dekhne vaale yuun to bahut dekhe hain lekin
mar jaaun jo koi teri adaa se dekhe

Rashid Aazar
Rashid Aazar
Rashid Aazar
Popular Shayari
2 totaljin haathon se baTti khairaatein dekhi thiin
in aankhon se un haathon mein kaase dekhe
Ghazalغزل
حسن ہو عشق کا خوگر مجھے رہنے دیتے تم ہو منظر پس منظر مجھے رہنے دیتے مجھ سے تہذیب ریا کار کی تزئیں کیوں کی نا تراشیدہ تھا پتھر مجھے رہنے دیتے میں نے کب چاہا کہ قید در و دیوار ملے میں تو آوارہ ہوں بے گھر مجھے رہنے دیتے وقت و حالات سے خواہش تھی فقط چند ہی روز قید لمحات سے باہر مجھے رہنے دیتے میں نے اصنام تراشے تو بگاڑا کیا تھا تم براہیم تھے آزرؔ مجھے رہنے دیتے
husn ho ishq kaa khugar mujhe rahne dete
زندگی جو کہہ نہ پائی رہ گئی موت وہ ساری کہانی کہہ گئی رات بھر اس کا فسانہ لکھ کے ہم اتنا روئے سب کتابت بہہ گئی ہچکیوں میں دب گیا اس کا سوال جیسے اک دستک ادھوری رہ گئی قرب کے صدمے ہوں یا دوری کا غم جتنا سہنا تھا محبت سہہ گئی جب بھی آذرؔ دل سے نکلی کوئی بات دل کی گہرائی میں تہہ در تہہ گئی
zindagi jo kah na paai rah gai
باز بھی آؤ یاد آنے سے کیا ملے گا ہمیں ستانے سے خون دل سے دیے جلائے ہیں ہو کے گزرو غریب خانے سے کیسی بے رونقی ہے محفل میں ایک اس کے یہاں نہ آنے سے در دل وا کیا تو وہ آئے کون آتا ہے یوں بلانے سے تجھ سے بچھڑے تو کب یہ سوچا تھا اس قدر ہوں گے بے ٹھکانے سے ہم تو حیران ہیں کہ کیوں ہم پر ظلم ہے اور ہر بہانے سے رہنے والا ہی جب نہ ہو آذرؔ فائدہ کیا ہے گھر سجانے سے
baaz bhi aao yaad aane se
منتظر آنکھوں میں جمتا خوں کا دریا دیکھتے تم نہیں آتے تو ساری عمر رستہ دیکھتے وسعت کون و مکاں اس ریگزار دل میں ہے آرزو ہے تم بھی آ کر دل کا صحرا دیکھتے اپنے مرنے کی خبر اک دن اڑاتے کاش ہم چاہنے والوں کا اپنے پھر تماشا دیکھتے سر پہ سورج آ گیا پھر بھی نہ کھولی ہم نے آنکھ صبح اٹھتے بھی تو آخر کس کا چہرہ دیکھتے اس جہان رنگ و بو میں دیکھنے کو کیا رہا تجھ کو دیکھا اور ان آنکھوں سے ہم کیا دیکھتے تیرے گالوں کے مقابل دل میں حسرت رہ گئی ایک دن تو ہم شفق کا رنگ گہرا دیکھتے سارے چہرے دیکھ ڈالے ساری دنیا چھان لی جستجو اب تک یہی ہے کوئی تم سا دیکھتے سارے لمحے یاد آتے جو گزارے تیرے ساتھ جنگلوں میں آگ کو جب ہم دہکتا دیکھتے کیا پتا سینہ جلا دیتی ہمارا غم کی آگ ہم جو اپنی طرح آزرؔ اس کو تنہا دیکھتے
muntazir aankhon mein jamtaa khuun kaa dariyaa dekhte
عجیب جنبش لب ہے خطاب بھی نہ کرے سوال کر کے مجھے لا جواب بھی نہ کرے وہ میرے قرب میں دوری کی چاشنی رکھے مرے لیے مرا جینا عذاب بھی نہ کرے کبھی کبھی مجھے سیراب کر کے خوش کر دے ہمیشہ گمرہ سحر سراب بھی نہ کرے عجیب برزخ الفت میں مجھ کو رکھا ہے کہ وہ خفا بھی رہے اور عتاب بھی نہ کرے وہ انتظار دکھائے اس احتیاط کے ساتھ کہ میری آنکھوں کو محروم خواب بھی نہ کرے وہ رات بھر کچھ اس انداز سے کرے باتیں مجھے جگائے بھی نیندیں خراب بھی نہ کرے ہر ایک شعر میں آزرؔ نقوش ہیں اس کے مگر وہ خود کو کبھی بے نقاب بھی نہ کرے
'ajib jumbish-e-lab hai khitaab bhi na kare
معلوم ہے وہ مجھ سے خفا ہے بھی نہیں بھی میرے لیے ہونٹوں پہ دعا ہے بھی نہیں بھی مدت ہوئی اس راہ سے گزرے ہوئے اس کو آنکھوں میں وہ نقش کف پا ہے بھی نہیں بھی منہ کھول کے بولا نہیں جاتا کہ شفا دے اس پاس مرے دل کی دوا ہے بھی نہیں بھی کہتے تھے کبھی ہم کہ خدا ہے تو کہاں ہے اب سوچ رہے ہیں کہ خدا ہے بھی نہیں بھی رکھے بھی نظر بزم میں دیکھے بھی نہیں وہ اوروں سے یہ انداز جدا ہے بھی نہیں بھی گو زیست ہے مٹتی ہوئی سانسوں کا تسلسل قسطوں میں یہ جینے کی سزا ہے بھی نہیں بھی یا دل میں کبھی یا کبھی سڑکوں پہ ملیں گے ہم خانہ خرابوں کا پتا ہے بھی نہیں بھی ہم سے جو بنا سب کے لیے ہم نے کیا ہے معلوم ہے نیکی کا صلہ ہے بھی نہیں بھی وہ موم بھی ہے میرے لیے سنگ بھی آزرؔ کہتے ہیں کہ اس دل میں وفا ہے بھی نہیں بھی
maalum hai vo mujh se khafaa hai bhi nahin bhi





