل کی پکار ہوتا ہے





