tumhaare hisse ke jitne bhi gham hain main le luun
mire nasib ki har ik khushi mile tum ko

Raakesh Ulfat
Raakesh ulfat
Raakesh ulfat
Popular Shayari
3 totalmiraa fakhr-e-hayaati aaj bhi kirdaar hai meraa
isi nag se muzayyan turra-e-dastaar hai meraa
paani hilaa nahin hai abhi bhi hai juun kaa tuun
patthar to ek pheink ke dekhaa zarur hai
Ghazalغزل
تجھے ہے پیار تو یوں کرکے چل دکھا مجھ کو سبھی کے سامنے اپنے گلے لگا مجھ کو میں جانتا ہوں کہ تو اک دہکتا شعلہ ہے تری تپش میں اگر دم ہے تو جلا مجھ کو ہر اک نظر کو پتا ہے میں ایک پتھر ہوں ہر ایک دل نے بنا رکھا ہے خدا مجھ کو تری زباں پہ ہے انکار آج بھی لیکن کچھ اور کہتی لگی ہے تری ادا مجھ کو نہ اب رہا ہے کوئی شوق بننے ٹھننے کا نہ اپنی اور بلاتا ہے آئینہ مجھ کو کہیں ندی کہیں دریا کہیں سمندر ہوں یہ نام دیتا ہے پانی کا سلسلہ مجھ کو انہیں ہے شوق اگر آزمانے کا الفتؔ غرور اپنی وفا پر بھی ہے بڑا مجھ کو
tujhe hai pyaar to yuun karke chal dikhaa mujh ko
میں جانتا ہوں کہ سارے برے نہیں ہوتے مگر یہ سچ ہے کہ سب ایک سے نہیں ہوتے مرے پروں میں اگر حوصلے نہیں ہوتے یہ آسماں میرے آگے جھکے نہیں ہوتے مرے صنم جو مجھے تم ملے نہیں ہوتے سکون دل سے مرے رابطے نہیں ہوتے زمین پانی ہوا دیکھ بھلا سب کچھ ہے نہ جانے کیوں میرے بوٹے ہرے نہیں ہوتے یہ تیرا قد ہے جو رکھتا ہے اہمیت ورنہ خوش آمدید کو سارے جھکے نہیں ہوتے عدالتوں سے جڑے سارے دعوے داروں میں یہ چغلیاں ہیں سہی فیصلے نہیں ہوتے جو ہو سکے تو زباں کو ذرا سرل رکھنا بہت سے نیتا زیادہ پڑھے نہیں ہوتے مرے خدا کی عنایت اگر نہیں ہوتی مرے چراغ ہوا میں جلے نہیں ہوتے تمام عمر کئی لوگ چھوٹے رہتے ہیں بلندیوں پہ بھی جا کر بڑے نہیں ہوتے
main jaantaa huun ki saare bure nahin hote
چپ ہوں سب جانتا مگر ہوں میں یہ نہ سمجھو کہ بے خبر ہوں میں یوں تو کہنے کو اک شجر ہوں میں لیکن افسوس بے ثمر ہوں میں کوئی اپنا ہے میری کمزوری ورنہ سچی بڑا نڈر ہوں میں آج بے فکر ہو کے سو جاؤ میرے گھر والو آج گھر ہوں میں ذہن میں لائنیں ہیں سڑکیں ہیں اب تو لگتا ہے خود سفر ہوں میں ہر طرف خوشبوؤں سے بھر دوں گا موسم گل کا منتظر ہوں میں مجھ پہ چل کر تو دیکھیے الفتؔ مخملی گھاس کی ڈگر ہوں میں
chup huun sab jaantaa magar huun main
کہہ دو دل میں جو بات باقی ہے یہ نہ سوچو کہ رات باقی ہے عشق کی بات ہے ابھی کر لو بھول جاؤ حیات باقی ہے ساری دنیا ہے پھر بھی تنہا ہوں اک تمہارا ہی ساتھ باقی ہے آج کہتے ہیں بس شراب شراب کل کہیں گے نجات باقی ہے پہلے لازم ہے جیتنا دل کا پھر کہاں کائنات باقی ہے
kah do dil mein jo baat baaqi hai
تیرا دل بھی مرے دل جیسا اگر ہو جائے کتنا آساں مرے جیون کا سفر ہو جائے میں نے ہر بار یہی سوچ کے کوشش کی ہے شاید اس بار تری مجھ پہ نظر ہو جائے اس کا وعدہ ہے وہ کل صبح ملے گی مجھ سے دل یہ کرتا ہے کہ جلدی سے سحر ہو جائے میری حسرت ہے اسے باہوں میں بھر لینے کی کاش اب کے وہ جب آئے تو جگر ہو جائے وہ جہاں ٹھہرے وہیں میرے لئے منزل ہو اس کے قدموں کے نشاں میرے ڈگر ہو جائے
teraa dil bhi mire dil jaisaa agar ho jaae





