haDDiyaan baap ki guude se hui hain khaali
kam se kam ab to ye beTe bhi kamaane lag jaaein

Raoof Khair
Raoof Khair
Raoof Khair
Popular Shayari
3 totalkhilaune ki taDap mein khud khilaunaa vo na ban jaae
miraa bachcha saDak par rezgaari le ke niklaa hai
khulegaa un pe jo bainassutur paDhte hain
vo harf harf jo akhbaar mein nahin aataa
Ghazalغزل
کوئی بھی زور خریدار پر نہیں چلتا کہ کاروبار تو اخبار پر نہیں چلتا ہم آپ اپنا گریبان چاک کرتے ہیں ہمارا بس ہی تو سرکار پر نہیں چلتا کچھ اور چاہیئے تسکین جسم و جاں کے لیے ہمارا کام تو دیدار پر نہیں چلتا میں جانتا ہوں مجھے کس کا ساتھ دینا ہے میں بلی بن کے تو دیوار پر نہیں چلتا اصول جتنے ہیں لاگو ہمیں پہ ہوتے ہیں اور ایک یار طرحدار پر نہیں چلتا انہیں لحاظ نہیں ہے جو میری مرضی کا تو میں بھی مرضی اغیار پر نہیں چلتا نہ جانے کب تمہیں اوقات اپنی دکھلا دے اب اتنا ظلم بھی نادار پر نہیں چلتا مرے سخن کا بہانہ ہیں قافیہ و ردیف میں شعر کہتا ہوں کچھ تار پر نہیں چلتا رؤف خیرؔ پہنچتا وہیں ہے ہر پھر کر کہ اختیار دل زار پر نہیں چلتا
koi bhi zor kharidaar par nahin chaltaa
بکتی نہیں فقیر کی جھولی ہی کیوں نہ ہو چاہے رئیس شہر کی بولی ہی کیوں نہ ہو احسان رنگ غیر اٹھاتے نہیں کبھی اپنے لہو سے کھیل وہ ہولی ہی کیوں نہ ہو سچ تو یہ ہے کہ ہاتھ نہ آنا کمال ہے دنیا سے کھیل آنکھ مچولی ہی کیوں نہ ہو ہے آسماں وسیع زمیں تنگ ہی سہی تعمیر کر کہیں کوئی کھولی ہی کیوں نہ ہو حق پر جو ہے وہی سر و شانہ بلند ہے ہے ورنہ بے بساط وہ ٹولی ہی کیوں نہ ہو دریا کی کیا بساط کہ مجھ کو ڈبو سکے کشتی کہیں کہیں مری ڈولی ہی کیوں نہ ہو تلخی میں بھی مزہ ہے جو تو خوش مذاق ہے پک جائے تو بھلی ہے نمولی ہی کیوں نہ ہو کچھ تو حدیث خیرؔ سمجھنے کے کر جتن ہر چند بے مزہ مری بولی ہی کیوں نہ ہو
bikti nahin faqir ki jholi hi kyuun na ho
زباں پہ حرف تو انکار میں نہیں آتا یہ مرحلہ ہی کبھی پیار میں نہیں آتا کھلے گا ان پہ جو بین السطور پڑھتے ہیں وہ حرف حرف جو اخبار میں نہیں آتا سمجھنے والے یقیناً سمجھ ہی لیتے ہیں ہمارا درد جو اظہار میں نہیں آتا یہ خاندان ہمارا بکھر گیا جب سے مزہ ہمیں کسی تہوار میں نہیں آتا ہمارے حق میں تو وہ چاند اور سورج ہے بہت دنوں سے جو دیدار میں نہیں آتا کمال یہ ہے کہ ہم خواب دیکھتے ہی نہیں کہ خواب دیدۂ بیدار میں نہیں آتا ہمارا شعر سمجھنے کی کچھ تو کوشش کر یہ کیا نوشتۂ دیوار میں نہیں آتا قلم کی کاٹ تو تلوار سے بھی بڑھ کر ہے مگر شمار یہ ہتھیار میں نہیں آتا وہ اپنا ذوق بڑھائیں اگر مزہ ان کو رؤف خیرؔ کے اشعار میں نہیں آتا
zabaan pe harf to inkaar mein nahin aataa
لبھا رہی تو ہے دنیا چمک دمک کی مجھے مگر حیات گوارا نہیں دھنک کی مجھے ہمیشہ اپنی لڑائی میں آپ لڑتا ہوں نہیں رہی کبھی حاجت کسی کمک کی مجھے بہت دنوں سے زمان و مکان حائل ہیں کہ آس بھی نہ رہی اب تری جھلک کی مجھے مرے قلم کی جو زد میں یہ بحر و بر آتے دہائی دینے لگے نان اور نمک کی مجھے مرا گمان یقیں میں بدلتا رہتا ہے سمجھنے والے بھلے ہی سمجھ لیں شکی مجھے چنانچہ گردش ایام تھک کے بیٹھ گئی میں سخت جان ہوں کیا پیستی یہ چکی مجھے اسی لیے تو میں نمٹا رہا ہوں کام اپنے میں جانتا ہوں کہ مہلت ہے آج تک کی مجھے ادا کیا اسی سکے میں بے جھجک میں نے ہوئی جہاں کہیں محسوس بو ہتک کی مجھے خراب حال یہ بے خیرؔ و بے ادب ہو کر بھٹک نہ جائے کہیں فکر ہے سڑک کی مجھے
lubhaa rahi to hai duniyaa chamak damak ki mujhe
گرفتاری کے سب حربے شکاری لے کے نکلا ہے پرندہ بھی شکاری کی سپاری لے کے نکلا ہے نکلنے والا یہ کیسی سواری لے کے نکلا ہے مداری جیسے سانپوں کی پٹاری لے کے نکلا ہے بہر قیمت وفاداری ہی ساری لے کے نکلا ہے ہتھیلی پر اگر وہ جان پیاری لے کے نکلا ہے سفاری سوٹ میں ٹاٹا سفاری لے کے نکلا ہے وہ لیکن ذہن و دل پر بوجھ بھاری لے کے نکلا ہے یقیناً ہجرتوں کی جانکاری لے کے نکلا ہے اگر اپنے ہی گھر سے بے قراری لے کے نکلا ہے کھلونے کی تڑپ میں خود کھلونا وہ نہ بن جائے مرا بچہ سڑک پر ریز گاری لے کے نکلا ہے اگر دنیا بھی مل جائے رہے گا ہاتھ پھیلائے عجب کشکول دنیا کا بھکاری لے کے نکلا ہے خطا کاری مری امید وار دامن رحمت مگر مفتی تو قرآن و بخاری لے کے نکلا ہے جھلکتا ہے مزاج شہریاری ہر بن مو سے بظاہر خیرؔ حرف خاکساری لے کے نکلا ہے
giraftaari ke sab harbe shikaari le ke niklaa hai
تا بہ کے منزل بہ منزل ہم مسافر بھاگتے آنکھ اب ٹھہری ہوئی ہے اور مناظر بھاگتے اے حریف ہر قدم شہ مات سے بچنے کی سوچ اس بساط خاک سے کیا ہم سے شاطر بھاگتے ہم تو آئے ہیں یہاں مٹنے مٹانے کے لئے اس زمین کربلا سے کس کی خاطر بھاگتے بس میں آ جانے کا جذبہ بس میں کرنے کی ہوس خاک و باد و آب و آتش بھی ہیں قاصر بھاگتے سر کہیں پاؤں کہیں آنکھیں کہیں چہرہ کہیں اس ہوس میں کھو گئی پہچان آخر بھاگتے خیرؔ شب خوں مار کر چھپ جانے والے ہم نہیں معرکہ سر کرنے نکلے ہیں تو کیا پھر بھاگتے کھود لیتے ہیں کنواں شہداب پا لیتے ہیں خیرؔ اس زمین سخت سے کیا ہم سے شاعر بھاگتے
taa-ba-kai manzil-ba-manzil ham musaafir bhaagte





