"vo tavajjoh de na de lekin sada dete raho apne hone ka use 'ruhi' pata dete raho"

Roohi Kanjahi
Roohi Kanjahi
Roohi Kanjahi
Sherشعر
vo tavajjoh de na de lekin sada dete raho
وہ توجہ دے نہ دے لیکن صدا دیتے رہو اپنے ہونے کا اسے روحیؔ پتا دیتے رہو
pata hota to na karta kabhi koi neki
پتہ ہوتا تو نہ کرتا کبھی کوئی نیکی تمہیں جنت میں ملو گی مجھے معلوم نہ تھا
hamari biivi aur mahnga.i donon hain sagi bahnen
ہماری بیوی اور مہنگائی دونوں ہیں سگی بہنیں ہماری جیب کی اکثر صفائی ہوتی رہتی ہے
kaha laDke ki ammi ne rahegi khush sada beTi
کہا لڑکے کی امی نے رہے گی خوش سدا بیٹی کہ اوپر سے بھی لڑکے کی کمائی ہوتی رہتی ہے
sakht-jani men bhi niklogi misali ya.ani
سخت جانی میں بھی نکلو گی مثالی یعنی مار کر مجھ کو مرو گی مجھے معلوم نہ تھا
Popular Sher & Shayari
10 total"pata hota to na karta kabhi koi neki tumhin jannat men milogi mujhe ma.alum na tha"
"hamari biivi aur mahnga.i donon hain sagi bahnen hamari jeb ki aksar safa.i hoti rahti hai"
"kaha laDke ki ammi ne rahegi khush sada beTi ki uupar se bhi laDke ki kama.i hoti rahti hai"
"sakht-jani men bhi niklogi misali ya.ani maar kar mujh ko marogi mujhe ma.alum na tha"
vo tavajjoh de na de lekin sadaa dete raho
apne hone kaa use 'ruhi' pataa dete raho
pata hotaa to na kartaa kabhi koi neki
tumhin jannat mein milogi mujhe maalum na thaa
kahaa laDke ki ammi ne rahegi khush sadaa beTi
ki uupar se bhi laDke ki kamaai hoti rahti hai
sakht-jaani mein bhi niklogi misaali yaani
maar kar mujh ko marogi mujhe maalum na thaa
hamaari biivi aur mahngaai donon hain sagi bahnein
hamaari jeb ki aksar safaai hoti rahti hai
Ghazalغزل
to mil bhi jaae to phir bhi tujhe talaash karun
تو مل بھی جائے تو پھر بھی تجھے تلاش کروں ہر ایک دور میں تخلیق ارتعاش کروں میں فاش ہو ہی چکا ہوں تو کیا ضروری ہے؟ کہ اپنے ساتھ تجھے بھی جہاں میں فاش کروں سراغ زیست ملے ریزہ ریزہ انساں کو بتان عصر کو کچھ ایسے پاش پاش کروں زمیں نے قرض دیا مجھ کو رزق کی صورت مروں تو کیوں نہ سپرد اس کے اپنی لاش کروں مجھے نجات ملے تیرہ کاریوں سے کاش میں نور اگاؤں یہاں روشنی معاش کروں مری بقا کا تقاضا ہے جب بھی رت بدلے میں جمع از سر نو اپنی قاش قاش کروں جدید دور میں رہتے ہوئے بھی اے روحیؔ ہے آرزو کہ نہ ترک اپنی بود و باش کروں
ye kis hasin ne logon ko rok rakkhaa hai
یہ کس حسین نے لوگوں کو روک رکھا ہے تمام شہر کے رستوں کو روک رکھا ہے نکل پڑیں نہ کہیں پانے اپنی تعبیریں اسی لیے سبھی خوابوں کو روک رکھا ہے وہ کہہ رہے ہیں کہو دل کی بات بات مگر نہ جانے کیوں کئی باتوں کو روک رکھا ہے دلیلیں دینے کو دے سکتے ہیں ہزار مگر سبھی حوالوں جوازوں کو روک رکھا ہے ابھی حیات کے گوشے چھپے ہوئے ہیں بہت کسی نے کیوں سبھی رنگوں کو روک رکھا ہے نہ اپنے آپ میں ہو جائے غرق دریا بھی زمیں نے کیسے کناروں کو روک رکھا ہے نہ راز فاش کبھی ہوں زمین والوں کے فلک نے چاند ستاروں کو روک رکھا ہے تمام لوگ ہی پاگل نہ ہو کے رہ جائیں نمائشوں سے حسینوں کو روک رکھا ہے تمام شہر کو روشن نہ ہونے دیں گے کبھی ہمارے سینوں کی آگوں کو روک رکھا ہے دیے بجھاتی بھی ہیں تو جلاتی بھی ہیں یہی یہ کس نے تند ہواؤں کو روک رکھا ہے نہ کام کرنے کے کرتے نہ کرنے دیتے ہیں ہمارے خواصوں نے عاموں کو روک رکھا ہے ہماری راہنمائی کو رستے کافی تھے پہ ظلمتوں نے بھی رستوں کو روک رکھا ہے کسی کسی کو ہے حق زندہ رہنے کا حاصل دکھوں نے لوگوں کی سانسوں کو روک رکھا ہے بھلے زمانے کی امید پر ابھی روحیؔ بہت ضروری بھی کاموں کو روک رکھا ہے
hazaar rang jalaal-o-jamaal ke dekhe
ہزار رنگ جلال و جمال کے دیکھے وہ معرکے ترے حسن خیال کے دیکھے سمجھ میں آنے لگا مقصد حیات و ممات وہ زاویے ترے ہجر و وصال کے دیکھے ہر ایک غم ہے تر و تازہ پہلے دن کی طرح امانتیں کوئی یوں بھی سنبھال کے دیکھے فضا نہ بجھنے لگے اس خیال سے اکثر دل و نگاہ کے رستے اجال کے دیکھے نگر بھی اور کھنڈر بھی نظر میں رہتے ہیں عجیب دور عروج و زوال کے دیکھے کہ رشک آنے لگا اپنی بے کمالی پر کمال ایسے بھی اہل کمال کے دیکھے نہ چشم اشارے سے واقف نہ لب کا حرف سے ربط کچھ ایسے سلسلے بھی قیل و قال کے دیکھے زمیں زمیں نہ رہی اور فلک فلک نہ رہا کچھ ایسے مرحلے بھی عرض حال کے دیکھے کوئی صدی بھی ہے پل اور کوئی پل بھی صدی کچھ ایسے فاصلے بھی ماہ و سال کے دیکھے ہوئی زمین کبھی راکھ تو کبھی غرقاب کچھ ایسے حوصلے بھی برشگال کے دیکھے عجیب شرط ہے ان منظروں کی اے روحیؔ کہ اپنی آنکھیں کوئی خود نکال کے دیکھے
kis liye phirtaa huun tanhaa na kisi ne puchhaa
کس لیے پھرتا ہوں تنہا نہ کسی نے پوچھا کیوں کہیں جی نہیں لگتا نہ کسی نے پوچھا ذہن آوارہ دل آوارہ نظر آوارہ کیسے اس حال کو پہنچا نہ کسی نے پوچھا کون ہے آیا ہے کس دیس سے کس سے ملنے سب نے دیکھا مگر اتنا نہ کسی نے پوچھا جانے کیا کہتے اگر پوچھتا احوال کوئی خیر یہ بھی ہوا اچھا نہ کسی نے پوچھا بے تعلق ہوئے روحیؔ عجب انداز سے لوگ کس پہ کیا حادثہ گزرا نہ کسی نے پوچھا
ye silsila-e-shaam-o-sahar yunhi nahin hai
یہ سلسلۂ شام و سحر یوں ہی نہیں ہے ہر قافلہ سرگرم سفر یوں ہی نہیں ہے ہنگامے بپا کرتی ہے ہر آن تری یاد پر شور دل و جاں کا نگر یوں ہی نہیں ہے تاریخ سنا سکتی ہے صدیوں کے سفر کی یہ گرد سر راہ گزر یوں ہی نہیں ہے ابھرے گا یقیناً کوئی دم میں کوئی سورج بیتابیٔ ارباب نظر یوں ہی نہیں ہے منزل بھی کوئی خاص ملے گی ہمیں روحیؔ دشوار سے دشوار سفر یوں ہی نہیں ہے
zaalim pe azaab ho gayaa huun
ظالم پہ عذاب ہو گیا ہوں میں روز حساب ہو گیا ہوں ہر لفظ مرا ہے ایک گھاؤ زخموں کی کتاب ہو گیا ہوں میں خود میں سمٹ کے تھا سمندر پھیلا تو حباب ہو گیا ہوں خود اپنی تلاش کر رہا تھا دیکھا تو سراب ہو گیا ہوں یوں اٹھ گیا اعتبار ہستی میں خود کوئی خواب ہو گیا ہوں مٹی ہوئی یوں خراب میری صحرا کا جواب ہو گیا ہوں





