"sha.eri chaa.e tiri yaad chamakte jugnu bas yahi chaar talab roz miri shaam ke hain"

Sanju Shabdita
Sanju Shabdita
Sanju Shabdita
Sherشعر
Popular Sher & Shayari
2 totalshaaeri chaae tiri yaad chamakte jugnu
bas yahi chaar talab roz miri shaam ke hain
Ghazalغزل
saaraa qusur us kaa hai kahtaa thaa jaan-e-jaan
سارا قصور اس کا ہے کہتا تھا جان جاں بولا تمہیں بھی عشق ہے تو ہم نے کہہ دی ہاں توبہ تمہاری بزم سے اے عشق نامراد آنے کا راستا تو ہے جانے کا در کہاں ہم نے جلا دئے تھے کہانی کے سب ورق بجھ تو گئی وہ آگ پہ اڑتا رہا دھواں تھوڑی سی دیر خود کو سمجھنے میں کیا ہوئی تا عمر اپنے ہونے کا ہوتا رہا گماں تم بھی کمال کرتی ہو سنجوؔ کبھی کبھی اس نے کہا کہ جان دو اور تم نے دے دی جاں
yuun to duniyaa bhi mujhe raas kahaan aai hai
یوں تو دنیا بھی مجھے راس کہاں آئی ہے بزم میں آتے ہی لگتا ہے کہ تنہائی ہے سچ تو یہ ہے کہ مجھے راس نہیں آتا کچھ میری عادت سے مری زندگی اکتائی ہے ذہن میں نام نہیں چہرہ نہیں ہے کوئی آج اک روح کو اک روح کی یاد آئی ہے وہ ملاقات مری جان کچھ اک پل کی سہی اس کی تصویر بڑے فریم میں بنوائی ہے میں غزل کہتے ہوئے چاند تلک ہو آئی آسماں میں بھی مری سب سے شناسائی ہے
aib auron mein gin rahaa hai vo
عیب اوروں میں گن رہا ہے وہ اس کو لگتا ہے یوں خدا ہے وہ میری تدبیر کو کنارے رکھ میری تقدیر لکھ رہا ہے وہ میں نے مانگا تھا اس سے حق اپنا بس اسی بات پر خفا ہے وہ پتھروں کے نگر میں زندہ ہے لوگ کہتے ہیں آئنہ ہے وہ اس کی وہ خامشی بتاتی ہے میرے دشمن سے جا ملا ہے وہ
ik us ke dar ke sivaa aur main kidhar jaati
اک اس کے در کے سوا اور میں کدھر جاتی اسے پکارتے یہ زندگی گزر جاتی مجھے لگا تھا وہ میرے بغیر مر جاتا اسے لگا تھا میں اس کے بغیر مر جاتی مجھے تو عشق بھی پیارا تھا اور دنیا بھی جدا تھے راستے دونوں کے میں کدھر جاتی ہزاروں عیب ہیں مجھ میں مگر سنو تو سہی تمہارے پیار کی شدت میں میں سنور جاتی





