SHAWORDS
Q

Qayem Chaandpuri

Qayem Chaandpuri

Qayem Chaandpuri

poet
90Sher
90Shayari
52Ghazal

Sherشعر

See all 90

Popular Sher & Shayari

180 total

Ghazalغزل

See all 52
غزل · Ghazal

maalum kuchh huaa hi na dil kaa asar kahin

معلوم کچھ ہوا ہی نہ دل کا اثر کہیں ایسا گیا کہ پھیر نہ پائی خبر کہیں عالم میں ہیں اسیر محبت کے ہر کہیں لیکن ستم کسو پہ نہیں اس قدر کہیں کھولی تھی چشم دید کو تیری پہ جوں حباب اپنے تئیں میں آپ نہ آیا نظر کہیں جوں غنچہ فکر جمع نہ کر ٹک تو گل کو دیکھ قسمت کی کھو سکے ہے پریشانی زر کہیں رہنے دو میری نعش کو ہو جائے تا غبار لے جائے گی اڑا کے نسیم سحر کہیں مصرف ہے سب یہ بالش صیاد کا ترے بسمل نہ بھریو خون سے تو بال و پر کہیں روتی ہے کیا گلوں کو تو شبنم ادھر تو دیکھ ٹکڑے ہے اس طرح سے کسی کا جگر کہیں کرتا تھا کل گلی میں وہ اپنی خرام ناز اس میں جو آ کے پڑتی ہے مجھ پر نظر کہیں کہنے لگا یہ دیکھ کے احوال کو مرے بد نام تو کسی کے تئیں یاں نہ کر کہیں کیا ہتیا تجھے یہیں دینی ہے اے عزیز اتنا پڑا ہے ملک خدا جا کے مر کہیں قائمؔ یہ فیض صحبت سوداؔ ہے ورنہ میں طرحی غزل سے میرؔ کی آتا تھا بر کہیں

غزل · Ghazal

dil paa ke us ki zulf mein aaraam rah gayaa

دل پا کے اس کی زلف میں آرام رہ گیا درویش جس جگہ کہ ہوئی شام رہ گیا جھگڑے میں ہم مبادی کے یاں تک پھنسے کہ آہ مقصود تھا جو اپنے تئیں کام رہ گیا ناپختگی کا اپنی سبب اس ثمر سے پوچھ جلدی سے باغباں کی وہ جو خام رہ گیا صیاد تو تو جا، ہے پر اس کی بھی کچھ خبر جو مرغ ناتواں کہ تہ دام رہ گیا قسمت تو دیکھ ٹوٹی ہے جا کر کہاں کمند کچھ دور اپنے ہاتھ سے جب بام رہ گیا ماریں ہیں ہم نگین سلیماں کو پشت دست جب مٹ گیا نشان تو گو نام رہ گیا نے تجھ پہ وہ بہار رہی اور نہ یاں وہ دل کہنے کو نیک و بد کے اک الزام رہ گیا موقوف کچھ کمال پہ یاں کام دل نہیں مجھ کو ہی دیکھ لینا کہ ناکام رہ گیا قائمؔ گئے سب اس کی زباں سے جو تھے رفیق اک بے حیا میں کھانے کو دشنام رہ گیا

غزل · Ghazal

chhoD maavaa-e-zaqan zulf-e-pareshaan mein phansaa

چھوڑ ماوائے ذقن زلف پریشاں میں پھنسا مثل یوسف میں نکل چاہ سے زنداں میں پھنسا سیل اشک آج رکی آنکھ سے گرتے ہی مگر پھر کئی لخت جگر دیدۂ گریاں میں پھنسا کچھ بھی وقفہ ہو تو گلشن سے لے آئیں صیاد رہ گیا ہے دل غم کش گل و ریحاں میں پھنسا کھینچ دامن رکھیں ہم یار کو کس طرح کہ ہاتھ ایک تو دل پہ ہے اور ایک گریباں میں پھنسا اے کہ چاہے ہے تو دیوان کو قائمؔ کے تو دیکھ کہیں ہوگا کسی خمار کی دکاں میں پھنسا

غزل · Ghazal

taa-chand sukhan-saazi-e-nairang-e-kharaabaat

تا چند سخن سازئ نیرنگ خرابات یاں قصد خرابی ہے نہ آہنگ خرابات آ دل میں کہ اس در پہ جو بیٹھا ہے پھر ان نے فرسخ گنے کعبہ کے نہ فرسنگ خرابات دیکھیں تو تری دھوم ٹک اے شورش مستی پھر آج سر و سینہ ہے اور سنگ خرابات تشبیہ میں جس دل کو نہ دی کعبہ سے سو دل اب عشق مے و مغ سے ہے ہم رنگ خرابات اے غنچہ دہن بس لب میگوں کو تنک موند دل تنگ کہاں تک ہو دل تنگ خرابات سو سر کا جو ہو آئے تو مقبول نہیں یاں کھائی نہیں جس رند نے سرچنگ خرابات کس نام سے قائمؔ میں تجھے کہہ تو پکاروں اے عار در مسجد و اے ننگ خرابات

غزل · Ghazal

juun ibrat-e-kor jalva-gar huun

جوں عبرت کور جلوہ گر ہوں البتہ کچھ ہوں میں پر کدھر ہوں جوں شیشہ بھرا ہوں مے سے لیکن مستی سے میں اپنی بے خبر ہوں جو کہئے سو یاں سے ہے فروتر کیا جانے میں کس مقام پر ہوں اے صبر تنک تو رہ کہ تجھ سے دو چار قدم میں پیشتر ہوں چل دامن و آستیں تجھے کیا لب خشک ہوں یا میں چشم تر ہوں اے بخت سعید تیری دولت اک یمن قدم سے ہوں جدھر ہوں پروانے کی شب کی شام ہوں میں یا روز کی شمع کی سحر ہوں جی مانگے ہے خوش دلی کو قائمؔ تو بیٹھ کے رو میں نوحہ گر ہوں

غزل · Ghazal

yunhi ranjish ho aur gilaa bhi yunhi

یوں ہی رنجش ہو اور گلا بھی یوں ہی ہو جے ہر بات پر خفا بھی یوں ہی کچھ نہ ہم کو ہی بھا گیا یہ طور واقعی یہ کہ ہے مزا بھی یوں ہی صید کنجشک سے نہ ہاتھ اٹھا آ کے پھنس جائے ہے ہما بھی یوں ہی جوں اجاڑا تو گھر مرا اے عشق خانہ ویران ہو ترا بھی یوں ہی کیوں نہ روؤں میں دیکھ خندۂ گل کہ ہنسے تھا وہ بے وفا بھی یوں ہی اب تلک میری زیست نے کی وفا بس میں دیکھی تری جفا بھی یوں ہی مس دل کو دیا کر اپنے گداز ہاتھ چڑھ جا ہے کیمیا بھی یوں ہی یہ کہاں اور وہ گل کدھر قائمؔ اک ہوا باندھے ہے صبا بھی یوں ہی

Similar Poets