chaae mein mat milaaiye shakar ki hai zarar-risaan
shaamil miThaas vaaste apnaa luaab kijiye

Qamar Aasi
Qamar Aasi
Qamar Aasi
Popular Shayari
1 totalGhazalغزل
حسن والوں کا سر ساحل نظارہ ہے کہ نئیں ڈوبنے والے کو تنکے کا سہارا ہے کہ نئیں جب کہ ہم دونوں نے بانگ دل پہ آمنا کہا حال ہے اب جو ہمارا وہ تمہارا ہے کہ نئیں فائدے سے مجھ کو زیادہ فکر ہے نقصان کی مخلصی کے کام میں کوئی خسارہ ہے کہ نئیں میری صحت ہو گئی بہتر تمہارے عشق میں تم کو بھی کار محبت نے سنوارا ہے کہ نئیں ان کو دیکھا دیکھتے ہی ہم شناور ہو گئے بحر الفت کا خدا جانے کنارہ ہے کہ نئیں یہ جبیں رخسار آنکھیں لب ہمارے ہیں مگر یہ بتاؤ دل تمہارا بھی ہمارا ہے کہ نئیں
husn vaalon kaa sar-e-saahil nazaara hai ki nain
میں نے کچھ اشعار جوں ہی آئنے پر دم کیے عکس تیرا لا دکھایا اس نے سر کو خم کیے کی سماعت کی تواضع اس مدھر آواز سے رزق بینائی اسی پیکر کے زیر و بم کیے مہر ہونٹوں سے لگائی اس زمین حسن پر اپنے قبضے اس زمیں پر اور مستحکم کیے جان ڈالی تذکرۂ یار سے الفاظ میں سیدھے سادے شعر اس کے ذکر سے مبہم کیے رات گزری مخملی ہاتھوں کے تکیے پر مری شکر ہے مولا میسر تو نے یہ ریشم کیے صبح وصل اس کی چہک سے گونج اٹھے بام و در بولتی تھی پہلے جو آواز کو مدھم کیے بہہ رہا تھا لمس کا دریا گذشتہ شب قمرؔ خوب ہم نے بھی مسام جسم اس سے نم کیے
main ne kuchh ashaar junhi aaine par dam kiye
کچھ ایسے چشم تمنا کو آزمایا گیا کسی بھی عکس کو پورا نہیں دکھایا گیا درون خواب دکھا کر کوئی حسیں پیکر ہمارے ہونٹوں کا مصرف ہمیں سجھایا گیا ادھورا چھوڑ دیا عشق اس لیے ہم نے ہمیں یہ کام مکمل نہیں سکھایا گیا پھر اس کے بعد اٹھیں گے فقط سر محشر گر آج بزم سے ان کی ہمیں اٹھایا گیا گیا متاع ملت غفلت شعار لوٹی گئی پھر اس کے بعد اسے نیند سے جگایا گیا کبھی خدا کبھی دنیا کبھی محبت کا ہمارے دل میں سدا خوف ہی بٹھایا گیا عجب معاملہ رکھا زمانے والوں نے جہاں قیام تھا لازم وہیں گرایا گیا درخت آج بھی ہم کو دعائیں دیتے ہیں کہ جن سے نام تمہارا نہیں مٹایا گیا وہ آج آئے گی چھت پر سہیلیوں کے ساتھ قمرؔ ستاروں کو لارا عجب لگایا گیا
kuchh aise chashm-e-tamannaa ko aazmaayaa gayaa
کسی حکیم نہ عطار سے شفا ہوگی وصال حسن طرح دار سے شفا ہوگی ہمارے سر میں ہے سودائے وحشت پیہم ہمیں جمال رخ یار سے شفا ہوگی اے تیغ چشم صنم کر جگر پہ ترچھا وار اگر ہوئی تو اسی وار سے شفا ہوگی نقاب رخ کو دم وصل الوداع کہیے مریض ہجر کو دیدار سے شفا ہوگی دوا سے بڑھ کے دوا ہے لبان سرخ کا لمس قتیل حسن کو ہتھیار سے شفا ہوگی دکھایا جائے انہیں آئنہ برائے شفا تو اپنے عکس شرر بار سے شفا ہوگی پھر آزمائیں گے اک نسخۂ غلط آسیؔ اگر نہ آپ کو اشعار سے شفا ہوگی
kisi hakim na attaar se shifaa hogi
بے ثمر صحبتوں سے بہتر ہیں رنجشیں الفتوں سے بہتر ہیں سانپ اچھے نہیں یقیناً نئیں پر مرے دوستوں سے بہتر ہیں حاصل عشق ہے یہ اک جملہ فاصلے قربتوں سے بہتر ہیں کارہائے ہوس میں ہیں مشغول مشغلے فرصتوں سے بہتر ہیں راستے راستی کے مت چھوڑو وادیاں پربتوں سے بہتر ہیں قفل بہتر نہیں زبانوں پر ہاں مگر غیبتوں سے بہتر ہیں ہم ہیں بہتر کئی بلاؤں سے وہ کئی آفتوں سے بہتر ہیں آپ اور ہم میں فرق ہے اتنا آپ کچھ نسبتوں سے بہتر ہیں بد گمانوں سے دوریاں آسیؔ خوا مخواہ حجتوں سے بہتر ہیں
be-samar sohbaton se behtar hain





