SHAWORDS
Raza Azimabadi

Raza Azimabadi

Raza Azimabadi

Raza Azimabadi

poet
27Sher
27Shayari
5Ghazal

Sherشعر

See all 27

Popular Sher & Shayari

54 total

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

ham mar gae pa shikve ki munh par na aai baat

ہم مر گئے پہ شکوے کی منہ پر نہ آئی بات کیوں بے زبان عاشقوں کی آزمائی بات دعوئ عشق کرنے کا کیا منہ کسی کا تھا کم بولنے نے تیرے یہ ساری بڑھائی بات ہم پیشگی کی مجھ سے کرے گفتگو رقیب منہ اس کا دیکھو ہے یہ تمہاری سکھائی بات سب کچھ پڑھایا ہم کو مدرس نے عشق کے ملتا ہے جس سے یار نہ ایسی پڑھائی بات اپنا کسے کہوں نہ کہوں کس کو ہے غضب جس وقت منہ سے نکلی ہوئی پھر پرائی بات کیا غیر نے کہا کہ لگے بدبدانے تم میں نے بھی چھیڑنے کی نئی اب تو پائی بات مذکورہ کل کا جانے دو ہو جاؤ گے خفا تھمتی نہیں زبان پہ جس وقت آئی بات مجنوں کے نام سے مرا حال اس نے تب سنا شکر خدا کہ خوب بن آئی بنائی بات بلبل کا نالہ آگے مرے اس طرح سے ہے جس طرح شہریوں سے کرے روستائی بات تقریر صاف پر جو رضاؔ کی کرے نظر اندھے کے تئیں عجب نہیں دیوے دکھائی بات

غزل · Ghazal

abr hai abr hai sharaab sharaab

ابر ہے ابر ہے شراب شراب ساقیا ساقیا شتاب شتاب نامہ لکھتا ہوں اور کہے ہے شوق قاصدا قاصدا جواب جواب یار بن اپنی زندگی اے خضر موت ہے موت ہے عذاب عذاب یہ رضاؔ نے غزل کہی اس کا شاعراں شاعراں جواب جواب

غزل · Ghazal

mujh ko jo kahte ho myaan tum ho kahaan tum ho kahaan

مجھ کو جو کہتے ہو میاں تم ہو کہاں تم ہو کہاں دل کہاں ہے پاس میرے میری جاں تم ہو کہاں وہ گلی ہے یا پری خانہ ہے یا فردوس ہے سچ کہو اے ہمدمو میں ہوں کہاں تم ہو کہاں اپنے سے اپنا نہ ہو کام اوروں سے رکھیے امید کیا وصیت کرتے ہو اے دوستاں تم ہو کہاں گل کھلیں گے بار بار اور آئے گی ہر پھر بہار ہے ہمیشہ سیر گل زار جہاں تم ہو کہاں جب جوانی گئی رہا کیا آنا جانا سب گیا آؤ جانے دو وو باتیں اے میاں تم ہو کہاں دیکھنے کا چاؤ یہ عینک اترتی ہی نہیں دیکھو تم اپنی طرف اے مہرباں تم ہو کہاں پوچھتے ہیں حال تو منہ دیکھ رہتے ہو رضاؔ دل کہیں اور ہی ہے سنتے ہو میاں تم ہو کہاں

غزل · Ghazal

maut bhi aati nahin hijr ke bimaaron ko

موت بھی آتی نہیں ہجر کے بیماروں کو کیا مصیبت ہے ذرا دیکھنا بیچاروں کو نالۂ دل نے ہمارے تو اثر کم نہ کیا اور معذوری زیادہ ہوئی دل داروں کو گو ہیں جنت میں مزے لیک نہیں بھولنے کا ہونٹ کا چاٹنا تجھ لب کے نمک خواروں کو اس سے بہتر نہیں کوئی چیز سوا بوسے کے رونمائی میں جو دیویں ترے رخساروں کو کبھی رونا کبھی سر دھنا کبھی چپ رہنا کام کرنے ہیں بہت سے ترے بے کاروں کو میں نے کاغذ تری تصویر کا عیسیٰ کو دیا نسخہ جوں دیتے ہیں بیمار سب عطاروں کو پتھروں ہی پہ تجلی ہے تو ہم غیرت سے آنکھوں ہی میں لیے مر جائیں گے نظاروں کو سب نمونہ ہے حقیقت کا جہاں تک ہے مجاز ناس جو کرتے ہیں گلزاروں کی دیواروں کو یہ غزل خدمت نواب کی ہے میر رضاؔ اور اک دوسری کہہ دیجئے ہم کاروں کو

غزل · Ghazal

main hi nahin huun barham us zulf-e-kaj-adaa se

میں ہی نہیں ہوں برہم اس زلف کج ادا سے ٹک منہ ترا جو پائیں الجھیں ابھی ہوا سے تم نے نکالنے میں کچھ کم نہ کیں جفائیں اب تک جو تھم رہے ہیں ہم اپنی ہی وفا سے پہلی نگہ میں دل پر برچھی سی لگ گئی ہے پہنچے تھے انتہا کو ہم اس کی ابتدا سے رکھنا قدم زمیں پر ٹک دیکھ کر پیارے دل راہ میں پڑے ہیں لاکھوں کے نقش پا سے جا اے طبیب یاں سے اتنا نہیں سمجھتا بیماریٔ محبت کس کی گئی دوا سے میں عاشق بلا ہوں کرتا ہوں اس کو سجدہ خاک قدم کو اس کی جو آؤ کربلا سے مشہور تھی بزرگی ان کی سبھوں سے لیکن اپنے تئیں تعارف چنداں نہ تھا ضیا سے اکثر گلی سے اس کی دیکھا تھا میں نے جاتے ہو گئے تھے اس سبب سے کچھ صورت آشنا سے کل ان کو میں نے دیکھا سر ننگے پا برہنہ جامہ جو ہے گلی میں سو ٹکڑے جا بہ جا سے در پردہ یوں میں ان سے پوچھا کہ قبلۂ من کیوں آج اس قدر ہیں آزردہ و خفا سے محجوب سے وہ ہو کر کہنے لگے نہ پوچھو مر جائیں یا الٰہی چھوٹیں کہیں بلا سے یہ طرفہ ماجرا ہے اک جا پہ دل دیا ہے پر قہر ہیں وہاں کے لونڈے ذرا ذرا سے اتنی سی عمر میں یہ عیاریاں ہیں کرتے لیتے ہیں دل کو پہلے دے دے بہت دلاسے جب دیکھتے ہیں آیا اب اختیار میں دل جو دیکھیو تو پھر پیش آتے ہیں اس ادا سے میں نے کہا کہ حضرت آپ اپنی طرف دیکھیں جو ان بتوں سے ہوگا سو ہوگا وہ خدا سے بے اختیار ہو کر بولے کہ سچ ہے صاحب واقف نہیں ہوئے ہو عشق ہوس فزا سے دریا کے رہنے والے کیا جانیں اس اثر کو پانی کی قدر پوچھو ان سے جو ہیں پیاسے

Similar Poets