vaise kyaa ghaTiyaa si shai hai ye tamannaa kaa fareb
aap jaison ko bhi ham jaise taras jaate hain

Shabbir Hasan
Shabbir Hasan
Shabbir Hasan
Popular Shayari
2 totaltumhein to Thiik se barbaad karnaa bhi nahin aataa
chalo pichhe haTo apni ye haalat main banaataa huun
Ghazalغزل
تیرے کیا اپنے بھی کچھ کام نہ آئے ہم لوگ کچھ نہ کچھ تو نے بنانا تھا بنائے ہم لوگ کوہساروں پہ قدم رکھ کے یہ پھل توڑا ہے عجز مٹی سے اٹھا کر نہیں لائے ہم لوگ پھر پلٹ آئیں گے تسبیح کے دانوں کی طرح دست دنیا تری پوروں سے گرائے ہم لوگ کھینچ کر لائے ہیں در سے ترے مجرم کی طرح دل کو باتوں میں لگا کر نہیں لائے ہم لوگ باعث شرم ہے اے دوست نمود گریہ پونچھ کر اشک ترے خواب میں آئے ہم لوگ
tere kyaa apne bhi kuchh kaam na aae ham log
1 views
ملبہ ہٹا کے آنکھ کی کرچی اٹھائی تھی دیوار خواب نیند نے ترچھی اٹھائی تھی رد دعا کا نصف اثاثہ تمہارے نام تم نے بھی میرے ساتھ ہتھیلی اٹھائی تھی ہاتھوں کو دل نے خون کی ترسیل روک دی میں نے تمہاری یاد پہ انگلی اٹھائی تھی مجھ کو مرے ہی دوسرے بازو نے ڈس لیا شہر ہوس سے سونے کی ڈھیلی اٹھائی تھی ہم جاگ تو رہے تھے مگر جانتے نہ تھے کب آسماں نے آنکھ سے سرخی اٹھائی تھی اک حرف بد دعا سے مرے ہاتھ اٹھ گئے اک شہر بے چراغ سے مٹی اٹھائی تھی کچھ اس لیے بھی اس کی نہیں دیکھ بھال کی ہم نے بدن کی کوٹھری گروی اٹھائی تھی
malba haTaa ke aankh ki kirchi uThaai thi
کہیں پہ چاند کہیں پر ستارا باندھنا ہے مجھے نظام یہ سارے کا سارا باندھنا ہے میں چاہتا ہوں کہ بندش میں میرا نام نہ ہو نظر بچا کے مجھے یہ نظارا باندھنا ہے ابھی زمیں سے مجھے اشک بھی اٹھانے ہیں ابھی نمک سے نظر کا خسارہ باندھنا ہے میں کچا دھاگا لئے چل رہا ہوں پانی پر اکہرے اسم سے دہرا کنارا باندھنا ہے ہماری ہمرہی خواہش نہیں ضرورت ہے بس اک سہارے سے دوجا سہارا باندھنا ہے
kahin pe chaand kahin par sitaaraa baandhnaa hai





