SHAWORDS
Roohi Kanjahi

Roohi Kanjahi

Roohi Kanjahi

Roohi Kanjahi

poet
5Sher
5Shayari
8Ghazal

Sherشعر

Popular Sher & Shayari

10 total

Ghazalغزل

See all 8
غزل · Ghazal

to mil bhi jaae to phir bhi tujhe talaash karun

تو مل بھی جائے تو پھر بھی تجھے تلاش کروں ہر ایک دور میں تخلیق ارتعاش کروں میں فاش ہو ہی چکا ہوں تو کیا ضروری ہے؟ کہ اپنے ساتھ تجھے بھی جہاں میں فاش کروں سراغ زیست ملے ریزہ ریزہ انساں کو بتان عصر کو کچھ ایسے پاش پاش کروں زمیں نے قرض دیا مجھ کو رزق کی صورت مروں تو کیوں نہ سپرد اس کے اپنی لاش کروں مجھے نجات ملے تیرہ کاریوں سے کاش میں نور اگاؤں یہاں روشنی معاش کروں مری بقا کا تقاضا ہے جب بھی رت بدلے میں جمع از سر نو اپنی قاش قاش کروں جدید دور میں رہتے ہوئے بھی اے روحیؔ ہے آرزو کہ نہ ترک اپنی بود و باش کروں

غزل · Ghazal

ye kis hasin ne logon ko rok rakkhaa hai

یہ کس حسین نے لوگوں کو روک رکھا ہے تمام شہر کے رستوں کو روک رکھا ہے نکل پڑیں نہ کہیں پانے اپنی تعبیریں اسی لیے سبھی خوابوں کو روک رکھا ہے وہ کہہ رہے ہیں کہو دل کی بات بات مگر نہ جانے کیوں کئی باتوں کو روک رکھا ہے دلیلیں دینے کو دے سکتے ہیں ہزار مگر سبھی حوالوں جوازوں کو روک رکھا ہے ابھی حیات کے گوشے چھپے ہوئے ہیں بہت کسی نے کیوں سبھی رنگوں کو روک رکھا ہے نہ اپنے آپ میں ہو جائے غرق دریا بھی زمیں نے کیسے کناروں کو روک رکھا ہے نہ راز فاش کبھی ہوں زمین والوں کے فلک نے چاند ستاروں کو روک رکھا ہے تمام لوگ ہی پاگل نہ ہو کے رہ جائیں نمائشوں سے حسینوں کو روک رکھا ہے تمام شہر کو روشن نہ ہونے دیں گے کبھی ہمارے سینوں کی آگوں کو روک رکھا ہے دیے بجھاتی بھی ہیں تو جلاتی بھی ہیں یہی یہ کس نے تند ہواؤں کو روک رکھا ہے نہ کام کرنے کے کرتے نہ کرنے دیتے ہیں ہمارے خواصوں نے عاموں کو روک رکھا ہے ہماری راہنمائی کو رستے کافی تھے پہ ظلمتوں نے بھی رستوں کو روک رکھا ہے کسی کسی کو ہے حق زندہ رہنے کا حاصل دکھوں نے لوگوں کی سانسوں کو روک رکھا ہے بھلے زمانے کی امید پر ابھی روحیؔ بہت ضروری بھی کاموں کو روک رکھا ہے

غزل · Ghazal

hazaar rang jalaal-o-jamaal ke dekhe

ہزار رنگ جلال و جمال کے دیکھے وہ معرکے ترے حسن خیال کے دیکھے سمجھ میں آنے لگا مقصد حیات و ممات وہ زاویے ترے ہجر و وصال کے دیکھے ہر ایک غم ہے تر و تازہ پہلے دن کی طرح امانتیں کوئی یوں بھی سنبھال کے دیکھے فضا نہ بجھنے لگے اس خیال سے اکثر دل و نگاہ کے رستے اجال کے دیکھے نگر بھی اور کھنڈر بھی نظر میں رہتے ہیں عجیب دور عروج و زوال کے دیکھے کہ رشک آنے لگا اپنی بے کمالی پر کمال ایسے بھی اہل کمال کے دیکھے نہ چشم اشارے سے واقف نہ لب کا حرف سے ربط کچھ ایسے سلسلے بھی قیل و قال کے دیکھے زمیں زمیں نہ رہی اور فلک فلک نہ رہا کچھ ایسے مرحلے بھی عرض حال کے دیکھے کوئی صدی بھی ہے پل اور کوئی پل بھی صدی کچھ ایسے فاصلے بھی ماہ و سال کے دیکھے ہوئی زمین کبھی راکھ تو کبھی غرقاب کچھ ایسے حوصلے بھی برشگال کے دیکھے عجیب شرط ہے ان منظروں کی اے روحیؔ کہ اپنی آنکھیں کوئی خود نکال کے دیکھے

غزل · Ghazal

kis liye phirtaa huun tanhaa na kisi ne puchhaa

کس لیے پھرتا ہوں تنہا نہ کسی نے پوچھا کیوں کہیں جی نہیں لگتا نہ کسی نے پوچھا ذہن آوارہ دل آوارہ نظر آوارہ کیسے اس حال کو پہنچا نہ کسی نے پوچھا کون ہے آیا ہے کس دیس سے کس سے ملنے سب نے دیکھا مگر اتنا نہ کسی نے پوچھا جانے کیا کہتے اگر پوچھتا احوال کوئی خیر یہ بھی ہوا اچھا نہ کسی نے پوچھا بے تعلق ہوئے روحیؔ عجب انداز سے لوگ کس پہ کیا حادثہ گزرا نہ کسی نے پوچھا

غزل · Ghazal

ye silsila-e-shaam-o-sahar yunhi nahin hai

یہ سلسلۂ شام و سحر یوں ہی نہیں ہے ہر قافلہ سرگرم سفر یوں ہی نہیں ہے ہنگامے بپا کرتی ہے ہر آن تری یاد پر شور دل و جاں کا نگر یوں ہی نہیں ہے تاریخ سنا سکتی ہے صدیوں کے سفر کی یہ گرد سر راہ گزر یوں ہی نہیں ہے ابھرے گا یقیناً کوئی دم میں کوئی سورج بیتابیٔ ارباب نظر یوں ہی نہیں ہے منزل بھی کوئی خاص ملے گی ہمیں روحیؔ دشوار سے دشوار سفر یوں ہی نہیں ہے

غزل · Ghazal

zaalim pe azaab ho gayaa huun

ظالم پہ عذاب ہو گیا ہوں میں روز حساب ہو گیا ہوں ہر لفظ مرا ہے ایک گھاؤ زخموں کی کتاب ہو گیا ہوں میں خود میں سمٹ کے تھا سمندر پھیلا تو حباب ہو گیا ہوں خود اپنی تلاش کر رہا تھا دیکھا تو سراب ہو گیا ہوں یوں اٹھ گیا اعتبار ہستی میں خود کوئی خواب ہو گیا ہوں مٹی ہوئی یوں خراب میری صحرا کا جواب ہو گیا ہوں

Similar Poets