SHAWORDS
Wali Alam Shaheen

Wali Alam Shaheen

Wali Alam Shaheen

Wali Alam Shaheen

poet
1Sher
1Shayari
6Ghazal

Sherشعر

Popular Sher & Shayari

2 total

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

main khaamushi ke jazire mein ek patthar thaa

میں خامشی کے جزیرے میں ایک پتھر تھا مگر صداؤں کا ریلا مرا مقدر تھا نہ جانے کون تھا کس اجنبی سفر پر تھا وہ قافلے سے الگ قافلے کے اندر تھا تمام شہر کو اس کا پتہ ملا مجھ سے وہ آئنے میں تھا پر آئنے سے باہر تھا وہ جا رہا تھا سمندر کو جھیلنے کے لئے عرق عرق سر ساحل تمام منظر تھا کھلا تھا اس کے لئے قصر کا جنوبی در مگر وہاں کوئی اندر ہی تھا نہ باہر تھا وہ نرم ریت کے بستر پہ جا کے لیٹ گیا کھلی جو آنکھ تو چاروں طرف سمندر تھا گھرا ہوا تھا وہ بد نامیوں کے ہالے میں حسیں کچھ اور بھی شاہینؔ اس کا پیکر تھا

غزل · Ghazal

din chhoTaa hai raat baDi hai

دن چھوٹا ہے رات بڑی ہے مہلت کم اور شرط کڑی ہے اس کا اشارہ پا کر مر جا جینے کو اک عمر پڑی ہے بند نہیں سارے دروازے خیر سے بستی بہت بڑی ہے خوش ہیں مکیں اب دونوں طرف کے بیچ میں اک دیوار کھڑی ہے جاگ رہی ہے ساری بستی اور گلی سنسان پڑی ہے ہر پل چھوٹی ہوتی دنیا پہلے سے اب بہت بڑی ہے دل میں چبھن ہے ہاتھ میں لیکن نازک سی پھولوں کی چھڑی ہے صحرا کر دیا جس نے دل کو ساون کی یہ وہی جھڑی ہے جمع ہوئے سب دکھ کے مارے جنت کی بنیاد پڑی ہے ایک دیا ہے طاق میں شاہینؔ اور سرہانے رات کھڑی ہے

غزل · Ghazal

thi kuchh na khataa phir bhi pashemaan rahe hain

تھی کچھ نہ خطا پھر بھی پشیمان رہے ہیں کیا کیا غم حالات کے عنوان رہے ہیں خود جن کو نہ عرفان تھا تقدیس جنوں کا وہ بھی مری ہستی کے نگہبان رہے ہیں جن کو مری ہر بات پہ وحشت کا گماں تھا وہ میری خموشی کا برا مان رہے ہیں دلچسپ نظر آئی تھی یہ رسم و رہ دل پر جان کا اک روگ ہے اب جان رہے ہیں جو بھی ہے اسے تنگئ داماں کا گلا ہے ایک ایک کو ہم دور سے پہچان رہے ہیں

غزل · Ghazal

sach kaa lamha jab bhi naazil hotaa hai

سچ کا لمحہ جب بھی نازل ہوتا ہے کتنی الجھن میں اپنا دل ہوتا ہے میری خوشی کا بھید ہے بس یہ سب کا دکھ میرے اپنے دکھ میں شامل ہوتا ہے علم کی میرے یار سند پہچان نہیں بہت پڑھا لکھا بھی جاہل ہوتا ہے سیدزادے دل مانگو یا داد ہنر سائل تو ہر حال میں سائل ہوتا ہے بیت گئی جب عمر تو یہ معلوم ہوا ایک اشارہ عمر کا حاصل ہوتا ہے ایک ہنسی لاچاری کو کچھ اور بڑھائے ایک ہنسی سے دشمن گھائل ہوتا ہے اے مرے دل اے اچھے دل اے خانہ خراب تو کیوں ہر تکرار میں شامل ہوتا ہے سہہ لیں ہم دنیا کے ستم شاہینؔ مگر ضدی دل ہر آن مقابل ہوتا ہے

غزل · Ghazal

jab os buund buund giri saaebaan se

جب اوس بوند بوند گری سائبان سے خوشبو سی اک اڑی مرے کچے مکان سے تو ساحلوں پہ جس کا نشاں ڈھونڈھتا پھرا رشتہ تو اس نے جوڑ لیا بادبان سے نا قدرئ ہنر کی مجھے تاب ہی نہ تھی میں نے خود اپنی جنس اٹھا لی دکان سے تھی اس کی ہی لہو کی صدا جو پلٹ گئی اس نے تو جھانک کر بھی نہ دیکھا مکان سے بکھری ہوئی تھیں چاروں طرف نارسائیاں وہ پاٹنے چلا تھا خلا کو اڑان سے کیا کیا ہوئیں قبول دعائیں اس ایک شب پھر ایک پھول بھی نہ گرا آسمان سے گرمی میں ٹن کی چھت نے جلایا کچھ اور بھی جاڑے میں برف سر پہ گری سائبان سے ریزوں میں بٹ گیا ہوں میں شاہینؔ ہر طرف پہچان لے مجھے مرے بکھرے نشان سے

غزل · Ghazal

zindagi hai mukhtasar aahista chal

زندگی ہے مختصر آہستہ چل کٹ ہی جائے گا سفر آہستہ چل ایک اندھی دوڑ ہے کس کو خبر کون ہے کس راہ پر آہستہ چل دیدۂ حیراں کو اک منظر بہت یوں ہی نظارہ نہ کر آہستہ چل تیزگامی جس شکم کی آگ ہے اس سے بچنا ہے ہنر آہستہ چل جو تگ و دو سے تری حاصل ہوا رکھ کچھ اس کی بھی خبر آہستہ چل روز و شب یوں وقت کا دامن نہ کھینچ دو گھڑی آرام کر آہستہ چل

Similar Poets