SHAWORDS
Saif Zulfi

Saif Zulfi

Saif Zulfi

Saif Zulfi

poet
3Sher
3Shayari
5Ghazal

Sherشعر

Popular Sher & Shayari

6 total

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

ashkon mein qalam Dubo rahaa hai

اشکوں میں قلم ڈبو رہا ہے فن کار جوان ہو رہا ہے مقتل کے دکھا رہا ہے منظر کاغذ کو لہو سے دھو رہا ہے ظالم کو سکھا رہا ہے انصاف پتھر میں درخت بو رہا ہے پربت سے لڑا رہا ہے آنکھیں مٹی سے طلوع ہو رہا ہے ہاری ہوئی رات کا سویرا غنچوں کی جبیں بھگو رہا ہے ذرے کو بنا کے ایک قوت خود اپنا مقام کھو رہا ہے لوہے کو اجل کی دھار دے کر خود اس کا شکار ہو رہا ہے محلوں میں نہیں کسی کو آرام فٹ پاتھ پہ کوئی سو رہا ہے چھوتا نہیں ڈر سے پھول کوئی کانٹوں کو کوئی پرو رہا ہے خنداں ہیں گلی گلی ستارے گھر گھر کا چراغ رو رہا ہے سینے میں کوئی خیال زلفیؔ سوئیاں سی چبھو چبھو رہا ہے

غزل · Ghazal

mahkaa hai zakhm zakhm havaaein hain manchali

مہکا ہے زخم زخم ہوائیں ہیں منچلی برسا ہے تیری یاد کا ساون گلی گلی دیوار و در تو راہ میں حائل نہ ہو سکے آگے بڑھوں تو پاؤں پکڑتی ہے بیکلی اک ماہتاب تھا کہ پگھلتا چلا گیا اک شمع تھی کہ ساتھ مرے رات بھر جلی وہ روشنی جو تو نے ہمیں دی تھی دن ڈھلے وہ روشنی بھی ہم نے لٹا دی گلی گلی یہ اور بات ہم ہی اجالوں سے دور ہیں ورنہ ہمیں نے تیری جبیں پر شفق ملی سائے کا اک نقاب سا رخ پر بکھر گیا یارو سحر جو اس کے گریبان سے ڈھلی شعلہ فشاں ہے شدت ادراک سے بدن اک کرب کے الاؤ سے دیوانگی بھلی لو دے اٹھی ہیں بیتے دنوں کی رفاقتیں بجھتے شرر بھی آگ بنے وہ ہوا چلی

غزل · Ghazal

dil ke shajar ko khuun se gulnaar dekh kar

دل کے شجر کو خون سے گلنار دیکھ کر خوش ہوں نئی بہار کے آثار دیکھ کر صحرا بھلے کہ ذہن کو کچھ تو سکوں ملے گھبرا گیا ہوں شہر کے بازار دیکھ کر آگے بڑھے تو تیرگیٔ شب نے آ لیا نکلے تھے گھر سے صبح کے آثار دیکھ کر آنسو گرے تو دل کی زمیں اور جل اٹھی برسا ہے ابر خاک کا معیار دیکھ کر سارے جہاں کو حلقۂ ماتم سمجھ لیا اپنا وجود نقطۂ پرکار دیکھ کر اوروں کو تو نے دولت کونین بانٹ دی غم مجھ کو دے دیا ہے سزاوار دیکھ کر بیٹھے تو آنچ دینے لگی پیپلوں کی چھاؤں آئے تھے لوگ سایۂ اشجار دیکھ کر جس طرح کوئی بچھڑا ہوا دوست مل گیا ہم مسکرا دیئے رسن و دار دیکھ کر بیٹھا ہوں اپنے فکر کے سائے میں دیر سے ہر آشنا کو ان کا طرفدار دیکھ کر زلفیؔ دکھوں کی دھوپ میں جلتے ہوئے بدن بادل گزر گیا ہے کئی بار دیکھ کر

غزل · Ghazal

siine ki aag aatish-e-mahshar ho jis tarah

سینے کی آگ آتش محشر ہو جس طرح یوں موجزن ہے غم کہ سمندر ہو جس طرح زخموں سے یوں ہے جسم کی دیوار ضو فگن شعلوں کا رقص شاخ شجر پر ہو جس طرح بادل کا شور ہانپتے پیڑوں کی بے بسی یوں دیکھتا ہوں میرے ہی اندر ہو جس طرح اڑتے ہوئے غبار میں آنکھوں کا دشت بھی کچھ یوں لگا کہ خشک سمندر ہو جس طرح بستی کے ایک موڑ پہ برسوں سے اک کھنڈر یوں نوحہ گر ہے میرا مقدر ہو جس طرح ویرانیوں کا کس سے گلا کیجیے کہ دل اتنا اداس ہے کہ لٹا گھر ہو جس طرح سکھ کی اگی نہ دھوپ نہ دکھ کی مٹی لکیر یوں ہے مرا نصیب کہ پتھر ہو جس طرح احساس میں شدید تلاطم کے باوجود چپ ہوں مجھے سکون میسر ہو جس طرح یوں حسرتوں کے خوں کی مہک میں بسا ہے دل مہندی رچا وہ ہات معطر ہو جس طرح پیاسا ہوں پاس ہے وہ چمکتا ہوا بدن یوں ہات کانپتا ہے کوئی ڈر ہو جس طرح پتھر نہ جان تجھ کو دکھاؤں گا آب و تاب یوں قید ہوں کہ سیپ میں گوہر ہو جس طرح زلفیؔ کو کھینچو! دار پہ دیوار میں چنو سچ بولتا ہے یوں کہ پیمبر ہو جس طرح

غزل · Ghazal

oDhi ridaa-e-dard bhi haalaat ki tarah

اوڑھی ردائے درد بھی حالات کی طرح تاریکیوں میں ڈوب گئے رات کی طرح شیوہ نہیں کہ شعلۂ غم سے کریں گریز ہر زخم ہے قبول نئی بات کی طرح نیند آ رہی ہے کرب کی آغوش میں مجھے سینے پہ دست غم ہے ترے ہات کی طرح میں اپنے آپ سے کبھی باہر نہ آ سکا الجھا رہا ہوں خود میں خیالات کی طرح حیران ہوں کہ خود کو بھی پہچانتا نہیں جذبے بدل رہے ہیں رسومات کی طرح وہ دوڑ ہے کہ اپنی ہوا بھی نہ چھو سکوں اڑتی ہے میری فکر بھی لمحات کی طرح کیا گل کھلائے میری اداسی کی لہر نے ذہنوں کے ریگ زار میں برسات کی طرح کیا بستیوں کا ذکر کہ احساس کی تپش جنگل جلا گئی مرے جذبات کی طرح کیا خوب آشنا ہیں کہ پہچانتے نہیں جب بھی ملے تو پہلی ملاقات کی طرح دنیا کا درد اپنے دکھوں میں سمیٹ کر محسوس کر رہا ہوں غم ذات کی طرح احباب کس خلوص سے زلفیؔ مری غزل رکھتے ہیں دل کے طاق میں سوغات کی طرح

Similar Poets